Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

غمخوار مسلم امہ، عاشق رسولؐ علامہ محمد اقبالؒ

(گزشتہ سے پیوستہ)
مفکر اسلام علامہ محمد اقبال ؒنے جس عظیم اسلامی فلاحی ریاست پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ افسوس صد افسوس آج 77سال گزرنے کے بعد بھی ’’پاکستان‘‘ ’’ اسلامی فلاحی ریاست‘‘ بننے سے محروم ہے۔’’ظلم ‘‘ تو یہ ہے کہ جس پاکستان’’کا تصور علامہ اقبال ؒنے پیش کیا تھا،آج اسی پاکستان میں آپ حسن نثارروں اور غامدی اینڈ کمپنی کے راتب خوروں کی زبان درازیوں کی زد میں ہیں، نمک حرامی اور احسان فراموشی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے؟ لیکن شدت پسند سیکولر پٹاری کے دانش فروش ہوں یا غامدی دانشوڑ اس حوالے سے ساری حدود و قیود پار کر چکے ہیں،حضرت علامہ اقبالؒ تو محبت رسولﷺ کے سچے ’’فدائی‘‘ تھے، علامہ اقبالؒ کی طبیعت میں اس قدر سوزو گداز تھا ،اور آپ حب رسولﷺ میں اس قدر سرشار تھے کہ جب کبھی، حضورﷺ کا ذکر خیر ہوتا تو بے تاب ہو کر دیر تک روتے رہتے، فقیر سید وحید الدین ’’روزگار فقیر‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ ’’حضرت ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی سیرت اور زندگی کا سب سے زیادہ ممتاز اور قابل قدر جذبہ عشق رسولﷺ ہے، ذات رسالت مآبﷺ کے ساتھ انہیں جو والہانہ عقیدت تھی اس کا اظہار ان کی چشم نمناک اور دیدہ تر سے ہوتا تھا۔ جہاں کسی نے ان کے سامنے حضورﷺ کا نام لیا۔ ان پر جذبات کی شدت اور رقت طاری ہو جاتی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے، علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کا خلاصہ، جوہر اور لب لباب عشق رسولﷺ اور اطاعت رسولﷺ ہے، میں نے ڈاکٹر اقبال ؒمرحوم کی صحبتوں میں عشق رسولﷺ کے جو مناظر ،دیکھے ہیں ان کا لفظوں میں اظہار مشکل ہے‘‘ فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کا دل عشق رسولﷺ نے گداز کر رکھا تھا۔ زندگی کے آخری دنوں میں تو یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی، آواز بھرا جاتی تھی، اور حضرت علامہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کرلیتے تھے تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا کر گفتگو جاری رکھ سکیں، فقیر سید وحید الدین نے فدائے ناموس رسالت ﷺ غازی عبدالقیوم شہید کا واقعہ پوری تفصیل سے درج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ملعون نتھورام نے ایک کتاب تاریخ اسلام انگریزی زبان میں شائع کی تھی اور اس میں نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں بڑی گستاخیاں کی تھیں۔ مسلمانوں نے اس شاتم رسول پر مقدمہ دائر کیا، مگر کچھ نہ بنا، عبدالقیوم نام کا ایک نوجوان کراچی میں وکٹوریہ چلاتا تھا، اسے جب نتھورام کی گستاخی کی خبر ہوئی تو اس کے غم و غصے کی کوئی انتہا نہ رہی، ایک دن وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھورام پر حملہ آور ہوا اور اس گستاخ کی گردن پر وار کرکے اسے جہنم رسید کر ڈالا، مسلمانوں نے مجاہد ناموس رسالت غازی عبدالقیوم کی ہائی کورٹ تک پیروی کی، مگر سزائے موت ہر جگہ سے بحال رہی، فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں کہ کراچی سے مسلمانوں کا ایک وفد فروری 1935ء میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی لاہور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ محمد اقبالؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور غازی عبدالقیوم کے مقدمے کی روداد تفصیل سے سنائی، اس کے بعد عرض کیا کہ آپ وائسرائے سے ملاقات کریں اور اپنے اثرورسوخ کو کام میں لا کر انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ غازی عبدالقیوم کی سزائے موت کو عمر قید سے بدل دیا جائے۔
