پاکستان میں حالیہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جو عدلیہ کے اختیارات میں توازن پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ اصلاحات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عدلیہ کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں ہم دنیا کے چند بہترین انصاف پسند ممالک کی مثالیں پیش کریں گے جہاں چیف جسٹس کی تقرری کے طریقے قابل تقلید ہیں، ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی موجودہ آئینی ترامیم کا بھی تجزیہ کریں گے۔چھبیسویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔ اس عمل سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ صرف قابل اور تجربہ کار افراد ہی چیف جسٹس بنیں۔ چیف جسٹس کی مدت تین سال ہوگی، اور عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح کے اقدامات عدلیہ کی خودمختاری اور معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔مزید برآں آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس دینے کا اختیار آئینی بینچز کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح، سپریم کورٹ کی ہدایات کا دائرہ محدود کیا جائے گا، جس سے من پسند فیصلوں کا امکان کم ہو جائے گا۔
آئینی بینچز کی تشکیل میں کم از کم پانچ ججز شامل ہوں گے، جو عدالت کے فیصلوں میں توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔یہاں ہم اگردنیا کے دس بہترین انصاف پسند ممالک میں وہاں کے چیف جسٹس حضرات کی تعیناتی کا جائزہ لیں تو ہمیں بات مزید سمجھ آ جائے گی۔ ڈنمارک میں چیف جسٹس کی تقرری بادشاہ کی جانب سے وزیر انصاف کی سفارش پر کی جاتی ہے، جس میں جوڈیشل اپائنٹمنٹس کونسل شامل ہوتی ہے۔ ناروے میں چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار جوڈیشل اپوائنٹمنٹس بورڈ کے پاس ہوتا ہے، جو موزوں امیدواروں کی سفارش کرتا ہے۔ اس کے بعد بادشاہ کے مشورے سے حتمی تقرری کی جاتی ہے، جس سے عدلیہ میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔فن لینڈ میں صدر مملکت چیف جسٹس کی تقرری کرتے ہیں، اور یہ تقرری وزارت انصاف اور دیگر عدالتی اداروں کی مشاورت سے ہوتی ہے، جو کہ عدلیہ کی خودمختاری کو مضبوط کرتی ہے۔ سویڈن میں حکومت چیف جسٹس کی تقرری کرتی ہے لیکن اس عمل میں عدالتی ماہرین کی مشاورت ضروری ہوتی ہے۔ یہ شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جس سے انصاف کی فراہمی میں بہتری آتی ہے۔ہالینڈ میں سپریم کورٹ کے ججز، بشمول چیف جسٹس خود عدالت کے ذریعے نامزد کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد بادشاہ باضابطہ طور پر ان کی تقرری کرتا ہے۔ یہ طریقہ عدلیہ کی خودمختاری کو فروغ دیتا ہے اور عدالت کے اندرونی معاملات میں سیاسی مداخلت کو کم کرتا ہے۔
جرمنی میں چیف جسٹس کا انتخاب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، بنڈسٹاگ اور بنڈسرات، مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ یہ عمل دو تہائی اکثریتی ووٹ کے ذریعے مکمل ہوتا ہے، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ منتخب جج عوامی حمایت اور اعتماد کے حامل ہوں۔نیوزی لینڈ میں چیف جسٹس کی تقرری گورنر جنرل کی جانب سے وزیراعظم کی سفارش پر کی جاتی ہے۔ اس عمل میں سینئر عدالتی حکام اور وکلا کی مشاورت شامل ہوتی ہے، جو انصاف کی فراہمی کے معیار کو بلند کرتی ہے۔ آئرلینڈ میں چیف جسٹس کو صدر مملکت کی منظوری سے مقرر کیا جاتا ہے اور یہ تقرری وزیر اعظم اور دیگر حکومتی اہلکاروں کی مشاورت سے ہوتی ہے اس سے ایک توازن قائم رہتا ہے اور عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر نہیں ہونے دیا جاتا۔ایسٹونیا میں صدر مملکت چیف جسٹس کو نامزد کرتا ہے، اور پارلیمنٹ ان کی منظوری دیتی ہے۔ دیگر ججز کو بھی چیف جسٹس کی سفارش پر پارلیمنٹ مقرر کرتی ہے، جو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ عدلیہ میں مختلف نظریات کی نمائندگی ہو۔ سوئٹزرلینڈ میں چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، جہاں ججز کو سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ مختلف نظریات کی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے اور عدلیہ کے اندر توازن برقرار رکھتا ہے۔ان عالمی مثالوں سے یہ بات عیاں ہے عوامی فورمز سے تعینات ہونے والے چیف جسٹس صاحبان انصاف کی فراہمی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ اس میں شفافیت اور میرٹ کو مد نظر رکھا گیا ہوتا ہے۔
اصلاحات کا مقصد نہ صرف عدلیہ کی خودمختاری کو بڑھانا ہے بلکہ عوام کے اندر انصاف کے نظام پر اعتماد کو بحال کرنا بھی ہے۔ عوامی شمولیت اور جوابدہی کی بنیاد پر قائم عدلیہ کا نظام پاکستان میں عدلیہ کی بہتری کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو گا۔ نئی ترامیم کی روشنی میں ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک ججز تقرری کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف ججز کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ عدلیہ کی مجموعی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔یہ اصلاحات عدلیہ کی ماضی کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں، چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار خاصی تنقید کا نشانہ بنا رہا، جہاں سیاسی اثر و رسوخ کی موجودگی اور یکطرفہ فیصلوں نے عوامی اعتماد کو متزلزل کیا۔ پاکستان میں چیف جسٹس کی تقرری کے نئے طریقہ کار کے ساتھ ہمیں ایک نئے دور کی شروعات کا احساس ہو رہا ہے، یہ عدلیہ کی بہتری کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