Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

چھوڑ کر انائیں آئو مل کے ملک بچائیں

سات دہائیوں کا قومی سفر ہے ۔عجیب راستہ ہے ۔چپے چپے پر کھڈے ہیں ۔وطن عزیز کو پیہم جھٹکے لگ رہے ہیں ۔ جب کچھ سنبھلتا ہے پھر کوئی کھڈا آجاتا ہے ۔کھڈوں اور پھڈوں کا یہ سلسلہ روز اول سے جاری ہے ۔ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔واقعات اور وجوہات کی لمبی اور دلخراش داستان ہے ۔ یہاں کئی بار حکومتیں ٹوٹیں ، مارشل لا لگے ، جنگیں ہوئیں، ملک ٹوٹا ۔جس کے دونوں اندرونی اور بیرونی اسباب تھے ۔ ان پہ کئی کتابیں تحریر ہو سکتی ہیں ۔ مگر آج کے کالم کا اسکوپ پچھلی ایک دہائی کے تناظر میں موجودہ حالات کا جائزہ لینا ہے ۔ 2008 ء میں ایک طویل مارشل لا کے بعد جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ۔جس کے ہالا شہدا کے خون سے لال تھا ۔ الیکشن سے کچھ پہلے مقبول سیاسی لیڈر بے نظیر بھٹو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئی ۔سارا انتخابی ماحول مغموم اور خون آلود ہو گیا۔ حادثہ اور عوامی ردعمل بہت غضبناک تھا ۔ ملکی وحدت خطرے میں پڑ گئی۔ تمام سٹیک ہولڈرز نے ہوش اور دانش سے کام لیا ۔ ادراک اور باہمی احساس سے حالات کو کنٹرول کیا ۔ انتخاب میں کچھ تاخیر ہوئی۔ ہمدردی کے ووٹ نے پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری کر دیا ۔اس کی مرکز اور تین صوبوں میں حکومت بن گئی ۔ پنجاب تاہم مسلم لیگ نواز کے پاس رہا ۔ تب مقتدرہ صرف تگڑی ہی نہیں سیانی بھی ہوتی تھی ۔ سیاستدانوں کی کمزوریاں جلد بھانپ لیتی تھی ۔ ہوس اقتدار انکی ہمیشہ سے بڑی کمزوری رہی ہے ۔ جس کیلئے وہ سب اصول بھول جاتے ہیں زیادہ دیر اپوزیشن میں میں رہ نہیں سکتے۔ حکومت اور مقتدرہ کے بیچ جونہی غلط فہمیاں پیدا ہونے لگیں ۔ججز بحالی کی تحریک نے زور پکڑ لیا۔ لاہور سے اسلام کی طرف نواز شریف کی قیادت میں لانگ مارچ شروع ہوا۔ جس میں عوام کا سمندر تھا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر آرمی چیف کی مداخلت سے ججز بحال ہوگئے۔ افتخار چوہدری دوبار چیف جسٹس کے عہدے پہ فائز ہو گئے ۔
اسامہ بن لادن کا واقعہ ہو گیا ۔ میمو گیٹ سکینڈل کی گونج سپریم کورٹ تک جا پہنچی ۔ سوس حکومت کو خط لکھنے کا معاملہ آ گیا ۔ وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سپریم کورٹ نے گھر بھیج دیا ۔راجہ پرویز اشرف نئیوزیراعظم بن گئے۔ کسی نا کسی طرح جمہوری حکومت کے پانچ سال گزر تو گئے مگر بڑے بے چین اور بے قرار گزرے ۔اس دور کا سب سے مثبت پہلو یہ تھا کہ حزب مخالف نے مقتدرہ سے مل کر حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی۔ اعلی سیاسی بلوغت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ جس نے طاقتور حلقوں کو حیران کر دیا ۔ نتیجتا انہوں نے “سیاست نہیں ریاست بچاو ” بیانیے کے ساتھ ایک صاحب کو میدان میں اتار دیا ۔جس نیلاہور سے لانگ مارچ کر کے کئی روز تک شہر اقتدار میں دھرنا دئیے رکھا۔ حکومت نے بڑی حکمت سے موصوف کو قائل کیا اور دھرنا کال آف کرایا۔ دریں اثنا تحریک انصاف نے عوامی جلسوں کا اعلان کر دیا ۔ اسوقت اس پارٹی کی پارلیمانی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ کسی بھی اسمبلی میں ان کی موجودگی نہ تھی ۔ پہلا جلسہ لاہور میں ہوا ۔ اک جم غفیر تھا ۔ جس نے ہر خاص و عام کو حیران کر دیا ۔ دراصل یہی ہے وہ واقعہ جس سے موجودہ حالات کی کڑیاں ملتی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور ختم ہوا ۔ عام انتخابات ہوئے ۔ مسلم لیگ کی حکومت بنی ۔ سب ٹھیک چل رہا تھا۔ اچانک حکومت نے جنرل مشرف پر آرٹیکل چھ لگانے کا اعلان کر دیا ۔ مقتدرہ ناراض ہو گئی ۔ اچانک خان صاحب چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے ۔طویل دھرنا دے مارا ۔ اس دوراں جو کچھ ہوا سارا عالم جانتا ہے ۔ سرکاری عمارات بشمول سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کا محاصرہ ہو گیا۔ وزیراعظم سے استعفا کا پر زور مطالبہ ہوتا رہا۔ چوبیس گھنٹے بلاتعطل حکومت مخالف تقاریر ہوتیں۔ جن کو تمام چینلز برائے راست نشر کرتے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی اک نئی کھیپ میڈیا پہ نمودار ہو گئی ۔ جو حکومت اور وزیراعظم کی بدعنوانی کی داستانیں بیان کرتی ۔ثبوتوں کے کاغذ لہرائے جاتے ۔ وزیر اعظم کو کرپٹ اور غدار ثابت کرنے کے لئے من گھڑت کہانیاں سنائی جاتیں ۔حیران کن طور پر حکومت بلکل بے بس دکھائی دیتی ۔
دوسری طرف دھرنے کے روح رواں خان صاحب کی خوبیوں کے انبار لگا ئے جاتے ۔صفات عالیہ بیان کی جاتیں۔ ایمانداری اور معیار اخلاق کوہ ہمالیہ سے بھی بلند بتایا جاتا۔ عالم یہ تھا جب بھی ٹی وی آن کرو میڈیا ہمہ وقت ایک شخص کے لئے رطب السان ملتا۔ جبکہ دوسرے سیاستدانوں کو چور ، ڈاکو اور غدار ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہوتا۔ تا دیر تواتر سے میڈیا نے جب یہ مہم چلائی تو اس نے لوگوں کے ذہن پر بہت اثر کیا ۔کچھ لوگ واقعی انکو چور ڈاکو اور ملک لوٹنے والے لگنے لگے ۔جبکہ دوسری طرف ایک شخص کا پوتر،پاکیزہ اور فرشتہ ہونے کا تصور انکے دلوں میں راسخ ہو گیا ۔احتجاجی دھرنے سے شروع ہونے والی دراصل ذہن سازی کی اس مہم نے نئی نسل کو بہت متاثر کیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں