فضائی آلودگی ایک عالمی بحران بن چکا ہے، لیکن جنوبی ایشیاء خصوصاً پاکستان میں اس مسئلے نے انتہائی سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ جہاں ایک طرف ہم اس آلودگی کی انسانی صحت پر اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، وہاں دوسری طرف ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا چاہیے کہ اس آلودگی کی شدت اور اس کے نتائج کو اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب کے طور پر کیوں نہ دیکھا جائے؟ کیا یہ ہماری بدعملیوں کا نتیجہ نہیں ہو سکتا؟ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں اللہ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔ خواہ وہ خوشی ہو یا غم، ہر حالت میں نماز اور دعائوں کے ذریعے اللہ سے مدد مانگنا ضروری ہے۔ فضائی آلودگی، جو اس وقت پاکستان کے کئی شہروں میں سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، اس کا حل بھی ہمیں اللہ کی طرف رجوع سے مل سکتا ہے۔ اس میں سب سے اہم عمل نماز استسقا ہے، جس کے ذریعے ہم بارش کے لیے دعا کرتے ہیں۔عالمی سطح پر فضائی آلودگی ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے رہی ہے۔ صرف 2020 ء میں دنیا بھر میں 7 ملین افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ پاکستان میں اس مسئلے کی شدت خاص طور پر زیادہ ہے۔
لاہور جیسے بڑے شہر، جو پاکستان کا ثقافتی اور تجارتی مرکز ہے، فضائی آلودگی کی سطح پر دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، پشاور اور دیگر شہروں میں صنعتی دھواں، فصلوں کی باقیات کو جلانے کے سبب پیدا ہونے والا دھواں، ٹریفک کا دھواں، اور کوڑے کے ڈھیروں کو آگ لگانے کی وجوہات سے فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے۔یہ فضائی آلودگی انسانوں کے لیے کئی صحت کے مسائل پیدا کر رہی ہے، جن میں سانس کی بیماریاں، گلے کی تکلیف، آنکھوں میں جلن اور سر درد شامل ہیں۔ اور ان تمام مسائل سے بچنا اب محض حکومت یا افراد کے ہاتھ میں نہیں رہا، کیونکہ آلودگی کی سطح اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس سے بچائو ممکن نہیں۔ اس صورت حال میں ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کہیں ہماری بدعملیوں کی وجہ سے یہ سب کچھ نہیں ہو رہا؟ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے کہ جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی کرتی ہے اور اپنی فلاح کو چھوڑ دیتی ہے، تو اللہ تعالی اس قوم پر عذاب نازل کرتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔ ’’جب کوئی قوم زکوٰۃ چھوڑ دیتی ہے، تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ) یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی نافرمانی، اس کی نعمتوں کا انکار اور ظلم و فساد کا ارتکاب اس بات کا باعث بنتا ہے کہ اللہ کی طرف سے آسمانی عذاب آتا ہے۔ پاکستان میں بے شمار ایسے واقعات ہیں جہاں بدعنوانی، ظلم و ستم اور حکومتی سطح پر فیصلہ سازی کی غلطیاں ملک کے مختلف حصوں میں تباہ کن حالات کا سبب بنی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کا معاملہ، ہمیں ایک بار پھر اللہ کے حکم کی طرف متوجہ کرتا ہے۔جب انسانوں پر کوئی قدرتی آفت آتی ہے یا کوئی ضرورت پیش آتی ہے، تو انہیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ قحط یا بارش کی کمی کی صورت میں نماز استسقا ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ استسقا کے لغوی معنی ہیں بارش یا سیرابی مانگنا۔ یہ نماز کسی شدید خشک سالی یا بارش کی کمی کے وقت پڑھی جاتی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں پانی کو اپنی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔‘‘ (سورہ النبیا)
پانی کی اہمیت انسانوں کے لیے اتنی زیادہ ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح، دنیا کی تمام جاندار مخلوق کی تخلیق بھی پانی سے ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب زمین پر پانی کی کمی محسوس ہو، تو نماز استسقا کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی بارش کی دعا کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے تھے۔ آپ ﷺ نے بارش کی کمی کے وقت نماز استسقا ادا کی اور اللہ سے بارش کی دعا کی۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب بارش نہ ہو، تو تم لوگ نماز استسقا پڑھو، اور صدقہ دو تاکہ اللہ تمہیں اپنی رحمت سے نوازے۔‘‘ (ابن ماجہ)پاکستان میں فضائی آلودگی اور پانی کی کمی کی حالت اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ہمیں اللہ سے اجتماعی طور پر رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف فضائی آلودگی نے لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے، تو دوسری طرف پانی کی کمی اور خشک سالی کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں نماز استسقا کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ اس سنگین صورت حال کے باوجود نہ تو حکومت کی طرف سے کسی اجتماعی نماز استسقا کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی دینی مشیران نے اس مسئلے پر حکومت کو کسی اقدام کی طرف راغب کیا ہے۔ شاید ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ماحولیاتی آفات کا حل صرف سائنسی یا انتظامی اقدامات میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور برکتوں میں ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو خود اس سلسلے میں تمام مکتبہ ہائے فکر کے علمائے کرام کو اعتماد میں لے کر اللہ کی طرف رجوع کا اجتماعی سلسلہ شروع کرنا چاہیئے۔ فضائی آلودگی اور ماحولیاتی مسائل کا حل صرف انسان کی محنت اور سائنسی ترقی میں نہیں ہے۔ ان مسائل کا ایک روحانی اور دینی پہلو بھی ہے، جسے ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ نماز استسقا، اللہ سے بارش کی دعا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگنا، ہمیں اللہ کی رحمت کا مستحق بناتا ہے۔ اگر ہم اپنے رویوں کا احتساب کریں، اپنی زندگیوں میں تقوی اور صدقے کا آغاز کریں، تو اللہ تعالی ہمیں اپنی برکتوں سے نوازے گا۔ ہمیں اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے اپنی مشکلات کا حل طلب کرنا چاہیے۔صرف حکومت نہیں، بلکہ تمام شہریوں کو اس بات کا شعور حاصل کرنا چاہیے کہ فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی بحرانوں کا مقابلہ اجتماعی طور پر، اللہ کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی ہدایت دے، آمین۔