(گزشتہ سے پیوستہ)
آپﷺ نے امت پر احسان فرماتے ہوئے شہادت کی یہ کشش اپنے مبارک الفاظ اور ذاتی تمنا کے ذریعے سے امت کو عطا فرما دی ہے اب ایک مومن اپنے نفس سے کہہ سکتا ہے کہ دیکھو محبوب آقاﷺ شہادت کی خواہش فرما رہے ہیں شہادت تو محبوب کی چاہت ہے وہ فرما رہے ہیں مجھے ایک بار نہیں بار بار شہید ہونے کی قلبی چاہت ہے پس اے نفس اگر تو مسلمان ہے اگر تو مومن ہے اگر تو حضور ﷺسے محبت رکھتا ہے تو پھر تجھ پر بھی لازم ہے کہ تو بھی اپنے اندر شہادت کی چاہت بھر لے ۔پورے وجد اور اخلاص سے کہہ دے کہ میری بھی چاہت اور محبت یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جائے۔ شہادت جب امت کی چاہت اور ’’لیلی‘‘بن جائے گی تو پھر کفار ان کو اپنا غلام نہیں بنا سکیں گے اور مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدموں اور فتوحات کو بھی کوئی نہیں روک سکے گا عظیم مرد مجاہد شیخ یحییٰ سنوار جس جہاد کے راستے پر چلتے ہوئے شہادت کی نعمت سے مالا مال ہوئے اگر ہم مسلمانوں نے بھی اسی راستے کو اپنا مشن بنا لیا تو بہت جلد یہود اور ان کے تمام ظاہری اور باطنی ایجنٹوں کا فلسطین اور دنیا کے باقی ممالک سے صفایا ہو جائے گا۔ مسجد اقصیٰ شریف یہود کی ڈالی ہوئی زنجیروں سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائے گی جی ہاں یہی ایک طریقہ ہے اللہ تعالیٰ کی عدالت سے سرخرو ہونے کا۔ نبی کریم ﷺ کی رضا کو حاصل کرنے کا۔ اور جنت الفردوس میں ہنستے مسکراتے شہدائے فلسطین کی مجلس میں جگہ بنانے کا۔
شہید یحییٰ سنوار کی محبوبہ ’’شہادت‘‘ کی سب سے زیادہ تمنا دو جہانوں کے سردار خاتم النبیین حضرت محمد ﷺکے قلب مبارک میں گویا ٹھاٹھیں مارتی تھی۔چند احادیث صحیحہ ملاحظہ فرمائیں۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جو اصحاب بدر میں شہید ہوئے حق تعالیٰ شانہ نے ان پر تجلی فرمائی اور اپنے دیدار پر انوار سے ان کی آنکھوں کو منور فرمایا اور کہا کہ:اے میرے بندو!کیا چاہتے ہو؟ اصحاب رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے پروردگار جن نعمائے جنت(جنت کی نعمتوں)سے تو نے ہم کو سرفراز فرمایا ، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ بتا کیا چاہتے ہو۔ چوتھی مرتبہ اصحاب رضی اللہ عنہم نے یہ عرض کیا کہ اے پروردگار ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں پھر ہمارے جسموں میں لوٹا دی جائیں تاکہ پھر تیری راہ میں قتل ہوں جیسے پہلے قتل ہوئے۔ (رواہ طبرانی)
یاد رکھیے جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے جان دینے کا جذبہ رکھتے ہوں ان کی قوت غلبے اور ہیبت کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی لیجئے محبت اور مٹھاس سے بھرے ہوئے حدیث شریف کے الفاظ پڑھ لیجئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا اور میری چاہت تو یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جاں پھر زندہ کیا جاں پھر قتل کیا جاں پھر زندہ کیا جاں پھر قتل کیا جاں (صحیح بخاری شریف حدیث نمبر 36 ) حضرت آقا مدنی ﷺ کے ان پیار بھرے الفاظ کو دل میں اتاریں اور ہمیشہ کی حیات اور کامیابی کا راز پا لیں، مقام شہادت کی ایک جھلک سمجھنے کے لیے اب ایک اور حدیث مبارکہ دیکھیں، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں چھ خصوصی انعامات ہیں -1خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور جنت میں اس کا مقام اس کو دکھلا دیا جاتا ہے -2اسے عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے-3 قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے وہ محفوظ رہتا ہے ۔-4 اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے-5 بہترحوروں سے اس کا نکاح کرا دیا جاتا ہے -6اور اس کے اقارب میں 70 کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے(ترمذی شریف)سبحان اللہ، کیسے بلند فضائل ہیں اور کیسے اونچے مقامات جن کو یقین ہے وہ پا لیتے ہیں اور ان کا راستہ ہی ان کی منزل بن جاتا ہے اسی لیے دیوانے کامیاب رہتے ہیں:
یوں تو ہونے کو گلستان بھی ہے ویرانہ بھی ہے
دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں کوئی دیوانہ بھی ہے
حاصل ہر جستجو آخر یہی نکلا جگر
عشق خود منزل بھی ہے منزل سے بیگانہ بھی ہے
صحیح بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنا کر ہمیں جہاد کے لیے بھیجا جب ہم دشمن کی سرزمین پر پہنچے اور کسریٰ کا ایک کمانڈر 40 ہزار کا لشکر لے کر ہمارے مقابلے کے لیے آیا تو ان کے ترجمان نے کہا تم میں سے کوئی شخص مجھ سے بات کرے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا پوچھو کیا پوچھنا ہے اس نے کہا تم کون لوگ ہو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہم عرب ہیں ہم انتہائی بدبختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا تھے بھوک کی شدت سے چمڑے اور گٹھلیاں چوسا کرتے تھے، اون اور بال ہماری پوشاک تھی، اور پتھروں اور درختوں کی ہم عبادت کیا کرتے تھے ہم اسی حال میں تھے کہ آسمانوں اور زمینوں کے رب تعالیٰ نے ہماری طرف ہمیں میں سے ایک ایسا نبی بھیجا جس کے ماں باپ کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے نبی رسول اللہ ﷺنے ہمیں حکم دیا کہ ہم تم سے اس وقت تک جنگ لڑتے رہیں جب تک کہ تم اکیلے اللہ کی عبادت نہ کرنے لگو یا پھر ہمیں جزیہ دینا نہ قبول کر لو اور ہمارے نبی ﷺنے ہمیں ہمارے رب کا یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ ہم میں سے جو شخص جہاد کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا وہ جنت میں ایسی نعمتوں میں چلا جائے گا کہ اس جیسی نعمتیں اس نے کبھی بھی نہیں دیکھی ہوں گی ،اور ہم میں سے جو لوگ باقی رہ جائیں گے وہ تمہارے حاکم بنیں گے (صحیح بخاری شریف)
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور آپ کے بھائی کا فدائی جذبہ شہادت۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ احد کے دن اپنے بھائی سے فرمایا بھائی جان میری زرہ آپ لے لیجئے تو انہوں نے جواب دیا میں بھی آپ کی طرح شہادت کا طلب گار ہوں چنانچہ دونوں نے زرہ چھوڑ دی(حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس بھائی کا نام زید بن خطاب تھا جنگ یمامہ میں شہید ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب ان کی شہادت کی خبر ملی تو بہت رنجیدہ ہوئے فرمایا میرا بھائی اسلام میں سبقت لے گیا تھا اور اب شہادت میں بھی بازی لے گیا جب بھی صبح ہوا چلتی ہے مجھے زید کی خوشبو آتی ہے) اسی طرح صحابی رسول عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدر کی روانگی کے وقت چھپتے پھر رہے ہیں اس لیے کہ انہیں چھوٹا سمجھ کر واپس نہ کر دیا جائے اور آج پکا عہد کر بیٹھے ہیں کہ شہادت کی منزل پانی ہے نبی کریم ﷺنے انہیں دیکھ لیا واپسی کا حکم دیا لیکن عمیر رضی اللہ عنہ کے سچے آنسو کام آگئے۔ رونے لگے آقا ﷺنے جہاد میں شرکت کی اجازت دے دی اور اسی غزوہ بدر میں اپنی مراد پا گئے۔(جاری ہے)