Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھکاری

ایک قریبی دوست جوحال ہی میں سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچے ہیں نے بتایا کہ سعودی عرب کے حرم مکہ اور حرم مدینہ پاکستانی بھکاریوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ کسی بھی نماز کے لئے حرمین پاک میں جائیں یا واپس آئیں یہ آپ سے بھیک مانگتے نظر آئیں گے، گو کہ ان بھکاریوں نے عمرہ زائرین کا ناک میں دم کر رکھا ہے اور پاکستان کوعالمی سطح پر بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔ دکھ بھرے لہجے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ اب تو یہ بھکاری اس قدر نڈر ہو گئے ہیں کہ راستوں میں بھیک مانگنے کی بجائے انہوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں مقامی رہائشیوں کے گھروں میں جاجا کر بھیک مانگنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی حکومت نے چار ہزار پاکستانیوں کو گرفتار بھی کیا ہےاور سعودیہ کی جیلیں پاکستانی بھکاریوں سے بھری پڑی ہیں کہ ان میں گنجائش بھی ختم ہوگئی ہے۔اس صورتحال نے سعودی حکومت کو بھی پریشان کررکھاہےجو بار بار اس مسئلے کو پاکستان کے ساتھ اٹھا رہی ہے، مگر اب تک کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا ہے۔یہ پروفیشنل بھکاری عمرہ ویزے کی آڑ میں سعودی عرب پہنچتے ہیں۔
سعودی حکومت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مکہ اور مدینہ کے حرمین میں آنے کی اجازت دے رکھی ہے،ہمارے کچھ بد دیانت لوگ اس نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وہاں پہنچتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ پاکستانیوں کی مجموعی شناخت بھی داغدار ہو رہی ہے۔سعودی عرب میں پاکستانی سفیر جناب نواف المالکی اس معاملے پر پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ماضی میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور نتیجتاً پروفیشنل بھکاریوں کی تعداد بڑھتی گئی ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی اب مسئلے کی سنگینی کومحسوس کیاہے۔ وزارت داخلہ نےسعودی عرب میں قید4 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کر دیے ہیں جنہیں بھیک مانگنے اور دیگر جرائم کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔ یہ پاسپورٹ 7 سال کے لیے بلاک کیے گئے ہیں۔متحدہ عرب امارات (یو اے ای)میں بھی پاکستانیوں کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں۔
یہاں بھیک مانگنے والوں کی وجہ سے بعض پاکستانی اضلاع پر ویزا پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یو اے ای نے تیس اضلاع کو اپنی بلاک لسٹ میں شامل کیا ہے اور اب ان اضلاع کے کسی بھی شخص کو دبئی یا یو اے ای کا ویزہ جاری نہیں کیا جا رہا۔ ان اضلاع میں اٹک، دادو، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، ہنگو، ہنزہ،کوہاٹ، قمبرشہداد کوٹ، کرم ایجنسی، لاڑکانہ، لیہ، مظفر گڑھ، مظفر آباد، نواب شاہ، پارہ چنار، راجن پور، سکردو، سکھر، کوئٹہ، کوٹلی آزادکشمیر، قصور،باجوڑ ایجنسی، مہمندایجنسی،شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب ، ایبٹ آباد،سرگودھا،چکوال اورساہیوال شامل ہیں۔ یو اےای حکام کےاعلانیے کےمطابق یہ پابندیاں ان ایجنٹوں کی غلط بیانی کی وجہ سے بھی عائد کی گئی ہیں جو لوگوں کو وزٹ ویزے پر بھیجنے کا وعدہ کرتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں وہاں بھیک مانگنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ جب یہ لوگ روزگار تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔پابندیاں لگنے کی وجہ سے کئی اہم اور مستحق لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد کے رہائشی ایک طالب علم سید ہادی رضا جسے فن لینڈ کی یونیورسٹی میں سکالرشپ حاصل ہوا ہے نےبتایا کہ فن لینڈ کی ایمبیسی پاکستان میں موجود نہیں اور اس کو دبئی جا کر انٹرویو دینا ہے مگردبئی کا ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے فن لینڈ کی ایمبیسی سے دو مرتبہ اپوائنٹ منٹ موخر کروانا پڑی اور اسکا مستقبل کے خطرے میں پڑ گیا ہے۔
میں اپنی اس تحریر کے ذریعے یو اے ای کے پاکستان میں سفیر جناب حماد عبید ابراہیم سالم الزابی سے درخواست کرتا ہوں کہ ہادی سمیت دیگر طالب علموں اور پروفیشنلز کے ویزوں کا اجرا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیاجائےتاکہ انکے مستقبل کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔یہ صورت حال ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ایسے اقدامات صرف بھکاریوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم اہل اورمستحق افراد کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ واقعی ضرورت مند لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزارت حج، وزارت خارجہ، وزارت قانون اور وزارت داخلہ کو مل کر پارلیمنٹ میں ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانون سازی کرنی چاہیے۔ ان کے خلاف سزا کی مدت کم از کم دس سال ہونی چاہیے، اور ان کے پاسپورٹ کو کم از کم دس سال تک ہی بلاک کیاجانا چاہیے۔ اس طرح کی سخت سزائیں ایسے بھکاریوں کی تعداد کونہ صرف ختم کر سکتی ہیں بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں