اگر ہم دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ممالک میں آرمی چیف کی مدت ملازمت چار سے پانچ سال کے درمیان ہوتی ہے۔ امریکہ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا چیئرمین عموماً 4 سال کے لیے مقرر ہوتا ہے، جبکہ آرمی چیف بھی 4 سال کی مدت کے لیے تعینات ہوتا ہے۔ امریکی فوجی قیادت کی مدت 4 سال طے کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی حکمت عملی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے یہ مدت کافی ہوتی ہے۔ چین میں سنٹرل ملٹری کمیشن کا چیئرمین عموما ً5 سال کے لیے منتخب ہوتا ہے جو کمیونسٹ پارٹی کے قیادت کے دور سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ چین کی فوجی قیادت کا پانچ سالہ دور یہ ثابت کرتا ہے کہ اس ملک میں دفاعی حکمت عملی میں تسلسل اور استحکام کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بھارت میں چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت عموماً 3 سال ہوتی ہے، تاہم اس میں ایک سال کی توسیع کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ بھارت کی فوجی قیادت کی مدت نسبتاً کم ہے، مگر بھارت کی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں شامل ہے اور اس کی قیادت کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ اسی طرح روس میں جنرل اسٹاف کا چیف بھی 4 سے 5 سال کے لیے اس عہدے پر رہتا ہے، اور برطانیہ میں چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف کی مدت عموماً 3 سال ہوتی ہے، جس میں توسیع ہو سکتی ہے۔
اسی طرح فرانس میں چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف کی مدت تقریبا ً3 سے 5 سال ہوتی ہے، جبکہ جرمنی میں بنڈس ویئر کے چیف کی مدت بھی 3 سے 5 سال تک ہوتی ہے۔ ان تمام ممالک میں فوجی قیادت کی مدت ملازمت اس طرح رکھی جاتی ہے کہ اس سے ملک کی دفاعی حکمت عملی میں تسلسل برقرار رہ سکے اور فوجی سربراہ کو اپنی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا مناسب وقت مل سکے۔
مختلف عالمی طاقتیں فوجی قیادت کی مدت میں توسیع یا اسے پانچ سال تک محدود رکھنے کے حوالے سے اپنے اپنے مفادات اور ضروریات کو مدنظر رکھتی ہیں۔ روس میں دفاعی سربراہوں کی مدت ملازمت 4 سے 5 سال تک رکھی جاتی ہے تاکہ ملک کی فوجی حکمت عملی اور خارجہ تعلقات میں کوئی خلل نہ آئے۔ روس میں جب تک دفاعی سربراہ کو ایک تسلسل کے ساتھ پانچ سال کی مدت نہیں ملتی، وہ عالمی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے موثر اقدامات نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک بھی پانچ سالہ مدت کی توسیع کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ اپنے دفاعی تعلقات اور داخلی سکیورٹی کو برقرار رکھا جاسکے۔
موجودہ دور میں جہاں دنیا بھر میں سیاسی و دفاعی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، وہاں تسلسل کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں داخلی اور خارجی دونوں محاذ پر چیلنجز کا سامنا ہے، اس بات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ مسلح افواج کے سربراہ کو اپنی پالیسیوں اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مناسب وقت ملے۔ پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ نے حال ہی میں مسلح افواج کے سربراہوں کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی منظوری دی ہے۔ پاکستان میں دفاعی حکمت عملی اور سکیورٹی کے مسائل مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا، بھارت کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی سیاستی صورتحال جیسے عالمی مسائل کا اثر پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر پڑ رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک مضبوط اور مستحکم فوجی قیادت کی ضرورت ہے جو ملکی دفاع کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر غور کرے اور اس کو عملی شکل دے سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی فوج عالمی سطح پر ایک بڑی فوج ہے اور اس کی قیادت کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو معمولی نہیں ہیں۔ پاکستان میں فوجی قیادت کو ایک طویل مدت تک اپنے منصوبوں پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ پانچ سال کی مدت میں فوجی سربراہ اپنی ضروری اصلاحات اور جدید دفاعی حکمت عملیوں پر کام کرنے کے لیے بھرپور وقت حاصل کرے گا۔ اس سے نہ صرف دفاعی شعبے میں بہتری آئے گی، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے دفاعی موقف کو بھی مضبوط کرے گا۔
پاکستان میں آخری بار مدت ملازمت میں توسیع وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی تھی۔ ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی منظوری پارلیمنٹ نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے دی تھی۔ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے دفاعی ادارے میں استحکام اور تسلسل قائم رہے تاکہ وہ داخلی اور خارجی چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکے۔ اس طرح کی اہم قانون سازی سے نہ صرف فوجی قیادت کو اپنا کام بہتر طریقے سے کرنے کا موقع ملے گا بلکہ پاکستان کی سکیورٹی اور عالمی سطح پر اس کا دفاع مزید مستحکم ہو گا۔