Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

سٹریس مینجمنٹ

ایک وقت تھاکہ لوگ 8گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارتےتھے ، ایک دوسرے کی سنتے، دکھ درد بانٹتے ، رشتوں کو نبھاتے اورمسائل کو سمجھتے ہی نہیں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیتے تھے ،آمدن اور آسائشیں کم سہی لیکن رشتے مضبوط،صحت قابل رشک اور معاشرہ خوشحال وخوش خصال دکھائی دیتا تھا، گھر شاندار نہ سہی گھرانے شاندار تھے ، جذباتی طور پر ایک دوسرے سے منسلک اور مربوط ، پنجابی کی کہاوت کے مطابق ’’ تینوں تاپ چڑھے میں ہونگاں ‘‘ والی صورتحال تھی ۔ آج کی نسل اس بے فکری ، اور بے تکلفی کا سوچ بھی نہیں سکتی ، ان کے حیطہ خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ زندگی ایسی بھی ہو سکتی ہے ، بچے سوال کرتے ہیں کہ پھر یہ افراتفری کہاں سے آئی ؟ تو جواب یہ ہے کہ جدید زندگی ، ٹی وی پر دیکھی گئی آسائشوں کو حاصل کرنے کی دوڑ نے ہمیں کولہو کا بیل بنا ڈالا ، یعنی دوسروں کا منہ لال دیکھ کر اپنے گال چپیڑیں مار کر سرخ کرنے کی اس دوڑ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ رہی سہی کسر بے روزگاری ، مہنگائی ، بدامنی اور سیاسی انتشار نے پوری کردی ہے ، نتیجہ یہ کہ ذہنی مریضوں کی تعداد میں 40 فیصد سے55 فیصد سالانہ اضافہ سامنے آرہا ہے، یعنی ہر دوسرا شخص کسی نہ کیس ذہنی بیماری یعنی ڈپریشن، اداسی، مایوسی، پریشانی، شدید غصہ، چڑچرا پن، طبیعت میں تیزی، نیند اڑ جانے ، الٹے سیدھے خیالات شکار ہے، جس کی وجہ سے معاشرہ انتشار ، بےچینی بلکہ کشیدگی کا شکار ہے ، برداشت ختم اور لڑائی جھگڑے پر ہر کوئی ہر وقت تیار دکھائی دیتا ہے ، جن باتوں کو ہنس کر ٹال دیا جاتا تھا، ان باتوں پر اب بندوقیں نکل آتی ہیں ۔ ان سب نفسیاتی عوارض بنیاد ذہنی دبائو ، یا سٹریس ہے جو ہمارا لائف سٹائل ہمیں دے رہا ہے ۔
ذہنی تناؤ، دباؤ اور نفسیاتی الجھنیں کس رفتار سے بڑھ رہی ہیں اس کا اندازہ اس سے بہتر طور پر لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے واحد ادارے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار سے 1200 کے قریب مریض آتے ہیں جن میں سے 40 سے 50 کو روزانہ اسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ تین سالوں میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ 2020 میں یہ تعداد 1 لاکھ 70 ہزار تھی جو 2021 میں بڑھ کر 2 لاکھ تک چلی گئی جبکہ 2022 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 2 لاکھ 50 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔نفسیاتی دبائو یا سٹریس کا سب سے برا اثر ہمارے گھروں پر پڑ رہا ہے ، خاندان ٹوٹ رہے ہیں ، ازدواجی زندگی برباد ہو رہی ہے اور نتیجہ یہ کہ گھریلو تشدد اور طلاقوں کی شرح خوفناک حد تک اوپر جا رہی ہے ۔ گزشتہ پانچ سال میں عدالتوں کے ذریعہ سے ہونے والی طلاق کی شرح میں 35فیصداضافہ ہوا ہے یعنی ایک سو میں سے 35جوڑوں میں طلاق ہوجاتی ہے ، جبکہ گھریلو ناچاقی کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ معاشرے میں خاندانی نظام بنیادی اکائی ہے ، میاں بیوی بھی تحمل اورمعاملہ فہمی سے رشتوں میں پڑنے والی دراڑوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلع وطلاق خاندانی نظام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے،بڑے ثالثی بنیں تو یہ شرح بہت حد تک کم ہوسکتی ہے، لیکن ذہنی تنائو اور سٹریس نے کسی بڑے کو بھی اس قابل نہیں رہنے دیا کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کر سکے ۔
