Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر

شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نسلاً کشمیری تھےا ور انہیں اس پر بجا طور پر فخر بھی تھا ، جس کا اظہار ان کی پوری شاعری میں جا بجا موجود ہے ، فرماتے ہیں ۔ـ
تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر
دل از حریمِ حجاز و نوا ز شیراز است
شاعر مشرق اور کشمیر کا موضوع نیا نہیں،اس موضوع پر متعدد کتابیں ،مضامین اورمقالات منظر عام پر آچکے ہیں۔اقبال کاکشمیر سے روحانی تعلق ہے۔ کشمیر اور اقبال کے تعلق پر میری دانست میں سب سے بہترین تبصرہ جگن ناتھ آزاد کا ہے جو اس نے اپنی کتاب ’’ اقبال اور کشمیر‘‘ میں حرف اول کے نام سے اپنے پیش لفظ میں کیا ہے ۔جگن ناتھ لکھتا ہے کہ ’’ اقبال اور کشمیر کا رشتہ ایک دو نہیں کئ جہات کا حامل ہے ۔ اقبال کے فکر و نظر نے کشمیر سے لیا بھی بہت کچھ اور کشمیر کو دیا بھی بہت کچھ۔،اس کے ساتھ ہی ساتھ اہل کشمیر کے دلوں میں اقبال کے لئےجو عقیدت اور محبت کا جذبہ موجود ہے اس کا اظہار ہی لفظوں میں ممکن نہیں۔ کشمیر کے رسائل و اخبارات اور عملی و ادبی اور سماجی محفلوں میں ایک نظر ڈالنےسےباآسانی یہ اندازہ ہوسکتا ہےکہ ذکر اقبالؒ اہل کشمیر کے لئے ایک موضوع نہیں بلکہ ایک تہذیبی آغازفکر اور ایک طرح کا رجحان طبع ہے جس طرح اقبالؒ کے لئے ذکر کشمیر ذکر محبوب کی حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح اہل کشمیر کے لئے بھی ذکر اقبالؒ ذکر محبوب کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ایک دوسری جگہ جگن ناتھ لکھتے ہیں ’’ویسے تو تاریخ ادب نے اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کیا کہ کسی عالمگیر شہرت کے مصنف کو کسی ایک شہر یا صوبے یا علاقے سے وابستہ کر دیا جائے اور اقبال، ٹیگور یا شیکسپیئر کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو زیادہ اہمیت دی جائےکہ یہ شعراء کشمیر، بنگال یا اسٹرٹینور ڈاپان ایوان سے متعلق ہیں کیونکہ ان کے کلام کی آفاقیت نےشہروں،صوبوں اور ملکوں کی حدبندیوں سے آگے نکال کے انہیں ایک آفاقی منصب عطا کردیا ہےلیکن یہ بھی اک حقیقت ہے کہ خورشید مہتاب اگرچہ کائنات کے ذرے ذرے کو منور کرتا ہے لیکن اس کے محرج کا ذکر کرتے وقت ہم کہتے ہیں کہ خورشید مشرق سےطلوع ہوتاہے گویا مشرق کے ساتھ خورشید کی نسبت خورشید کے عالمگیر اور آفاقی ہونے کےباوجود ایک حقیقی حیثیت رکھتی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر اقبالؒ کا تعلق کشمیر سے، ٹیگور کا بنگال سے اور شیکسپیئر کا اسٹرٹیورڈ اپان ایون سے ایک ایسا تعلق ہے جو ان کے کلام کی آفاقیت کے باوجود کمزور نہیں پڑسکتا۔اس لئے اگر اہل بنگال کو ٹیگور پراور اہل کشمیر کو اقبال پر ناز ہے تو یہ ایک جائز مقام مباہات ہے اور اس مقام فخر و مباہات کی اہمیت محض اقبالؒ کی آفاقیت کے نام پر کم نہیں ہوسکتی بلکہ یہ آفاقیت اس میں اضافے کی ضامن ہے۔اقبالؒ خود اس نکتے کو ’’جاوید نامہ‘‘ میں زیربحث لاتے ہیں اور دین و وطن کے موضوع پر وطن کے ساتھ اہل وطن کی نسبت کا ذکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں۔
اس کف خاک کہ ناامیدی وطن
ایں کہ گوئی مصر و ایران ویمن
باوطن اہل وطن رانستبے است
زانکہ از خاکش طلوع ملتے است
اندریں نسبت اگر داری نظر
نکتہ بینی زمو باریک تر
