راولپنڈی میں اڈیالہ کے مقام پر واقع اڈیالہ جیل پاکستان کا مشہور قید خانہ ہے۔حساس نوعیت کی اس جیل کا قیام 1986 ء میں عمل میں آیا۔جبکہ اس وقت جیل میں دو ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش تھی۔تاہم ضرورت کے مطابق گنجائش سے زیادہ قیدی بھی رکھے جاتے تھے۔یہی وہ جیل ہے جہاں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف،صدر آصف علی زرداری،سابق وزیراعظم خاقان عباسی اور اور مریم نواز نے بھی قید کاٹی اور قید و بند کی سخت صعوبتیں برداشت کیں۔ان دنوں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان بھی اسی جیل میں گزشتہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ سے قید ہیں،منتظر ہیں کہ ان کی شنوائی ہو اور ضمانت ہو جائے تاکہ جیل کی بندشوں سے آزاد ہو سکیں۔بانی پی ٹی آئی پر قائم مقدمات کی ایک لمبی فہرست ہے۔جن میں سے بعض کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔جو دفعات لاگو ہیں،ان کا شمار ناقابل ضمانت جرائم میں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہترین،جینئس اور انتہائی قابل وکلا کی ٹیم میسر ہونے کے باوجود اب تک ان کی ضمانت نہیں ہو سکی۔وہ مسلسل پابند سلاسل ہیں۔تاہم اڈیالہ میں انہیں بی کلاس ضرور ملی ہوئی ہے۔جس کے باعث انہیں مروجہ تمام ایسی سہولتیں حاصل ہیں جو بی کلاس کے اسیران جیل کے لیئے قانون نے متعین کر رکھی ہیں۔عمران خان کے مینیو کی تفصیل پر مبنی جو پریس ریلیز جیل حکام نے حالیہ دنوں میں جاری کی وہ کافی حوصلہ افزا ہے۔جس سے اس طرح کی تمام پروپیگنڈہ مہم کی نفی ہوتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ میں بہت ہی برے حالات میں رکھا گیا ہے۔کھانے پینے کے معاملے میں بھی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔
جیل حکام کی پریس ریلیز کے بعد پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما یا لیڈر کی جانب سے اس مینیو کی نفی نہیں کی گئی۔عمران خان جب سے جیل کے اسیر بنے ہیں، جیل کے اردگرد سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات دیکھے جا رہے ہیں۔جبکہ جیل کے اندر بھی سخت سیکورٹی ہے۔ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی غیر معمولی واقعہ رونما نہ ہو۔بانی پی ٹی آئی کو جس سیل میں رکھا گیا ہے۔اس کی نگرانی کا عمل بہت ہی غیر معمولی ہے۔کسی غیر متعلقہ جیل اہلکار کو بھی اس حصے میں جانے کی اجازت نہیں۔جو اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں،صرف وہی سیل تک جا سکتے ہیں۔چند ہفتے قبل جب یہ انکشاف ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کے مختلف شخصیات سے رابطوں کے لئے جیل کے اندر ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے ملک کے اندر باہر بعض اہم شخصیات سے ان کا ٹیلی فونک رابطہ کرایا جاتا ہے۔جن کا محرک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل محمد اکرم اور ان کا ماتحت عملہ ہے۔تو حکومت کی جانب سے فوری ایکشن لیا گیا۔اکرم اور ان کے ماتحت اہلکار زیر حراست چلے گئے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اکرم کا کافی دنوں تک کوئی سراغ نہ ملا کہ کہاں اور کس کی زیر حراست ہیں۔ شوہر کی بازیابی کے لیئے اہلیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی دائر کی،تاہم آئی جی اسلام آباد اور آئی بی نے طلبی پر عدالت کو بتایا کہ محمد اکرم ان کی تحویل میں نہیں۔بعد ازاں محمد اکرم منظر عام پر آئے اور بتایا گیا کہ انہیں ایک قیدی سے رشوت لینے کے الزام میں زیر حراست لیا گیا ہے۔وہ محکمہ انٹی کرپشن کی تحویل میں ہیں۔یہ صورت حال سامنے آنے پر ناصرف عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی بلکہ کمیونیکیشن کا جیل کے اندر نیٹ ورک پکڑے جانے کے بعد بیرونی دنیا سے بھی خان صاحب کا رابطہ منقطع ہو گیا۔اڈیالہ میں عمران خان کو پابند سلاسل کئیے جانے کے بعد یہ جیل 25 کروڑ عوام کی نگاہوں کا محور و مرکز بن گئی ہے۔ سیکورٹی وجوہات کے باعث عمران خان کے خلاف قائم مقدمات کی سماعت بھی جیل میں ہی ہوتی ہے۔کسی بھی مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کو بھی کوریج کی اجازت دی جاتی ہے یوں انہیں خان صاحب سے ملاقات اور گفتگو کا موقع مل جاتا ہے۔
میڈیا پرسنز کا کام ہوتا ہے سوال کرنا۔وہ سوال کرتے ہیں اور خان صاحب ان کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ بہت سی باتیں ایکسپوز ہو جاتی ہیں جو بعد ازاں زیر بحث بھی آتی ہیں لیکن اب وہ سلسلہ رک گیا ہے۔کیونکہ کسی بھی کیس کی سماعت اب جیل میں نہیں ہو رہی یہی وجہ ہے کہ رپورٹرز کو عمران خان تک رسائی حاصل نہیں۔پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا کہنا ہے عمران خان کو قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔اہل خانہ سمیت وکلا کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں۔تاہم جیل انتظامیہ کا موقف ہے جہاں تک ملاقاتوں کا تعلق ہے سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔اس کا اطلاق جیل میں قید دوسرے قیدیوں پر بھی ہے۔یہ اس لیئے کیا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سیکورٹی کے سخت ترین خطرات لاحق ہیں۔ایسی اطلاعات ہیں کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔اڈیالہ پنجاب کی جیلوں میں تاریخی نوعیت کی واحد ایسی جیل ہے جس میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی طویل عرصہ تک قید رہے۔اسیری کی سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔اسی جیل میں احمد رضا قصوری کے والد کے مقدمہ قتل میں انہیں پھانسی دی گئی۔یہ پھانسی جلاد تارا مسیح نے دی۔یہیں سے ان کی ڈیڈ باڈی تدفین کے لیئے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے گڑھی خدا بخش سندھ پہنچائی گئی جہاں اب وہ محو استراحت ہیں۔اڈیالہ جیل قریبا 85 ایکٹر رقبے پر محیط اور راولپنڈی کی ضلعی عدالتوں سے قریبا 13 کلومیٹر کے فاصلے پر اڈیالہ روڈ پر واقع ہے۔پنڈی کی پرانی ڈسٹرکٹ جیل کو 1988 میں صدر جنرل ضیا الحق کے حکم پر مسمار کر دیا گیا جہاں اب جناح پارک ہے۔دہائیوں قبل اڈیالہ کے مقام پر ایک گائوں آباد تھا جہاں نئی جیل کی بنیاد رکھی گئی۔پنجاب کی دیگر جیلوں کی نسبت اس جیل میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات ہیں۔جیل کے اندر اور باہر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اس کی بھرپور نگرانی کی جاتی ہے اور 24 گھنٹے مانیٹر کیا جاتا ہے۔بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے ایک سال سے بھی زیادہ کا طویل عرصہ بیت گیا ہے۔بانی پر 9 مئی کے سنگین مقدمات بھی ہیں۔سپریم کورٹ میں آنے والی بڑی تبدیلی کے بعد گمان کیا جا رہا ہے کہ 9 مئی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی پر قائم تمام مقدمات اب سماعت کے لئے فوجی عدالت میں جا سکتے ہیں۔جس کے لیئے فوجی حکام بھی پوری طرح تیار ہیں۔وہ منتظر ہیں کہ کوئی قانونی رکاوٹ ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کی راہ میں حائل نہ ہو۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی تبدیلی کے بعد آئینی منظر نامہ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔لگتا ہے بانی پی ٹی آئی کو اب بہت سی قانونی موشگافیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔مستقبل قریب میں انہیں کوئی بڑی سزا سنائی جا سکتی ہے۔اڈیالہ میں ملاقاتوں پر پابندی کے باعث اب بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی نئی کہانی،نئی بات اور خبر سامنے نہیں آ رہی جو موضوع بحث بن سکے۔اڈیالہ نے ایک سابق وزیراعظم کی ڈیڈ باڈی کو یہاں سے جاتے دیکھا ہے۔عمران خان کے ساتھ کیا ہونا ہے،کیا ہوتا ہے؟ یہ وقت بتائے گا لیکن اس دور کے سابق وزیراعظم عمران خان کے حالات کچھ اچھے دکھائی نہیں دے رہے۔انہیں بہت ہی غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے۔اللہ نہ کرے اڈیالہ سے کوئی اور ڈیڈ باڈی برآمد ہو۔