باہمی خط و کتابت کی عجیب رسم چل پڑی ہے۔ جس سے پیہم عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ یہ سلسلہ خطوط درحقیقت باہمی تقسیم کو عیاں کرتا ہے۔ اس بارے جو پہلے محض قیاس آرائیاں تھیں اب سچ ثابت ہو رہی ہیں ۔ مسلمہ عالمی کہاوت ہے کہ ججز خود نہیں صرف ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ بصد افسوس یہ سنہری اصول بے اصولی کے زنگ میں دب کر اک قصہ پارینہ بن چکا ہے ۔
سیاستدانوں اور ادا کاروں کی طرح شائد یہ بھی اب خبروں میں رہنا پسند کرتے ہیں ۔ٹی وی سکرین پہ اپنی اشکال و حرکات دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اپنے بارے میڈیا میں ہونے والی بحث سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ مقدمات کی سماعت کے دوران ایسے پھلجڑی نما جملے کستے ہیں جو فوراً ٹی وی سکرینوں پر مچلنے لگتے ہیں ۔جو شہرت کے ساتھ شاید ان کی تسکین کا سبب بھی بنتے ہیں ۔اب تو یہ ایک لت ہی بن چکی ہے ۔مجاز ذرائع سے جاری ہونے سے پہلے ہی فیصلوں کی خبریں میڈیا پر اچھلنا شروع ہو جاتی ہیں اگرچہ یہ ایک تشویشناک رحجان ہے ۔ مگر کسی کو اس کی پرواہ ہی نہیں ۔ ایسی خلاف ورزی پہ احساس ندامت اور نہ باز پرس ہوتی ہے۔ جیسے سب کچھ طے شدہ ہے ۔
عدل و انصاف بارے کچھ طے شدہ آفاقی اور دنیاوی اصول ہیں۔ جن میں ایک تعصب اور جذبات سے بالا تر ہو کر ججز کو مقدمات سننا اور فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ جذبات جب غالب آجائیں تو انصاف کی روح مر جاتی ہے ۔ جذبات سے مراد خوف ،رعایت، رغبت ،غصہ اور ہمدردی ہے۔ اگرچہ اس پر من و عن عمل کرنا فطری طور پر مشکل ہے۔ آخر ججز بھی تو انسان ہوتے ہیں ۔ان کی رگوں میں بھی خون دوڑتا ہے۔ ان کے بھی عام انسانوں کی طرح جذبات اور احساسات ہوتے ہیں۔ پسند و ناپسند ہوتی ہے۔ ان کا مزاج بھی ماحول اور موسم سے متاثر ہوتا ہے۔ کسی بھی انسان کے لئے جذبات سے ماورا ہو کر فیصلہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے لئے دیانت اور سچائی کا اعلیٰ معیار چاہئے ۔ اس صورتحال کی نزاکت اور اہمیت کے پیش نظر خصوصی قانون سازی کی گئی ۔ راہنما اصول و ضوابط بنائے گئے۔ جن کو آئین اور قانون کی کتب میں سمویا گیا۔ ججز سمیت تمام متعلقہ اداروں اور شہریوں کو یہ کتاب راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کی پاسداری سب پہ لازم ہے۔ یوں ججز اسی کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں۔جو غیر مبہم اور غیر متنازعہ ہوتے ہیں جن کی رو گردانی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
لیکن جب فیصلے مبہم اورآئین سے متصادم ہوں تو وہ متنازعہ ہوجاتے ہیں ۔ان کی عملداری میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر وہ عدلیہ کے لئے باعث تضحیک اور تمسخر بنتے ہیں ۔ عدلیہ کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانے ہیں ۔ ایسا تب ہوتا ہے جب ججز جذبات سے غیر مغلوب ہو کر فیصلے کرنے کا اصول بھول جاتے ہیں۔ جذبات کے پانی سے آنکھیں دھندلا جاتی ہیں ۔ وہ آئینی دائرہ کار کی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں ۔ جس پر متعلقہ متاثرین ججز کی دیانت پہ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ جس سے ججز کی اپنی ساکھ اور شہرت خراب ہوتی ہے۔نظام عدل و انصاف سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی پوزیشن مزید نیچے لڑھک جاتی ہے ۔
