اگست 1947ء کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ ریاست جموں و کشمیر کے سربراہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک جعلی دستاویز کے ذریعہ ریاست کا الحاق بھارت سے کردیا۔ ریاست جموں وکشمیر کے تمام اضلاع میں مجاہدین کشمیر ڈوگرہ حکومت کے خلاف بر سرپیکار تھے۔ مفتوحہ علاقوں کا نظم و نسق چلانے کیلئے 24اکتوبر 1947ء کو آزاد حکومت کا قیام عمل میں لایاگیا ۔ جس کی صدارت کے منصب پر 32سالہ نوجوان بیرسٹر سردار محمد ابراہیم متمکن ہوئے اور ریاست آزاد کشمیر کا پہلا دارالحکومت چونچال ہل پلندری رکھا گیا۔ صدارت کا منصب آج کی طرح پھولوں کی سیج نہ تھا بلکہ صدر ریاست آزاد جموںوکشمیر کو مہاراجہ اور اس حکومت کی مخالفت نئی حکومت کا نظم و نسق چلانے کیلئے انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا تھا۔ جہاد کشمیر کو منظم کرنا تھا۔ مہاراجہ نے ریاست کاالحاق بھارت سے کردیا مجاہدین کشمیر کو بے سروسامانی کے عالم میں بھارتی فوج کے ساتھ جنگ کرنا تھی۔ بھارتی فوج جدید اسلحہ ، بکتر بند گاڑیوں توپوں ،وافر مقدار میں اسلحہ اور بارود سے جنگ میں شریک تھی۔ ان حالات میں نوزائیدہ حکومت کی سرپرستی میں آزادی سے سرشار مجاہدین کشمیر اور غازیان وطن نے انڈین آرمی کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ نوجوانوں نے اپنے گرم گرم لہو سے آزادی کشمیر کی شمع کو فروزاں کیا۔ جس کے نتیجہ میں ریاست جموں وکشمیر ایک آزادی کے بیس کیمپ کی شکل میں معرض وجود میں آئی۔ آزاد خطہ میں آزادی سے لے کر آج تک حکومت آزاد کشمیر 24اکتوبر کو یوم تاسیس کا گرم جوشی سے انعقاد کرتی چلی آرہی ہے۔ سرکاری سطح پر 24اکتوبر کو بھر پور ملی جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی، وکلاء کی تنظیمیں ، انجمن تاجراں ، کالجز اور یونیورسٹیز میں ریلیاں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے۔
سرکاری سطح پر دن کا آغاز سائرن بجا کر کیا جاتاہے۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے سلامی کا انتظام کرتے ہیں۔ جلسے جلوسوں میں قومی اور ریاستی ترانے پیش کئے جاتے ہیں۔ آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں بھی پرچم کشائی کی باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی اور کونسل کی سطح پر بھی آزادی کشمیر کیلئے سیر حاصل اجلاس کا انعقاد کیا جاتاہے۔ لیکن کیا صرف جموں وکشمیر ایک کروڑ عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے یوم تاسیس پر تقریبات منعقد کرنا ہی کافی ہے۔ قارئین کرام کشمیر ایک آتش فشاں ہے۔ جنوبی ایشیا کا امن آزادی کشمیر کے ساتھ وابستہ ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ بھارت نے شہ رگ پاکستان پر77سالوں سے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ بھارت نے تقریباً 7لاکھ افواج سرینگر میں داخل کر کے جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کرنے کیلئے مسلمانوں کا قتل عام شروع کررکھا ہے۔ بھارتی فورسز جنوری 1989سے لے کر اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوں کو شہید کرچکی ہیں۔ بھارتی فورسز نے 8ہزار کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا۔ ہزاروں عزت مآب خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ ہزاروں گھر، دوکانیں اور عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل کردیں۔ پانچ اگست 2019کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35-A کومنسوخ کردیا۔
