Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

او آئی سی اجلاس میں، مصر اور آذر بائیجان کا متنازعہ کردار

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف اپنا موقف واضح کیا ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسرائیلی جرائم کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے اور جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ اس اجلاس میں غزہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور لبنان کی سنگین صورتحال پر غور کیا گیا۔ اگر اسرائیل کو اسلحہ ، توانائی اور حدود کے استعمال کی بات کریں تو انتہائی افسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے کہ دو اسلامی ممالک بھی اسرائیل کے مدد گار اور معاون بنے ہوئے ہیں،اگر یہ کہا جائے کہ دونوں اسلامی ممالک اسرائیل کے جنگی جرائم میں برابر کے ملوث ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ چند اسلامی ممالک جنہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی تشکیل یا ان کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات بڑھانے پر تنقید کا سامنا ہے، اس وقت اسرائیل کو براہِ راست یا بالواسطہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں آذربائیجان اور مصر شامل ہیں۔آذربائیجان اسرائیل کا ایک اہم اقتصادی اور دفاعی اتحادی ہے۔ اس وقت آذربائیجان اسرائیل کو 40 فیصد تک تیل کی فراہمی کرتا ہے، جو ا تیل فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
آذربائیجان اسرائیل کو دیگر دفاعی سازوسامان ڈرونز اور اسلحہ بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ تعلقات خاص طور پر آذربائیجان اور اسرائیل کے درمیان ایک اسٹریٹجک اتحاد کی صورت میں ہیں، جہاں دونوں ممالک اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔مصر، جو کہ اسرائیل کا ہمسایہ اور ایک اسلامی ملک ہے ایک متنازعہ موقف اختیار کر رہا ہے۔ اگرچہ مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کی فضائی اور سمندری حدود فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ مصر کی سرحدوں کا استعمال اسرائیل کے لئے ایک اہم دفاعی اور فوجی راستہ فراہم کرتا ہے، جس سے وہ فلسطینی علاقوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئیہے۔ اس حوالے سے مصر کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ اس کے ذریعے فلسطینیوں کے قتلِ عام اور اسرائیل کی جارحیت کو مزید تقویت مل رہی ہے۔اس وقت اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک میں امریکہ سرِفہرست ہے۔ امریکی حکومت اسرائیل کی سب سے بڑی حامی ہے اور اسے ہر سال اربوں ڈالر کا فوجی امدادی پیکج فراہم کرتی ہے۔ 2021ء میں امریکہ نے اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی، جس میں جدید جنگی طیارے، ہتھیار، اور دیگر دفاعی سامان شامل ہے۔ اس امداد کا مقصد اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا اور اسے مشرق وسطی میں اپنے دفاع کے لئے ضروری وسائل فراہم کرنا ہے۔ امریکہ کے علاوہ، دیگر مغربی ممالک جیسے برطانیہ اور فرانس بھی اسرائیل کو فوجی سازوسامان فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ، جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت جرمنی اسرائیل کو جدید ترین سب میرین اور دیگر اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ ان تمام ممالک کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنا ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف فلسطینی عوام کی حالت زار میں اضافہ ہورہاہے بلکہ مشرق وسطی میں کشیدگی نے دیگر کئی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’دنیا اسرائیلی جرائم سے صرف نظر کر رہی ہے‘‘ اور غزہ میں جاری انسانی بحران کو ’’تصور سے بڑھ کر‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے ’’تمام حدیں پار کر لی ہیں‘‘۔ غزہ میں بھوک، قحط، اور افلاس کی صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ انسانی زندگی کا توازن مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی تو مزید جانی نقصان اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی اور ان کی سرزمین پر ان کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے کے لئے عالمی سطح پرمزید دبا بڑھانے کی ضرورت ہے۔فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے فوری طور پر ایک فلسطینی ریاست قائم کی جانی چاہیے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ یہ مطالبہ عالمی سطح پر ایک پختہ موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ فلسطین کو اپنے حقوق اور اپنی سرزمین پر ریاست بنانے کا مکمل حق حاصل ہے۔اگر فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا گیا تو یہ پورے خطے میں امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے خلاف مزید عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم کی سزا دی جا سکے۔ فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع کے لئے عالمی سطح پر یکجہتی کی ضرورت ہے ۔پاکستان نے ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی سرزمین پر تسلط ختم ہونا چاہیے۔ پاکستان کا یہ موقف عالمی سطح پر ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور اس کے حل کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائے گا۔

یہ بھی پڑھیں