Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

مودی سرکار کے اجرتی قاتل

بھارتیہ جنتا پارٹی دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہے ۔پردھان منتری نریندر مودی کے تاج میں ایک نیا ہیرا جڑ دیا گیا ہے ۔پہلے بڑی محنت کے بعد انہیں ‘گجرات کے قصاب’ کا لقب ملا تھا۔ گجرات کے بدترین مسلم کش فسادات میں نریندر مودی نے بطور وزیراعلی مرکزی کردار ادا کر کے وزیراعظم کی کرسی کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی ۔مسلم دشمن سفاکیت کی وجہ سے شہرت پانے والے گجرات کے قصائی نے وزیراعظم بننے کے بعد جو گل کھلائے ہیں ان کا ڈنکا دنیا بھر میں بج رہا ہے۔ بات دور نکلتی جا رہی ہے۔ پہلے مودی جی کے تاج میں جڑے جانے والے نئے ہیرے کا ذکر ہو جائے ۔ایک ہیرا کینیڈا سے درآمد کیا گیا ہے جبکہ دوسرا ہیرا ٹرمپ اور کملا ہیرس کے دیس امریکہ سے موصول ہوا ہے ۔گجرات کے قصاب نریندر مودی کی حکومت اب اجرتی قاتل سرکار کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہو چکی ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے مہان دیش بھارت کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی ‘را ‘نے بڑی محنت سے کام کیا ہے۔ دنیا بھر میں اپنے خفیہ ایجنٹوں کو متحرک کیا ۔بیرون ملک مقیم سکھ لیڈروں کی معلومات جمع کی۔ ان سکھوں کی غالب اکثریت بھارت ماتا کے ریاستی ظلم و ستم سے تنگ آکر بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ ماں اگر بھارت جیسی ہو تو بھلا ناراض بچوں کو آسانی سے تو نہیں بھولتی۔ ‘را ‘کی فائلوں میں یہ ستم رسیدہ سکھ اب علیحدگی پسند خالصتانی قرار دیے جا چکے ہیں۔ مودی جی کے بھارت میں خالصتانی ہونے کا مطلب ہے دیش کا غدار !اس سے یہ مطلب بھی خود بخود اخذ کر لیا جاتا ہے کہ جو بھی خالصتانی ہے وہ دراصل پاکستان کا ایجنٹ ہے ۔برطانیہ ،امریکہ اور کینیڈا وہ ممالک ہیں جہاں بھارت کے ستائے سکھ تارکین وطن بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ یہ سکھ جب بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو بھارت سرکار کی تلملاہٹ عروج پہ پہنچ جاتی ہے۔
گجرات کے قصاب نریندر مودی ایسے معاملات میں رورعایت کے قائل نہیں ۔ان کے 10 سالہ عہدکومت میں تمام مذہبی اقلیتوں کے خلاف ریاست نے سخت گیرمتشددانہ رویہ اختیار کئے رکھاہے ۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بیرون ملک پناہ گزیں سکھ برادری نے تسلسل کے ساتھ یورپی ممالک میں خالصتان ریفرنڈم منعقد کروا کر بھارت کی جعلی جمہوریت کا پردہ چاک کیا ۔مودی سرکار سے یہ سبکی برداشت نہیں ہو پا رہی۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ماتھے پر اسلاموفوبیا کا کلنک بھی لگ چکا ہے ۔تیسری بار الیکشن جیتنے کے باوجود مودی جی دو تہائی اکثریت بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔بنیادی وجہ یہی تھی کہ کانگریس سمیت حزب اختلاف کے تمام جماعتیں بی جے پی سرکار کی اقلیت دشمنی کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کرتے ہوئے انتخابی اکھاڑے میں اتری تھیں ۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے تو گجرات کے مسلم کش فسادات میں نریندر مودی کے بھیانک کردار کو بے نقاب کرنے والی دستاویزی فلم جاری کر کے ایک بھونچال پیدا کردیا۔ مودی سرکار نے اس فلم پر بھی پابندی لگوائی اور بھارت میں بی بی سی کے دفتر پر ٹیکس حکام کے ذریعے چھاپے مروا کر اپنا غصہ بھی نکالا ۔ تاہم ان اوچھی حرکتوں سے بی جے پی کا غیر جمہوری چہرہ مزید بے نقاب ہوتا چلا گیا۔ گزشتہ برس جب مودی سرکار عالمی رسوائی پر پیچ و تاب کھا رہی تھی تو برطانیہ میں مقیم سکھ برادری نے ریاستی مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی سفارت خانے پر خالصہ پرچم لہرا ڈالا ۔اس کے بعد برطانیہ اور کینیڈا میں یکے بعد دیگر خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد نے بھارت کے جعلی سیکولرزم اور دکھاوے کی جمہوریت کا پول کھول دیا۔ اندرونی محاذ پر بابری مسجد کے انہدام کے حق میں سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے اور رام مندر کی تعمیر کے افتتاح نے مودی سرکار کے ہندوتوا ایجنڈے کو دنیا بھر میں تنقید کا ہدف بنا دیا۔ اس تلملاہٹ میں مودی سرکار نے خفیہ ایجنسی را کو بیرون ملک مقیم سکھ لیڈروں کو قتل کرنے کا ہدف دیدیا۔ یہ کوئی فکشن یا من گھڑت الزام نہیں بلکہ اس مجرمانہ اقدام کے ٹھوس ثبوت کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر مودی سرکار کو پیش کر کے جواب طلبی شروع کر دی ہے ۔
گزشتہ برس جون کے مہینے میں معروف سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو انتہائی پراسرار انداز میں نامعلوم افراد نے قتل کر ڈالا۔ یہ بھیانک واردات کینیڈا کی سرزمین پر کی گئی ۔کینیڈا کی خفیہ ایجنسیوں نے تحقیقات کی بنیاد پر اس جرم میں بھارتی ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کر دیے ۔گزشتہ برس کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے یہ معاملہ پوری قوت سے عالمی برادری کے سامنے رکھا ۔یہی وجہ تھی کہ جی 20 کے سربراہی اجلاس میں بھارت نے میزبانی کے تقاضے نظر انداز کرتے ہوئے ہر مرحلے پر کینیڈین وزیراعظم کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا۔ ابھی اس معاملے کی باز گشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ بھارت کے سٹریٹیجک پارٹنر امریکہ بہادر نے بھی اس نوعیت کی ایک واردات کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔فرق صرف یہ تھا کہ امریکہ میں مقیم سکھ لیڈر گرپتونت سنگھ پنوں کیقتل کی بھارتی سازش ناکام رہی ۔اجرتی قاتل دراصل ایف بی آئی کا انڈر کور ایجنٹ تھا۔ ’’را‘‘ کا دلال نکھل گپتا چیک ریپبلک میں گرفتار ہوا ۔اور اب امریکہ کی تحویل میں آچکا ہے۔ بھارت میں مقیم ’’را ‘‘کے اہلکار وکاس یادو کا نام بھی سامنے آ چکا ہے۔ دوسری جانب کینیڈا نے بھارت کے سفیر سمیت دیگر عملے کو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ملوث ہونے پر ملک بدر کر دیا ہے ۔گو بھارت نے بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیڈا کے اہلکاروں کو ملک بدر کیا ہے لیکن یہ داغ سینہ زوری سے دھلنے والا نہیں ۔امریکہ نے بھارت سے گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش پہ جواب طلبی کی ہے۔ عالمی میڈیا میں بھارت کے نکمے جاسوسوں کی کارگزاری کی دھوم مچی ہے۔ برطانوی جریدے گارڈین کے ایک مضمون میں مودی سرکار کو اجرتی قاتل قرار دیا گیا ہے ۔یہی وہ نیا ہیرا ہے جو ’’را‘‘نے اپنے وزیراعظم کے تاج میں جڑا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں