Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

برطانیہ میں بڑھتی انتہا پسندی

برطانوی معاشرہ ہمیشہ سے رواداری، جمہوریت، اور آزادی اظہار جیسے اصولوں پر مبنی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے نظریات نے برطانیہ میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی طرف راغب کرنے کا ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے اپنے نظریات کو جس طرح فروغ دیا ہے وہ نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں کو برطانیہ میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو پی ٹی آئی کے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ انتیس اکتوبر کو ایک واقعہ پیش آیا جس نے پاکستانی برطانوی کمیونٹی میں پی ٹی آئی کی بنیاد پرستی کے مسئلے کومزید برہنہ کر دیا۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی جو لندن میں مڈل ٹیمپل کے بینچر کے طور پر موجود تھے، پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے زبانی اور جسمانی بدسلوکی کا شکار بنے۔ یہ حملہ پی ٹی آئی کے حامیوں کے اسی شدت پسند رویے کی ایک جھلک تھی جو وہ مختلف سیاسی شخصیات کے خلاف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے واقعات صرف اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم رجحان کا حصہ ہیں جس میں برطانوی پاکستانی نوجوانوں کو پی ٹی آئی کے زہریلے نظریات کی بنیاد پر شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔اسی طرح کے واقعات سابق وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر اہم پاکستانی سیاسی شخصیات کے خلاف بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان افراد کے خلاف گالم گلوچ، بدسلوکی، ہراساں کرنے، اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان واقعات کی ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر پھیلائی جاتی ہیں جس کا مقصد سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانا اور اپنے پیروکاروں کو جذباتی طور پر متحرک کرنا ہے۔ اس طرح کی حرکتیں برطانیہ میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کو تقسیم کر رہی ہیں اور نوجوانوں میں انتہا پسندانہ رجحانات کو پروان چڑھا رہی ہیں بلکہ برطانوی معاشرے کے لئے بھی زہر قاتل سے کم نہیں۔ یہاں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ برطانوی حکام یہ سب کچھ اپنے سامنے ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہ مٹھی بھر لوگ برطانیہ کا شہری سکون تباہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ حکومت کی اس اجازت سے شر پسندوں کیحوصلے اور بھی بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ برطانیہ نے ماضی میں بھی انتہا پسندی اور فاشزم کے اثرات کا سامنا کیا ہے۔ 1970 ء اور 1980ء کی دہائیوں میں برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے نسل پرستی اور غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیا گیا۔ نیشنل فرنٹ اور برٹش نیشنل پارٹی جیسے گروہوں نے معاشرتی تقسیم پیدا کی اور غیر ملکی برادریوں کو نشانہ بنایا۔ اس وقت کے برطانوی حکام نے ان گروہوں کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے اور سخت قوانین متعارف کرائے۔ ان گروہوں کے اقدامات سے برطانوی معاشرے میں کشیدگی پھیلی، لیکن حکومت کی جانب سے مضبوط کارروائیوں کی بدولت ان گروہوں کا اثر زائل ہوا۔اس کے علاوہ 2005ء میں لندن بم دھماکوں نے بھی برطانوی معاشرے میں انتہا پسندی کے خطرات کو نمایاں کیا۔ ان حملوں نے برطانوی حکام کو بنیاد پرستی کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے پر مجبور کیا، اور دہشت گردی کے خلاف قوانین کو مضبوط کیا گیا۔ اس وقت سے برطانوی حکومت نے انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں پبلک آرڈر ایکٹ 1986 اور یو کے ٹیررازم ایکٹ شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کی طرف سے پاکستانی برطانوی نوجوانوں میں پیدا کی گئی سیاسی شدت پسندی برطانیہ کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے نظریات کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا ہے اور برطانوی نوجوانوں میں جارحانہ رویے کو ابھارا ہے، انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی سرگرمیاں جمہوریت کی حمایت میں ہیں لیکن حقیقت میں یہ سیاسی تشدد اور جارحیت کو فروغ دینے کا سبب بن رہی ہیں۔ برطانوی حکام پر لازم ہے کہ وہ ایسے قوانین اور ضوابط پر عمل کریں جو معاشرتی امن کو برقرار رکھنے میں مددگار ہوں۔ برطانیہ میں بنیاد پرستی کے خلاف قوانین جیسے کہ پبلک آرڈر ایکٹ 1986 اور یو کے ٹیررازم ایکٹ کے تحت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت عوامی اجتماع میں کسی قسم کے تشدد یا ہراسانی کو روکنے کے لیے سختی سے نمٹا جا سکتا ہے۔ آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کا احترام برطانوی معاشرت کا حصہ ہیں، لیکن ان آزادیوں کو فسطائیت اور نفرت کے فروغ کے لیے استعمال ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ اس صورتحال میں برطانوی حکام کو چاہیے کہ وہ ڈائیسپورا کمیونٹیز میں غیر ملکی سیاسی اثرات کے خلاف مزید محتاط ہو جائیں اور ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنرجین میری ایٹ جو ایک سینئر سفارتکار ہیں کو اس انتہا پسندی کو کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئیے۔

یہ بھی پڑھیں