گرچہ از مشرق برآید آفتاب
باتجلی ہائے شوخ و بے حجاب
درتب و تاب است از سوز دردں
تازقید شرق و غرب آیدبرون
بردنداز مشرق خود جلوہ مست
تاہمہ آفاق را آرنہ بدست
فطرنش از مشرق و مغرب بری است
گرچہ آواز روی نسبت خادری است
نامور کشمیری مورخ، محقق، نقاد اورمصنف محمد یوسف ٹینگ کے مطابق ’’اقبال اُس وقت کشمیر کی آزادی کی بات کرتے تھے ’جب پاکستان بننے کا تصور بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ بطور ثبوت وہ اقبال کا یہ قطعہ پیش کرتے ہیں ،
پنجہ ظلم و جہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر وبال کیا
توڑ اُس دست جفاکیش کو یارب جس نے
روح آزادی کشمیر کو پامال کیا
یوسٖ ٹینگ کا دعویٰ ہےکہ اقبالؒ نے یہ قطعہ 1894 میں کہاجس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہےکہ انہیں ابتدا سے ہی کشمیر کی فکر دامن گیرتھی۔ ٹینگ ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ’’علامہ اقبالؒ کو اس بات کا بےحد افسوس تھاکہ کشمیر کو 16 مارچ 1846 کو طےپانے والےبدنام زمانہ معاہدہ امرتسر کےتحت 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ شاہی خاندان کوفروخت کیاگیا۔
بادصبا اگر بہ جنیوا گزر کنی
حرفی زما بہ مجلس اقوام باز گوئے
دہقان وکشت و جوئےخیابان فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند!
یوں تو بےحساب ارباب علم ودانش نے اقبال کی شخصیت قلم اٹھایا ہے اور ان کے سوانح حیات بھی لکھی ہے، لیکن سب سے پہلے اقبال پرجو ٹھوس اور جامع نوعیت کا کام کیا گیا وہ ایک کشمیری اہل قلم ہی کا مرہون منت ہے۔ اقبال کی سب سے پہلےسوانح حیات جو منشی محمد الدین فوق نے لکھی ہے۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی کی بات ہےمنشی محمدالدین فوق لاہورسےایک ماہنامہ ’’کشمیری میگزین‘‘ شائع کیاکرتےتھےانہوں نے اس کے اپریل1909 کے شمارےمیں اقبال کےحالات زندگی لکھےاوراس ضمن میں اولیت کامشرف حاصل کیا۔ اس کے بعدانہوں نے اقبال کےحالات زندگی اپنی دو اورتصانیف ’’مشاہیرکشمیر‘‘ اور ’’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ میں بھی ازسرنو مرتب کرکے شریک اشاعت کیے۔1922ء میں نواب ذوالفقار علی خان تاجدار بالیرکوٹلہ نےاقبال کےمتعلق انگریزی میں ایک کتاب ’’مشرق سے ایک آواز‘‘ کے عنوان سےلکھی لیکن اردو میں سب سے پہلےایک جامع کتاب لکھنے کا شرف بھی ایک کشمیری مصنف مولوی احمد دین ایڈووکیٹ کو حاصل ہوا۔ آزادی اور کشمیر اقبال کےدو عشق تھے،آج کا کشمیری مجاہد اسی عشق کی تکمیل کی جستجو میں ہے۔ علامہ اقبال کا دل کشمیری مسلمانوں کی غلامی سےبہت رنجیدہ تھا ، جنہیں صدیوں سے ایک حقیر مخلوق سمجھاگیا۔ علامہؒ زمانہ طالب علمی سے ہی کشمیر کی بات کرتے چلے آرہےتھے،نہ صرف کہ انہوں نے اپنی انقلابی اوردل آویزنظموں سےکشمیریوں کا دل گرمانےکی کوشش کی بلکہ 1931کے قتل عام کےبعد ’’کشمیرکمیٹی ‘‘کے صدر کی حیثیت سےبھی تحریک آزادی کشمیر میں اہم سیاسی کردار ادا کیا۔
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوز ناک
مردِ حق ہوتا ہے مرعُوبِ سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردیٔ ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقانِ پیر
آہ یہ قومِ نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر

یہ بھی پڑھیں