بھارتی حکومت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی تنظمیں بشمول ایمنسٹی انٹر نیشنل اپنی کئی رپورٹس میں بھارتی حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ لیکن بھارتی حکمران مسلسل کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بازنہیں آرہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت رکھنے والے کو اقلیت میں بدلنے کی ناپاک سازش ہورہی ہے۔ کشمیر میں بھارتی حکمرانوں نے اپنی فوجی قوت کا بے تحاشا استعمال کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا۔ لاکھوں لوگوں کو زخمی ، ہزاروں خواتین کو بیوہ، لاکھوں بچوں کو یتیم ، ہزاروں خواتین کی آبروریزی کی۔ یہ درد ناک دہشت گردی کا کھیل جاری و ساری ہے۔ انتہا پسند ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں لاکر آباد کیا جارہا ہے۔ کشمیری عوام کو معاشی بدحالی سے دوچار کیا جارہا ہے۔ بھارت کشمیری عوام کی جدو جہد آزادی کو ٹینکوں کے ذریعہ کچلنے کے درپہ ہے۔ گھر گھر محاصروں اور تلاشی کی کارروائیاں ،چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی روزمرہ کا معمول بن چکاہے۔ پیلٹ گن کا استعمال ، املاک کی تباہی ، جبری گمشدگی، حراستی تشدد، ماروائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ پوری ریاستی لیڈر شپ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی ہے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر کے قائدین مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے بائیکاٹ کے نظریہ پر نظر ثانی کریں اور جس طرح مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی وزیر اعظم عمر فاروق عبداللہ نے مودی سرکار کو شکست فاش دی اسی طرح مقبوضہ کشمیر کی عوام جس کے دل اور جسم مال و دولت حریت کانفرنس کے راہنمائوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مودی سرکار اور نیشنل کانفرنس کو الیکشن میں شکست فاش دے کر ریاستی اسمبلی میں اپنی جیت اور فتح کی للکار کو کامیاب اور کامران بنائیں اور ریاستی اسمبلی کے ذریعہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو اجاگر کریں۔ اس انداز فکر سے آزادی کی تحریک کو تقویت ملے گی۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیرپر بدلتے ہوئے حالات میں کشمیر پر اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان دنیا بھر کے پاکستان میں موجود سفیروں کی مسئلہ کشمیر کے پائیدار فوری حل ، بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کریں۔ جس میں عالمی دنیا کو باور کرایا جائے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر تصادم جنوبی ایشیا کے امن کو تہہ و بالا کردے گا۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجا گر کرنے اور دنیا کی توجہ حاصل کرنے کیلئے بیرونی دنیا میں مسئلہ کشمیر پر دسترس رکھنے والے اکابرین کے وفود بھیجے جائیں۔
2024ء کے اوائل میں آزاد کشمیر میں درپیش مسائل بالحصوص مہنگی بجلی کے حوالہ سے ایک ملک گیر تحریک نے جنم لیا۔ عوام کا جم غفیر سڑکوں پر تھا۔ وزیر اعظم پاکستان نے 23ارب کی خطیر رقم حکومت آزاد کشمیر کے حوالے کی اور بجلی کے نرخوں میں کمی کا خوش آئند فیصلہ کیا۔ لیکن ریلیوں میں خود مختاری جان سے پیاری کے نعروں کی گونج بھی سنائی دی۔ انتہائی خوبصورت نعرہ جس میں نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کیا لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کو اس وقت اس نظریاتی خلفشار سے اجتناب کرنا ہوگا۔ عراق، لیبیا، افغانستان ،کویت جیسے ممالک جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں اپنی علاقائی خود مختاری کو بحال نہ رکھ سکے۔ فلسطین میں 42ہزار مسلمان جام شہادت نوش کرچکے ۔ ان حالات میں کشمیری عوام اور ریاست خود مختاری کی ذہنی عیاشی کی محتمل نہیں ہوسکتی ہے۔ ہوش کے ناخن لیتے ہوئے آزادی کی تحریک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وگرنہ تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی بھارت کے ساتھ دینے کی بجائے شہادت کو اپنا نصب العین سمجھتے ہیں۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل اپنے گرم گرم لہو کی بوندوں سے تحریک آزادی کو جلا بخش رہے ہیں۔ خطہ کشمیر میں مستقل اور پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے اصول کو ممکن بنائے۔کشمیری اور پاکستانی حکمرانوں کے نام
مدد چاہتی ہے حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثناء خواں تقدیس مشرق کہاں ہیں