ترقی یافتہ معاشرے جن کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنی معاشرت میں آگ لگا چکے ہیں ، نفسیاتی علاج گاہیں اور ماہرین معاشرے کا حصہ اور سمجھے جاتے ہیں ، لیکن ہمارے ہاں ابھی تک ان معاملات کو مسئلہ سمجھا ہی نہیں جاتا ، سٹریس یا نفسیاتی الجھن پر معالج سے رجوع کرنےوالے کو پاگل قرار دےکر توہین آمیز سلوک کے سبب کوئی اس طرف کا رخ ہی نہیں کرتا نتیجہ یہ کہ اجتماعی معاشرتی انحطاط کے سب ہم تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں ، ہمارا قبل فخر خاندانی نظام تباہی سے دوچار ہے۔ ہمارے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ نفسیاتی صحت کو بھی اہمیت دیں ، سٹریس کو بیماری سمجھیں اور اس سے نمٹنے کی خاطر علاج کی اہمیت کو سمجھیں ۔ اس شعبے کے ماہرین کی بات سنیں ۔ چونکہ ہر فرد ماہر نفیسات کے پاس جانے کی سکت نہیں رکھتا تو لازم ہے کہ ماہرین نفسیات اپنے تجربات کا نچوڑ کتابوں اور مضامین کی صورت عوام کےسامنے پیش کریں ، تاکہ وہ سٹریس کی تباہ کاریوں کو سمجھ سکیں اور جس حد تک ممکن ہو اس کا سدباب کرسکیں ۔اس صورتحال میں عائشہ فیصل نے سٹریس مینجمنٹ کے نام سے کتاب لکھ کر اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کی ہے ، جو قابل تحسین ہے ، عائشہ کوالیفائد ماہر نفسیات ہیں اور خاندانی زندگی خصوصا ازدواجی زندگی کے اتار چڑھائو پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہیں ، پچھلے 12 سالوں سے مختلف کونسلنگ سیشنز دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہم اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے، معاشرہ نہیں بدلے گا اور یہ سوچ ہر باشعور انسان کی ہونی چاہیے۔ اس معاملے میں انفرادی طور پر ہر انسان کو اپنے اپنے حساب سے قدم بڑھانا چاہیے۔ اگر آج ہم اپنے آپ کو آگے نہیں بڑھائیں گے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کیسا معاشرہ چھوڑ کر جائیں گے اور آخرت میں جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو معاشرے کی بہتری اور برائیوں کو روکنے کے حوالے سے کیا جواب دیں گے ۔ اپنی کتاب سٹریس مینجمنٹ میں عائشہ فیصل نے اپنی علمیت کا رعب جھاڑنے کی خاطر ادق اصطلاحات اور مشکل تکنیکی مباحث کے بجائے عام فہم انداز میں عام آدمی کی سمجھ بوجھ کے مطابق ایسے ایسے مسائل کی گتھیاں سلجھائی ہیں جو نہ صرف ایک شخص کی زندگی بلکہ خاندانوں کے خاندان تباہ کر دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں نفسیاتی مسائل حل ہوتے ہیں، وہیں پر انسان کی ذاتی زندگی میں دین سے رہنمائی حاصل کرنے کے گر بھی ملتے ہیں۔ عائشہ فیصل نے بڑے احسن انداز میں اسلامی تعلیمات کے انسانی زندگی پر اثرات کو بیان کر دیا ہے۔یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پریشان حال لوگوں اور جذباتی ونفسیاتی دبائو کا شکار افراد اس کتاب سے استفادہ کرسکیں گے، عائشہ فیصل نے یہ کتاب لکھ کر معاشرے کی ایک بڑی ضرورت پوری کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں