Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

چھوڑ کر انائیں آئو مل کے ملک بچائیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
سب ٹھیک چل رہا تھا۔ اچانک حکومت نے جنرل مشرف پر آرٹیکل چھ لگانے کا اعلان کر دیا ۔ مقتدرہ ناراض ہو گئی ۔ اچانک خان صاحب چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے ۔طویل دھرنا دے مارا ۔ اس دوراں جو کچھ ہوا سارا عالم جانتا ہے ۔ سرکاری عمارات بشمول سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کا محاصرہ ہو گیا۔ وزیراعظم سے استعفا کا پر زور مطالبہ ہوتا رہا۔ چوبیس گھنٹے بلاتعطل حکومت مخالف تقاریر ہوتیں۔ جن کو تمام چینلز برائے راست نشر کرتے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی اک نئی کھیپ میڈیا پہ نمودار ہو گئی ۔ جو حکومت اور وزیراعظم کی بدعنوانی کی داستانیں بیان کرتی ۔ثبوتوں کے کاغذ لہرائے جاتے ۔ وزیر اعظم کو کرپٹ اور غدار ثابت کرنے کے لئے من گھڑت کہانیاں سنائی جاتیں ۔حیران کن طور پر حکومت بلکل بے بس دکھائی دیتی ۔
دوسری طرف دھرنے کے روح رواں خان صاحب کی خوبیوں کے انبار لگا ئے جاتے ۔صفات عالیہ بیان کی جاتیں۔ ایمانداری اور معیار اخلاق کوہ ہمالیہ سے بھی بلند بتایا جاتا۔ عالم یہ تھا جب بھی ٹی وی آن کرو میڈیا ہمہ وقت ایک شخص کے لئے رطب السان ملتا۔ جبکہ دوسرے سیاستدانوں کو چور ، ڈاکو اور غدار ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہوتا۔ تا دیر تواتر سے میڈیا نے جب یہ مہم چلائی تو اس نے لوگوں کے ذہن پر بہت اثر کیا ۔کچھ لوگ واقعی انکو چور ڈاکو اور ملک لوٹنے والے لگنے لگے ۔جبکہ دوسری طرف ایک شخص کا پوتر،پاکیزہ اور فرشتہ ہونے کا تصور انکے دلوں میں راسخ ہو گیا ۔احتجاجی دھرنے سے شروع ہونے والی دراصل ذہن سازی کی اس مہم نے نئی نسل کو بہت متاثر کیا۔
جس کی قیمت نہ جانے کب تک اٹھانی پڑے گی ۔ تمام تر جتن کے باوجود ایمپائر کی انگلی کھڑی ہوئی نہ وزیراعظم نے استعفیٰ دیا ۔ دھرنا ختم ہو گیا۔ مگر مشن کی تکمیل کے لئے دوسرا راستہ ڈھونڈ لیا ۔ جس کی راہنمائی کھوسہ نامی ایک جج نے کی ۔ پھر اچانک پانامہ سیکنڈل نمودار ہوا۔ جس میں چارسو چونتیس لوگوں کے نام تھے ۔وقت کے وزیراعظم کا اس میں نام نہ تھا مگر بچوں کا تھا ۔ جس کو جواز بنا کر سو مو ٹو لیا گیا۔ انتہائی بھونڈے انداز میں کیس چلا اور سزا سنائی گئی ۔ پانامہ سے اقامہ نکال کر وزیراعظم کو عمر بھر کے لئے نااہل کردیا گیا ۔جو اس کے بعد ہوا ، سب تاریخ کا حصہ ہے ۔ حکومتی پارٹی زیر عتاب آ گئی۔ اس میں ٹوٹ پھوٹ ہونے لگی ۔ قائد سمیت بہت سارے سینئر پارٹی عہدیداروں کو جیل میں ڈال دیا گیا ۔ اس ماحول میں 2018 کے انتخابات ہوئے۔ ہر سو نشانات فیض بکھرے پڑے تھے۔ جس کی بدولت خان وزیراعظم بن گیا۔ اس کی پارٹی ، اتحاد ، اور کابینہ بھان منتی کا کنبہ تھا۔ جن میں نظریاتی اور نہ کوئی فکری ہم آہنگی تھی ، بس فیض کے جادو نے جوڑ رکھا تھا ۔ پونے چارسالہ دور اپوزشن پر قیامت اور عوام پر پہاڑ بن کر گرا ۔ گرانی آسمان کو چھونے لگی ۔ پراجیکٹ کم اور سکینڈلز زیاد منظر عام پہ آئے۔ ڈالرز کی پرواز بلند ہوتی رہی ، وزیر خزانہ بدلتے رہے ، عوام مایوس ہوتی رہی ۔ مقبولیت کا گراف ثریا سے زمین پر آ گرا ۔ سترہ میں سے سولہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی ناکامی اسکا واضع ثبوت تھا۔ تاہم ون پیج کی کرامات نے معاملات کو سنبھالے رکھا ۔ لیکن جب مقتدرہ کے لئے مایوس کن حکومتی کارکردگی اور عوامی دبا ناقابل برداشت ہو گیا تو اس نے بیساکھیاں کھینچ لیں۔ خان صاحب برا مان گئے اور خوفناک ردعمل دیا ۔ جس کے اثرات سے ملک ابھی تک نہیں نکل رہا ۔ مقتدرہ نے بلنڈر پہ بلنڈر کیا ۔ زیرو کو پھر ہیرو بنا دیا۔ ایک سال کی بات تھی ۔چلنے دیتے اس کی حکومت ۔پی ٹی آئی مقبولیت خود بخود دم توڑ دیتی۔ناعاقبت اندیشوں نے خومخواہ چھیڑ کر اس میں نئی جان ڈال دی ۔ اب ہزار کوشش کے باوجود اس کا توڑ نہیں ہو رہا ۔
پہلی غلطی جھوٹ اور مبالغہ آرائی کی بنیاد پر خان کو پاک پوتر،صادق و آمین ، اور مسیحا بنا کر پیش کرنا تھی ۔ دوسری دیگر سیاستدانوں سے ناروا رویہ روا رکھنا اور دیوار سے لگانا تھی۔ اس عمل کے دوران خود کو اوور ایکسپوز کرنا سنگین پروفیشنل غلطی تھی ۔جس کے باعث طاقتور حلقوں کے چند افراد کانے (کمپرومائز )ہو گئے۔ جس کو خان نے خوب ایکسپلائٹ کیا۔ یہاں تک کہ عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے ، دوران اور بعد میں اس نے سپہ سالار کے وقار اور بھرم کو بری طرح مجروح کیا ۔اسے میر صادق میرجعفر تک کہنا شروع کر دیا ۔خوب چالاکی سے لوگوں کو باور کرانے میں وہ کامیاب ہوا کہ اس کی حکومت گرانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے ۔آرمی چیف امریکی سازش میں ملوث ہے۔ اس الزام کو تقویت دینے کے لئے اس نے جلسے میں اک سائفر لہرا دیا۔ ہم کوئی غلام ہیں ، جیسے نعروں نے لوگوں کے ذہن پہ اتنا اثر کیا کہ وہ چار سالہ بیڈ گورنس کو بھول کر پھر اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ پی ڈی ایم کی حکومت تو سولہ ماہ رہی پر تپتے توے پہ ہی وقت گزارا۔ پی ٹی آئی نے مسلسل حتجاجی آگ لگائی رکھی۔لوگوں کی بڑھتی سپورٹ اور مقتدرہ سے ناراضی دیکھ کر خان صاحب تمام حدیں پار کر گئے ۔ سیاستدان تو ایک طرف وہ کھلے عام آرمی چیف اور دیگر جرنیلوں کو دھمکیاں دینے لگے ۔ برے برے ناموں سے پکارنے لگے۔ اس کے میڈیا ہینڈلرز تو شہیدوں کی بھی تضحیک کرنے لگے ۔خوش فہمی کی ہوا اتنی تیز ہو گئی کہ انہیں انقلاب کی آمد کا یقین ہونے لگا ۔ درحقیقت وہ غلط فہمیوں کی ہوا تھی ،جس نے سانحہ نو مئی کو جنم دیا ۔بلوائیوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ شہدا کیمجسمے توڑ دئیے ،کور کمانڈر کا گھر جلا دیا ۔ میڈیا پہ لائیو دیکھتے لگ ایسا ہی رہا تھا جیسے انقلاب آ گیا ہو ۔مگر وہ محض پانی کا بلبلہ ثابت ہوا۔ اسکے منفی اثرات کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ اکثریت ہونے کے باوجود اس سال کے الیکشن میں کامیابی نہ ملی، بشمول قائد کئی راہنماں کا جیل جانا، بن قائد پارٹی میں بتدریج شکست و ریخت ہونا، فقط ناسمجھی اور کم عقلی کا نتیجہ ہے ۔ ایک بات تو طے ہے ، ریاست اور ریاستی داروں پر حملہ کرنے والوں کا جب تک حساب نہیں ہوتا،مجرمان اظہار ندامت اور معذرت نہیں کرتے معاملات سدھرنے کے امکانات کم ہیں ۔ موجودہ حالات کا یہی تقاضا ہے کہ ذاتی اناوں کو ملکی مفاد پہ قربان کیا جائے ۔اس کی زیادہ ذمہ داری زیادہ مقبولیت کے دعویدار قومی راہنمائوں پر عائد ہوتی ہے ۔ عظیم لیڈرز اور قومیں ایسا ہی کرتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں ۔ کاش ہمارے لیڈرز بھی ایسا حب الوطنی کا جذبہ پیدا کریں اور ملک میں پھیلی مایوسی کو ختم کریں ۔

یہ بھی پڑھیں