جناب سرور کائناتؐ کا تذکرہ جس حوالہ سے بھی ہو اور جس پہلو سے بھی ہو باعث برکت ہے، باعث ثواب ہے، باعث رحمت ہے، باعث ہدایت ہے، اور آنحضرتؐ کے ذکر مبارک سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ میرے سامنے آپ میرے کسی دوست کا اچھے انداز میں تذکرہ کریں گے تو مجھے خوشی ہو گی، اللہ تعالیٰ کے حبیب کا ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوتے ہیں اور رحمت و برکات سے نوازتے ہیں۔ حضور نبی اکرمؐ کے ذکر سے اجر و ثواب بھی ہوتا ہے، رحمت و برکت کا نزول بھی ہوتا ہے، اور ہدایت و راہنمائی بھی ملتی ہے۔ بلکہ سب سے بڑا پہلو یہی ہے کہ ہم سرور کائناتؐ کا ذکر کر کے ان کی سنت و سیرت سے راہنمائی حاصل کریں، اسی سے ہمیں دنیا و آخرت کی سعادت اور نجات حاصل ہو گی۔
جناب نبی اکرمؐ کے تذکرہ کے سینکڑوں پہلو ہیں اور ہر پہلو کے بیسیوں رخ ہیں، اس لیے سیرت طیبہ پر گفتگو کرنے والوں کو سب سے پہلے اس امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ سیرت مبارکہ کا کون سا پہلو بیان کیا جائے اور کون سا پہلو چھوڑ دیا جائے؟ جبکہ یہ ’’کون سا چھوڑ دیا جائے‘‘ کا پہلو زیادہ آزمائش والا ہوتا ہے کہ حبیبِ خدا کی سیرت کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جسے چھوڑ دینے کا آسانی کے ساتھ فیصلہ کیا جا سکے، مگر ظاہر ہے کہ مختصر وقت میں بات صرف ایک ہی پہلو پر ہو سکتی ہے اور وہ بھی اختصار کے ساتھ۔ اس لیے میں آج کی اس محفل میں آپ حضرات کے سامنے سیرت طیبہؐ کے صرف ایک پہلو پر چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا کہ کیا جناب نبی اکرمؐ کا منصب صرف یہ تھا کہ وہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا دین اور احکام پہنچا دیں یا دین میں خود بھی کوئی اتھارٹی رکھتے تھے؟
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کی اطاعت کا حکم اور اس کے ساتھ ساتھ اتباع کا حکم بھی دیا ہے۔ اطاعت کا معنٰی ہے حکم ماننا جبکہ اتباع کا مفہوم اس سے کچھ مختلف ہے جس میں حکم ماننے کے ساتھ نقش قدم پر چلنا بھی شامل ہے، جسے ہم ’’فالو‘‘ کرنا کہتے ہیں۔ نبی اکرمؐ جو حکم دیں اس کی تعمیل ہم پر ضروری ہے اور جس طریقے سے وہ کام کر کے دکھائیں اس کی پیروی بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یعنی جو حکم وہ دیں وہ مانیں اور جیسے وہ کریں ویسے ہم کریں۔ دین میں جس طرح قرآن کریم اتھارٹی ہے اسی طرح جناب اکرمؐ بھی اتھارٹی ہیں اور قرآن کریم نے ’’اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول‘‘ (سورہ النساء ۵۹) کہہ کر دونوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ یہ بات میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ آج کے دور میں یہ بیماری مسلسل پھیلتی جا رہی ہے کہ جب کوئی مسئلہ بیان کیا جائے، خواہ وہ جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد کے حوالہ سے ہی بیان کیا جائے، تو کوئی نہ کوئی صاحب یہ سوال کر دیتے ہیں کہ کیا یہ مسئلہ قرآن کریم میں ہے؟ بظاہر یہ سوال اس لیے ہوتا ہے کہ قرآن کریم سے بھی یہ مسئلہ بیان ہو جائے لیکن اس کے پیچھے اکثر یہ ذہن کار فرما ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر قرآن کریم اس مسئلہ میں خاموش ہے تو پھر اس پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات بہت خطرناک ہے کیونکہ کسی مسئلہ میں یہ شرط لگانا کہ وہ صرف قرآن کریم سے بیان کیا جائے اس سے جناب نبی اکرمؐ کے خود اتھارٹی ہونے کی نفی ہوتی ہے، العیاذ باللہ۔
یہ سوال کہ کسی مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا جائے کہ کیا یہ قرآن کریم میں موجود ہے؟ بہت پرانا ہے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ایک بار بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے کسی شخص کو دیکھا کہ وہ طواف کر رہا ہے اور اس نے احرام کی دو چادریں باندھنے کے علاوہ کوئی سلا ہوا کپڑا بھی پہن رکھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے متوجہ کر کے فرمایا کہ بھائی! احرام کی حالت میں مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننے کی اجازت نہیں ہے، اس نے پلٹ کر سوال کیا کہ کیا یہ مسئلہ قرآن کریم میں ہے؟ میں اس موقع پر عرض کیا کرتا ہوں کہ کوئی ہمارے جیسا ڈھیلا ڈھالا مولوی ہوتا تو کہتا کہ جی یہ مسئلہ قرآن کریم میں تو نہیں ہے، مگر وہ بہت تگڑا مولوی تھا، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ تھے۔ فرمایا کہ ہاں یہ مسئلہ قرآن کریم میں موجود ہے، اس لیے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’وما اٰتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا‘‘ (سورۃ الحشر ۷) اور جناب نبی اکرمؐ سے میں نے خود سنا ہے کہ احرام کی حالت میں مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننا جائز نہیں ہے۔
جناب نبی اکرمؐ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ اور رسول ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ جو کہیں وہ کرو اور جس سے روکیں رک جاؤ، اس لیے کہ نمائندہ اور رسول کی حیثیت سے جناب نبی اکرمؐ کی ہر بات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے تو اس سوال کا جواب اس انداز سے دیا مگر حضرت عمران بن حصینؓ اس قسم کے سوال پر غصے میں آگئے تھے۔ مسند دارمی کی ایک روایت کے مطابق ان سے کسی شخص نے کوئی مسئلہ پوچھا اور ساتھ شرط لگا دی کہ مسئلہ قرآن کریم سے بیان فرمائیں۔ حضرت عمران بن حصینؓ نے اس سوال کو پسند نہیں کیا اور الٹا اس شخص سے سوال کر دیا کہ تم نے آج صبح کی نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی تھیں؟ اس نے جواب دیا کہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پوچھا کہ کیا صبح کی دو رکعتوں کا ذکر قرآن کریم میں ہے؟ قرآن کریم تو نہ نمازوں کی تعداد بیان کرتا ہے، نہ رکعتوں کا ذکر کرتا ہے اور نہ ہی یہ بتاتا ہے کہ ایک رکعت میں سجدے کتنے ہیں اور رکوع کتنے ہیں؟ یہ ساری تفصیلات جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ سے ملتی ہیں، اس لیے جس طرح قرآن کریم کے حکم پر نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح جناب نبی اکرمؐ کی بتلائی ہوئی تفصیلات اور طریقے کے مطابق نماز پڑھنا بھی فرض ہے۔ یہی صورتحال باقی فرائض مثلاً زکوٰۃ، روزہ اور حج کی بھی ہے۔
(جاری ہے)