اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اقتصادی اور تجارتی طور پر عالمی دنیا کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے افغانستان برادر اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستانی اور افغانی عوام کے صدیوں پرانے ، تاریخی ، سماجی ، ثقافتی ، مذہبی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی تعلقات قائم ہیں دونوں ممالک کی بین الاقوامی سر حد تقریبا 2640کلو میٹر طویل ہے اس طویل ترین سرحد سے روزانہ ہزاروں لوگ بغرض تجارت ملازمت اور صحت کی خدمات کے علاوہ دیگر ضروریات کے لیے آمدو رفت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ 8سر حدی گزرگاہیں ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبا ً 3لاکھ 85ہزار افراد روزانہ کی بنیا د پر پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں ۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کی گزشتہ دو سال کی رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق 6.68 ملین افراد نے افغانستان سے پاکستان اور 6.13 ملین افراد نے پاکستان سے افغانستان کی جانب سرحد پار سفر کیا ۔دنیا میں کہیں بھی اتنی تعداد میں بار ڈر ز پر سرحدی افرادی قوت کی نقل و حرکت نہیں ہے ۔پاکستان اور افغانستان میں لاکھوں افراد کی آمدو رفت دونوں ممالک کے درمیان گہرے معاشرتی اور تجارتی روابط کی غمازی کرتی ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و سفارتی سطح پر تعلقات میں وقتا ً فوقتا ً سرد مہری آتی رہی ہے۔ 1979میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستانی ریاست اور عوام نے جذبہ اسلامی سے سرشار ہوکر افغانی مہاجرین کو پاکستان کی سر زمین پر خوش آمدید کہا اور گزشتہ 44سال سے پاکستان تقریبا ً 40لاکھ افغانی مہاجرین کی میزبانی کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے ۔ روس ایک سپر پاور ٹکروں میں تقسیم ہوئی جنگی شکست و ریخت کی بدولت روس کی گرم پانیو ں تک رسائی کی خواہش پوری نہ ہوسکی ۔افغانستان پر طالبان کی حکومت معرض وجود میں آئی لیکن اس نام نہاد اسلامی انقلاب کے اثرات نے پاکستان کی معیشت ، معاشرت امن وعامہ کو بری طرح متاثر کیا۔ جب امریکہ بہادر نے یو ٹرن لیا تو وہی طالبان جنھیں روس کی افغانستان پر حملہ کو شکست فاش دینے کے لیے اسلحہ اور تربیت سے سر شار کیا گیا تھا۔ ان کو تختہ مشق بنانے کے لیے امریکہ نے ایک نئی جنگ کا آغاز کردیا۔اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ نے پاکستان کو اپنااتحادی بناتے ہوئے جنگ میں دھکیل دیا جس کے نتیجہ میں پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کی آماجگاہ بن گیا تقریبا ً ایک لاکھ کے لگ بھگ فوج اور سویلین نے جام شہادت نوش کیا ۔ سکولوں میں معصوم بچے طالبان کی دہشت گردی کے نتیجہ میں خون میں نہا گئے۔ مساجد میں خود کش حملوں سے بے گناہ نمازیوں کو شہید کیاگیا۔ پاکستان نے اربوں روپے لگا کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کیا جو کہ ہنوز جاری ہے ۔15اگست 2021کو افغانستان پر دوبارہ طالبان کی حکومت معرض وجود میں آئی ۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کیلئے بھارت کا افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لئے استعمال میں لانا پاکستان کے لیئے انتہائی تشویش ناک تھا۔ طالبان کے ساتھ امریکہ بہادر کے مذاکرات میں اگرچہ پاکستان کے ساتھ دیگر ممالک بھی شامل تھے لیکن اسی سمجھوتہ کی آڑ میں دہشت گردوں کو جیلوں سے رہائی بھی ملی۔ پاکستانی طالبان کے نام پر ایک بڑی تعداد میں دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوئے اور آج بھی افغانستان کی سرزمین طالبان کی دہشت گردی کے حملوں میں سہولت کاری فراہم کررہی ہے۔ پاکستان میں یہ سوچ غالب تھی کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات میں کمی ہوگی لیکن گزشتہ تین برسوں کے دوران یہ توقعات پوری نہ ہوئیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں کچھ عرصہ سے دہشت گردی میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ مختلف عالمی منظر نامے اور مختلف سیاسی و سفارتی وجوہات کے سبب دونوں ممالک سیاسی ، معاشی، معاشرتی اور امن و عامہ کے حوالے سے اچھے تعلقات میں نہ ڈھل سکے۔ حالانکہ دونوں ممالک کے تمام تر مسائل اور معاشی ترقی کا راز باہمی اعتماد پر مبنی سفارتی تعلقات ہیں۔ افغانستان کی ترقی پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہ ہے۔ پاکستان افغانستان کو سرحدی جغرافیائی اور تجارتی طور پر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتاہے۔ پاکستان کو سطی ایشیا کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی ،مثبت اور پائیدار تعلقات ہر دو ممالک کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے لازم و ملزم ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں توانائی کی ضرورت معاشی اور اقتصادی استحکام کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ جس سے نمٹنے کیلئے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی دستاویزات کے مطابق ستمبر 2024میں ترکمانستان، افغانستان ، بھارت اور پاکستان کے درمیان قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے تاپی گیس پائپ لائن (Tapi Pipline project)کا ایک بین الاقوامی منصوبے کا افغانستان اور تر کمانستان کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں افغانستان سیکشن کے تعمیراتی کام کا افتتاح ہوچکا ہے۔ اس منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان ، افغانستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی تعلقات بہتر ہوں گے۔
تاپی منصوبہ سے مختلف ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر انحصار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگیوں میں کمی ،کشمیر اور جونا گڑھ متنازعہ مسائل کے حل کیلئے بھی ممد و معاون ثابت ہوگا۔ گزشتہ سالوں میں نائن الیون کے بعد دہشت گردی ، عام افراد کی افغانستان سے پاکستان میں غیر قانونی آمد، اشیاء خورد و نوش کی اسمگللنگ، اسلحہ اور خود کش جیکٹ کی ترسیل نے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔اس ساری صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے مسلح افواج کے زیر انتظام پاک افغان باڈر کا آغاز کیا جو کہ اب تکمیل کے مرحلہ پر ہے نے امریکہ، یورپ، سنٹرل ایشیا، روس اور دیگر ممالک کو حیرت میں ڈال دیا ۔پاک افغان بارڈر کی تکمیل میں ہمارے انجینئر مزدور پاک فوج کے جوان اور منصوبہ ساز خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے چار سال میں 823کلو میٹر باڑ سنگلاخ پہاڑوں ، انتہائی دشوار گزارگھاٹیوں ، تنگ و تاریک راستوں سے گزر کو مشکل ترین باڈر سے پاکستان کو عالمی استعمار کی مداخلت سے محفوظ بنایا۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کی سرزمین میں غیر ضروری مداخلت کو اس باڈر کی رو سے تحفط فراہم کیا۔ آج بھی پاکستان افغانستان کی عوام کو ضرورت کی اشیاء آٹا ،چینی، گھی ،ادویات اور روز مرہ کی ضروریات پوری کررہا ہے۔ اب سمگلنگ یا غیر قانونی طریقہ سے نہیں بلکہ قانونی طور پر ایک نظام کے تحت تجاری روابط کو دوام بخشا جارہا ہے۔ پاک افغان باڈر سے امن، استحکام سلامتی، دہشت گردی کا خاتمہ ، جرائم پیشہ افراد کی غیر قانونی آمد منشیات کی نقل و حمل ا ور سی پیک جیسے منصوبہ جات، کراس باڈر دراندازی، دہشت گردانہ حملے سے پاکستان کی سا لمیت کو تحفظ دیا جاسکے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کو سفارتی سطح پر سختی سے باور کرایا جائے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مثالی تعلقات دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہیں۔ اور اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو اس سے دونوں ممالک میں دہشت گردی، منشیات ، غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوسکتاہے۔ جس سے دونوں ممالک کی سا لمیت کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتاہے۔