دنیا بھر میں کشمیری برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منا کر بھارت کے جبر و استبداد کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ۔ اس دن بھارت نے جموں و کشمیر میں فوج کشی کر کے کشمیری عوام کی امنگوں کا خون کیا تھا۔ 77 برس سے مسئلہ کشمیر حل طلب ہے۔ بھارت نے بندوقوں اور سنگینوں کے زور پر زمین پر تو قبضہ کر لیا لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت کو شکست نہیں دے سکا۔دسمبر 1947 ء میں ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مدد طلب کی۔1948-49 ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قراردادیں منظور کیں جن میں جنگ بندی اور رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا تاکہ کشمیریوں کو پاکستان یا بھارت میں شمولیت کا فیصلہ کرنے دیں۔جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 1947-48 ء میں منظور کردہ قرار داد اور اس کے بعد کی قراردادوں میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ان قراردادوں میں جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ان قراردادوں کو قبول کیا تھا۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت دونوں فریق قراردادوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔78 سالوں سے بھارت نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔1989 ء سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کے وحشیانہ جبر کے نتیجے میں 100,000 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔5 اگست2019 ء سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ضم کرنے کیلئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کیے ہیں جسے اس کے انتہا پسند بی جے پی رہنماں نے ’’حتمی حل‘‘کا نام دیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 122 میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے یکطرفہ اقدامات ریاست کا درست اختیار نہیں ہو سکتا۔5 اگست 2019 ء کے بعد سے بھارت کی طرف سے تمام یکطرفہ اقدامات کو غیر قانونی اور کالعدم تصور کیا گیا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آزادی اور خود ارادیت کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے حصول کے لیے ضروری ہے۔تنازعہ کے حوالے سے بات چیت کے لیے حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ خطے میں آبادیاتی تبدیلیوں کی غیر قانونی کوششوں کو نہ صرف کہ روکا جائے بلکہ ان کو منسوخ بھی کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 اگست 2019 ء سے کئے گئے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات کو منسوخ کرنا بھی ضروری ہے۔اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک متفقہ چارٹر کے تحت جموں اور کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کو فروغ دینے کے پابند ہیں۔پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کردہ تمام طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اس مقصد کو فعال طور پر فروغ دے گا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 33، 34 اور 99 سے رہنمائی لینا ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کے دفتر نے 2018اور 2019میں دو رپورٹیں جاری کیں جن میں بھارت پر کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا اور انکوائری کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ۔کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مستقل ممبران مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بھارت کی جانب سے متنازعہ مقبوضہ علاقے میں فوج کشی اور نسل کشی کے پیش کئے گئے جواز کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان کے پاس تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کے مقدمے کی پیروی کرنے کے لیے تمام قانونی بنیاد اور جواز موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا پرامن حل ہی خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ ہے۔ مودی سرکار کی انتہا پسندانہ سوچ اور مسلم دشمن حکمت عملی نے مقبوضہ کشمیر کو جہنم میں بدل دیا ہے۔ حال ہی میں رچایا گیا الیکشن کا ڈرامہ بھی ناکام ثابت ہو گیا۔ دھاندلی زدہ الیکشن بھی بی جے پی کو شکست سے نہ بچا سکا۔ کشمیری عوام نے مودی سرکار اور ہندوتوا کی علمبردار بی جے پی کو مسترد کر دیا ہے۔ اب کٹھ پتلی حکومت کا تاج ایک مرتبہ پھر عبداللہ خاندان کے سر پر رکھ کر بھارت مقبوضہ کشمیر کو ریموٹ کنٹرول سے قابو کرنے کی کوشش کرے گا۔ ماضی گواہ ہے کہ ایسے استحصالی ہتھکنڈے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو اور تقویت دینے کا باعث بنتے ہیں۔