حضرت علامہ اقبال ؒوفد کی یہ گفتگو سن کر دس، پندرہ منٹ تک خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے، وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھئے ’’علامہ‘‘کیا فرماتے ہیں، توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشق رسول ﷺ کا معاملہ دوسرے عاشق رسولﷺ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اس گہرے سکوت کو علامہ اقبالؒ کی آواز نے ہی توڑا، انہوں نے پوچھا ’’کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے‘‘؟ وفد نے جواب دیا، نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا یعنی ملعون گستاخ نتھورام کے قتل کا اعتراف کیا ہے، اس نے نہ تو بیان بدلا اور نہ ہی کوئی مصلحت اختیار کی، یا لگی لپٹی بات کی، وہ تو کھلے عام کہتا ہے کہ میں نے تو شہادت خریدی ہے، مجھے بچانے کی کوشش مت کرو، وفد کی اس گفتگو کو سن کر حضرت اقبالؒ کا چہرہ تمتما اٹھا، انہوں نے برہم لہجے میں فرمایا کہ جب عاشق رسولﷺ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو ’’میں‘‘ اس کے اجر و ثواب کی راہ میں حائل کیسے ہوسکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لئے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی اور مر گیا تو شہید ہے؟
غازی علم الدین شہیدؒ اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ کی محبت رسولﷺ میں شہادت اور سرفروشی کے واقعات سے علامہ اقبالؒ بہت متاثر ہوئے، آپ نے لاہور اور کراچی کے عنوان سے ایک قطعہ کہا۔ جس میں غازی عبدالقیوم شہید کے کارنامے کی طرف واضح اشارہ پایا جاتا ہے،
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدروقیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ، اے مرد مسلمان تجھے کیا یاد نہیں
حرفِ لا تدع مع اللہ الھا آخر
حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی سرشت ایک موتی کی مانند ہے، جسے آب و تاب، بحر رسولﷺ سے حاصل ہوتی ہے، تو آب نیہاں ہے، آغوش بحر میں سما جا اور پھر اس سمندر سے موتی بن کر برآمد ہو، دنیا میں خورشید سے زیادہ روشن و تابندہ بن اور دائمی و ابدی، تابانی و درخشانی حاصل کر، مثنوی مسافر میں علامہ اقبال، رموز دین مصطفویﷺ بتاتے ہیں کہ اپنی خودی کو آشکار کرنا۔ سلطانی و شہنشاہی ہے، سوال کرتے ہیں کہ دین کیا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں کہ اپنی ذات کے اسرار و رموز کا جاننا۔ دین کا تقاضا ہے، جو مسلمان خود شناس بن جاتا ہے، وہ خود کو دنیا بھر سے ممتاز بنا لیتا ہے، وہ ضمیر عالم سے باخبر ہوتا ہے اور وہی لاموجود الااللہ کی تلوار بنی ہوتا ہے، بندہ ’’حق‘‘پیغمبروں کا وارث ہے، اس لئے وہ دوسروں کی قائم کی ہوئی دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا، وہ ایک نئی دنیا تخلیق کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے جہان کہنہ کر زیرو زبر کر ڈالتا ہے، اس کی فطرت دنیا میں ہوتے ہوئے بھی جہات سے ماورا ہوتی ہے، اس کی ذات حرم ہے، جس کا طواف ساری کائنات کرتی ہے، آفتاب اس کی گرد راہ کا ایک ذرہ ہے اس کے عروج کی شہادت کتاب اللہ (قرآن پاک)نے دی ہے، اس کی فطرت امت مسلمہ سے کشایش حاصل کرتی ہے اور ملت سے اس کی آنکھوں میں نور بڑھتا ہے، اے نادان! تو ذرا قرآن و حدیث کا مطالعہ کر، اور اس کے معانی و مطالب پر عبور حاصل کر،پھر اپنی خودی کے اندر جھانک اور اپنی حقیقت کو پہچان، تو وحدت (اتحاد)سے عاری ہے، حالانکہ یہ کائنات اور یہ عالم وحدت سے ہی زندگی پاتے ہیں۔
محمد(ﷺ)کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہوگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
علامہ اقبالؒ نے محبت رسولﷺ میں ڈوب کر جو اشعار کہے وہ آج بھی مسلمانوں کی روح کو جلا بخشتے ہیں، جن کے دماغوں پر کلیسائوں کا رعب اور دلوں پر انگریزیت کی چھاپ ہو، ان حسن نثاروں کی سمجھ میں اگر حضرت اقبالؒ نہیں آتا،تو اس میں اقبال ؒنہیں، بلکہ ان کی اپنی کم ظرفی اور فرنگی غلامی کا قصور ہے، اللہ تربت اقبال پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ (آمین)

یہ بھی پڑھیں