Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

سیرۃ النبیﷺ اور انسانی حقوق

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک اور روایت ذکر کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ حق کا شعور کیا ہوتا ہے اور حق کا یہ احساس و شعور کس نے پیش کیا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، مجلس لگی ہوئی تھی، آپ کی دائیں جانب حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیٹھے ہوئے تھے جو حضورؐ کے چچازاد بھائی ہیں اور شاگرد ہیں، ایک رشتے میں بھانجے بھی لگتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت میمونہؓ ان کی حقیقی خالہ ہیں۔ جبکہ حضورؐ کی بائیں جانب حضرت صدیق اکبرؓ بیٹھے ہوئے تھے جو کہ اکبر الصحابۃ، افضل الصحابۃ ہیں۔ مجلس میں حضورؐ کو پیالے میں کوئی مشروب پیش کیا گیا۔ حضورؐ نے نوش فرمایا، آخر میں کچھ گھونٹ بچ گئے یا بچا لیے، اب یہ کسی کو دینے تھے۔ حضورؐ کے بیان کردہ قانون کے مطابق یہ دائیں والے کا حق بنتا ہے ’’الایمن فالایمن‘‘ اور دائیں طرف ایک تیرہ چودہ سال کا لڑکا بیٹھا ہوا تھا، یعنی عبد اللہ بن عباسؓ جو کہ حضورؐ کی وفات کے وقت پندرہ سال کے تھے۔ حق ان کا بنتا تھا مگر جی چاہ رہا تھا بائیں طرف دینے کو، تو جناب نبی کریمؐ نے عبد اللہ ؓسے اجازت مانگی کہ عبداللہ! اجازت ہو تو بائیں طرف دے دوں۔ وہ بھی عبد اللہؓ تھے، کہا، یارسول اللہ! یہ آپ کا تبرک ہے، اس میں کسی کو میں اپنے اوپر ترجیح نہیں دیتا، یہ میرا حق ہے مجھے دیجیے۔ عبداللہؓ نے حضورؐ کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ دیکھیں کہ حق کا شعور کسے کہتے ہیں، روایت کے الفاظ یہ ہیں ’فتلَّہ فی یدہٖ‘‘ حضورؐ نے زور سے تھمایا اس کے ہاتھ میں کہ لے پکڑ۔ حضورؐ کا جی بائیں جانب دینے کو چاہ رہا تھا، اجازت مانگی تو اجازت نہیں ملی، غصہ بھی آیا، پیالہ دیا بھی غصے سے، لیکن دیا اسی کو ہے جس کا حق تھا۔ یہ آپؐ کا اسوہ ہے کہ جس کا حق ہے اسی کو ملنا چاہیے۔ وہ اجازت دے تو دوسرا لے سکتا ہے، وہ اجازت نہ دے تو کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔
ایک اور روایت ذکر کر دیتا ہوں، بخاری شریف کی روایت ہے جو ’’حدیث بریرہ‘‘ کہلاتی ہے۔ بریرہؓ ایک خاندان کی لونڈی تھیں۔ خاندان والوں نے مغیثؓ نامی نوجوان سے ان کی شادی کر دی۔ مالک اپنی لونڈی کی کہیں شادی کر دے اس کا حق ہے۔ بریرہؓ نے خاندان والوں سے بات کی کہ اگر تم میرا سودا کر لو، میری قیمت طے کرو تو میں تمہیں قیمت محنت مزدوری کر کے دے دیتی ہوں، جسے فقہی اصطلاح میں مکاتبت کہتے ہیں۔ انہوں نے بات منظور کر لی اور نو اوقیہ طے ہوئے نو قسطوں میں۔ بریرہؓ نے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں جا کر عرض کیا، اماں جان! یہ میرا سودا ہوا ہے، میرے ساتھ کچھ تعاون کیجیے تاکہ مجھے آزادی مل جائے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا بیٹا اگر میں ساری قسطیں اپنی طرف سے دے کر تمہیں خرید لوں اور تمہیں آزاد کر دوں، یہ سودا تمہارے خاندان والوں کو منظور ہے؟ ان سے بات کر لو میں یکبارگی سارے پیسے دے دیتی ہوں اور تمہیں آزاد میں کروں گی۔ حضرت عائشہؓ نے خرید کر آزاد کر دیا، اب وہ حضرت عائشہؓ کی خادمہ بن گئیں۔ آزاد ہونے کے ساتھ ہی ان کو ایک اور حق حاصل ہو گیا جسے خیار عتق کہتے ہیں۔ نکاح کے وقت آزاد بالغ عورت کو تو انکار کا اختیار ہوتا ہے لیکن لونڈی کو یہ اختیار نہیں ہوتا۔ مالک نے لونڈی کا اپنی مرضی سے کہیں نکاح کر دیا ہو، لونڈی جب آزاد ہوتی ہے تو اس کا وہ حق بحال ہو جاتا ہے، اب اس کی مرضی ہے کہ خاوند کے ساتھ رہے یا نہ رہے۔ بریرہؓ جب آزاد ہوئیں تو وہ سمجھدار تھیں اور مسئلہ مسائل جانتی تھیں، انہوں نے مغیثؓ کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا کہ اب ہمارا نکاح ختم۔ مغیثؓ صاحب بہت پریشان ہوئے کہ یہ کیا ہوا اور کہا کہ ایسا نہ کرو، لیکن بریرہؓ نے کہا یہ میرا حق ہے اور میں نے اپنا حق استعمال کر لیا ہے۔ مغیثؓ بہت زیادہ پریشان ہوئے، کچھ دن تو سفارشیں بھیجتے رہے، لیکن بریرہؓ نے کسی کی سفارش نہ مانی۔
ایک دن آنحضرتؐ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی محلے سے گزر رہے تھے تو مغیثؓ کو دیکھا کہ گلیوں میں دیوانہ وار پھر رہا ہے، آنسو بہہ رہے ہیں اور روتے ہوئے آوازیں دے رہا ہے، کوئی اللہ کا بندہ ہے جو بریرہ کو منا دے، میرا گھر اجڑ گیا ہے۔ حضورؐ نے ساتھی سے کہا کہ اس بیچارے کا حال دیکھو یہ اس کے پیچھے دیوانہ ہو گیا ہے، اور وہ اس کا نام بھی نہیں سننا چاہتی۔ اللہ کی قدرت ہے اللہ کے کاموں میں کون دخل دے۔ یہ منظر دیکھ کر جناب نبی کریمؓ کو مغیثؓ پر ترس آیا اور آپؐ نے مغیثؓ کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا اور ایسے وقت میں سفارش کرنی بھی چاہیے۔ میں کہا کرتا ہوں ایسے وقت میں کسی کی سفارش کرنا سنت ہے، کسی کی ایسی حالت ہو جائے تو اسے دھکے نہیں مارنے چاہئیں بلکہ سفارش کرنی چاہیے۔ آپؐ نے سفارش کا فیصلہ کیا اور گھر تشریف لائے۔ بریرہؓ کو بلایا اور فرمایا مغیثؓ کا کیا قصہ ہے؟ انہوں نے کہا، یارسول اللہ میں نے اپنا حق استعمال کیا ہے او1ر مغیثؓ کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ آپؐ نے سفارش کرنا چاہی تو بریرہؓ نے کہا، یارسول اللہ! کیا یہ میرا حق نہیں تھا؟ فرمایا، حق تو تھا۔ کہا، اب میری مرضی میں اس کے ساتھ رہوں یا نہ رہوں۔ میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ جناب نبی کریمؐ نے بریرہؓ سے کہا، بریرہ! کوئی نظرثانی کی گنجائش ہے تو نظرثانی کر لو، اس بیچارے کا بہت برا حال ہے۔ یہاں آپ حضرات ذرا غور کریں کہ سفارش کون کر رہا ہے اور کس سے سفارش کر رہا ہے۔ آنحضرتؐ خود سفارش کر رہے ہیں گھر کی خادمہ سے۔ فرمایا، بریرہ! یہ فیصلہ واپس لے سکتی ہو؟ وہ بھی حضرت عائشہ کی شاگرد تھی، کہا یارسول اللہ! یہ آپ حکم فرما رہے ہیں یا مشورہ دے رہے ہیں؟ یہ فرق وہ جانتی تھی کہ حکم کا درجہ کیا ہوتا ہے اور مشورے کا درجہ کیا ہوتا ہے۔ اگر آپؐ حکم دے دیں تو کس مسلمان کی مجال ہے کہ اس کا انکار کر سکے، اور مشورہ ہو تو اس میں اختیار ہوتا ہے کہ اسے قبول کرے یا نہ کرے۔ حضورؐ نے فرمایا، حکم نہیں ہے مشورہ ہے۔ یہ سنا تو فورًا بولی ’’لاحاجۃ لی‘‘ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس موقع پر کانپ جاتا ہوں کہ کون انکار کر رہا ہے اور کس کے سامنے کر رہا ہے۔ مگر اسی پر قصہ ختم ہو گیا۔ یہ ہے حق کا احساس۔ آج دنیا میں عورتوں اور بچوں کے حقوق کا شور مچا ہوا ہے، بچوں کے حق کی بات اور عورتوں کے حق کی بات، یہ بات آپ حضرات کی سمجھ میں آئی ہے کہ سب سے پہلے یہ حقوق کس نے پیش کیے ہیں؟
آج میں نے قرآن کریم کی دو آیتیں اور آپؐ کی سیرت مبارکہ کے بیسیوں واقعات میں سے دو واقعے ذکر کیے ہیں کہ حقوق کے بارے میں قرآن کریم کا تصور اور مزاج کیا ہے اور حضورؐ کا مزاج اور سنت مبارکہ کیا ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

یہ بھی پڑھیں