خبروں کے مطابق ،گزشتہ ماہ مجاہدین کے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد نیتن یاہو نے اپنا دفتر بالائی منزل سے تہہ خانے میں منتقل کرلیا ہے، کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جہادیوں کے حملوں کے خوف سے بیٹے کی شادی بھی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا عدالت میں کیسز میں بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر حملے کا اعتراف بھی کر لیا ہے،اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں کے پیچھے اسرائیل تھا،حالات پہ گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں پیجر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اسرائیلی کابینہ کے پہلے اجلاس میں حملوں کا اعتراف کیا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو بتایا کہ انہوں نے حملوں پر اصرار کیا تھا جبکہ سابق وزیر دفاع حملوں کے مخالف تھے۔خیال رہے کہ 17ستمبر کو لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔
صیہونی نیتن یاہو ان شااللہ بہت جلد اللہ کی پکڑ میں آنے والا ہے ،ظالموں کی رسی ڈھیلی ضرور ہے،لیکن جب وہ رسی کھینچی جاتی ہے ،تو دنیا نے فرعون اور نمرود جیسے ضدی ظالموں کے عبرتناک انجام کو دیکھا،فرعون اور نمرود کے مقابلے میں نیتن یاہو کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ،جو بائیڈن ،ٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کا یہ حرامی بچہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے ظالم وجابر کی صورت میں سامنے آیا ہے ،امریکہ کی یہ ناجائز اولاد ہزاروں بچوں اور عورتوں کاقتل کروا کر پھر ان کی لاشوں پر جشن مناتا ہے،آج نہیں تو کل یہ خنزیر سے بدتر نیتن یاہو اپنے عبرتناک انجام سے دوچار ہو کر رہے گا،اللہ کے ہاں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں،جس دن اس امت کے جوان جہاد وقتال کی عبادت کی طرف لوٹ آئے،وہ دن نجس جانوروں سے بدتر نیتن یاہو جیسے شیطانوں کا آخری دن ہو گا،ان شااللہ دوسری طرف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو ترجیح کے طور پرتقویت دے گی، صرف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کافی نہیں، فلسطینی عوام کے حقوق کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے لئے انصاف کا مطالبہ کرنے کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے فوری طور پر کام کرنا ہوگا، غزہ اور خطے میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے حصول، فلسطینیوں کو بلا روک ٹوک انسانی امداد کو یقینی بنانے، اسرائیل کو یو این آر ڈبلیو اے کو بدنام کرنے سے روکنے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہے ۔
ریاض میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر دوسرے عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے لیے وزرائے خارجہ کونسل کے تیاری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے مزیدکہا اسرائیلی قابل فوج غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہی ہے، اسرائیل کو جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر جواب دے ٹھہرانا ہوگا، وزیر خارجہ کا کہنا کہ قابض صہیونی فورسز کے جارحانہ اقدامات کا دائرہ لبنان ایران اور شام تک پھیل چکا ہے، دوسری ریاستوں کی خود مختاری کو پامال کر کے نام نہاد گریٹر اسرائیل کا حصول خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، موجودہ مشرق وسطیٰ کے حالات بہت ابتر ہو چکے ہیں پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی، فلسطین میں اسرائیلی جارحیت میں ہزاروں معصوم نہتے اور بے گناہ لوگ شہید ہو گئے ہیں، اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل فلسطین میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور اس کا جنگی جرائم کا سلسلہ مشرق وسطیٰ میں پھیلتا جا رہا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کا قاتل ہے، دنیا نسل کشی روکے، حالات انتہائی بدتر، صیہونی جنگی جرائم بڑھتے جا رہے ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایک عالمی فورم پر پاکستان کا موقف اجاگر کر کے بہت اچھا کیا،مگر فلسطین اور اقصیٰ کی آزادی کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے ، غزہ کے مظلوم انسانوں پر ایک ایک لمحہ بہت بھاری ہے، انداز ہ لگائیے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اتوار کو مزید13بچوں سمیت 32شہری شہید ہوگئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کے شمال میں جبالیہ میں علوش خاندان کے گھر پر قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اتوار کی صبح 13بچوں سمیت 32شہری شہید ہوگئے ۔
قابض فوج کے طیاروں نے جبالیہ کیمپ کے مکینوں اور بے گھر افراد سمیت 58افراد کی رہائش گاہ پر ایک کثیر المنزلہ مکان پر بمباری کی اور بغیر کسی پیشگی انتباہ کے اسے تباہ کردیا۔ علاقہ مکینوں نے 32شہداء کے جسد خاکی نکالے، جن میں 13بچے اور 5زخمی شامل ہیں۔ باقی کی تلاش ابھی بھی ملبے تلے جاری ہے۔ہسپتال کے صحن میں متعدد شہداء کی لاشوں کے پاس کھڑے ایک خاندان کے رشتہ دار نے کہا کہ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر بچے تھے، جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جبالیہ کیمپ سے بے گھر ہو کر آئے تھے۔ جبالیہ پناہ گزین کیمپ اور خاص طور پر بیت لاہیہ پر وحشیانہ بمباری کی جا رہی ہے ،جس میں آئے روز بے گناہ شہری شہید ہو رہے ہیں۔شمالی غزہ میں شہری دفاع اور طبی عملے پر پابندی کو 19 روز گزر چکے ہیں۔ قابض صہیونی درندہ صفت فوجی شمالی غزہ کی آبادی کی نسل کشی کررہے ہیں۔