جب شہریوں کا اعتماد نظام عدل و انصاف سے اٹھ جائے تو وہ پھر اپنی عدالتیں لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔لاقانونیت پھیل جاتی ہے ۔ ہجومی نفسیات کا رحجان بڑھ جاتا ہے۔ ملک انارکی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اسی لئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں ۔ یاد رہے ، انصاف کی عدم فراہمی اور غیر فعالی ظلم کو ہوا دیتی ہے۔مطلب کسی معاشرے کی اصلاح ، امن ، سلامتی اور خوشحالی کا سب سے زیادہ انحصار عدلیہ پہ ہوتا ہے ۔ جس کی تصدیق ونسٹن چرچل کے مشہور قول سے بھی ہوتی ہے ، کہ اگر عدلیہ ٹھیک انصاف دے رہی ہے تو کوئی طاقت ہمیں جنگ میں شکست نہیں دے سکتی ۔
آج کل جو کچھ وطن عزیز کی عدلیہ کے ساتھ ہو رہا ہے اس پہ دکھ ہوتا ہے۔ اس کے وقار کو مجروح کرنے میں جہاں دوسرے ریاستی اداروں اور سیاستدانوں کا ہاتھ ہے ، وہاں سب سے زیادہ اس کا اپنا ہے ۔حالات حاضرہ بہت مخدوش اور پریشان کن ہیں ۔ سیاسی و معاشی عدم استحکام کی عمارت لرز رہی ہے۔ عدلیہ کے کنڈکٹ اور کچھ فیصلوں نے صورتحال مزید گھمبیر کر دی ہے۔ اندرونی و بیرونی دشمن اس سے فائدہ اٹھانے کی تاک میں ہیں ۔ ہوش کے ناخن نہ لئے ، آئین کی عملداری کو یقینی نہ بنایا ، ہر سو پھیلی نفرت اور نااتفاقی کی آگ کو نہ بجھایا ، تو سب کچھ راکھ ہو جائیگا۔خدا کے لئے آئین کی اہمیت کو سمجھو ،صرف یہ ہی فائر بریگیڈ کا رول ادا کر سکتا ہے ۔ سب مل کر ایک بار آئین کو صدق دل سے تسلیم کریں اور اس پر من و عن عمل کرنے کی قسم کھائیں ۔ انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نہ کوئی ادارہ اور نہ کوئی شہری اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ جمہوریت کا پودا بھی آئین ہی کے پانی سے توانا شجر بن سکتا ہے ۔سیاسی ، شخصی اور شہری حقوق کی دستیابی بھی تب ہی ہو سکتی ہے ۔
عدلیہ کے معزز جج صاحبان سے مودبانہ التماس ہے اپنی ساکھ اور شہرت کو بحال کریں۔ آئین کے مطابق انصاف فراہم کریں۔ کمزور ہوتے نظام عدل و انصاف سے انصاف کریں۔ پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن، مقتدرہ اور عام شہریوں سے التماس ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کریں ۔ جب ایسا ہو گا نہ الیکشن میں دھاندلی پر کوئی رولا ڈالے گا ، نہ الیکشن کمیشن کی ساکھ پر حرف آئے گا ، نہ پارلیمنٹ اور حکومت کے وجود اور حیثیت پر سوالات اٹھیں گے ۔ میرٹ کی بنیاد پر کام ہوں گے۔ جزا سزا کا عمل مکمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا، اک ایسی فضا قائم ہوگی جس میں ملک عزیز اتحاد ، امن ، خوشحالی اور ترقی کا نمونہ بن کر ابھرے گا ۔ اب بھی وقت ہے ، سوچ لیں ، ورنہ چلتی ہوئی اس آندھی میں قومی وحدت کا یہ پھڑپھڑاتا چراغ ، خاکم بدہن کہیں گل ہی نہ ہو جائے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا