Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

رسول اللہ ﷺکی اطاعت اللہ کی اطاعت

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں اس کی ایک مثال اور بھی دینا چاہوں گا کہ حالت سفر میں نماز دوگانہ پڑھنے کا حکم ہے مگر قرآن کریم میں اس اجازت کے ساتھ یہ شرط ہے ’’لا جناح علیکم ان تقصروا من الصلوٰۃ ان خفتم أن یفتنکم الذین کفروا ‘‘ (سورہ النساء ۱۰۱) سفر میں نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر تم دشمن کی طرف سے آزمائش میں ڈالے جانے کا خوف رکھتے ہو۔ یعنی اگر دشمن کا خوف ہو تو نماز دوگانہ پڑھ سکتے ہو، اس کا ظاہری مطلب یہ بنتا ہے کہ قصر نماز کا تعلق حالت جنگ اور حالت خوف سے ہے اور حالت امن میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اشکال سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے ذہن میں آیا جب وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرمؐ کے ساتھ تھے، سارے سفر میں آتے ہوئے اور جاتے ہوئے جناب نبی اکرمؐ نے دوگانہ نماز پڑھی۔ حضرت عمرؓ کو خیال آیا کہ فتح مکہ اور جزیرۃ العرب پر غلبہ اور کنٹرول کے بعد تو حالت خوف باقی نہیں رہی اور خاص طور پر حجۃ الوداع کا سفر اسلام کے غلبہ اور قوت کے بھر پور اظہار کا سفر ہے، اب ہم دوگانہ نماز کیوں پڑھ رہے ہیں جبکہ قرآن کریم نے قصر نماز کو ’’ان خفتم أن یفتنکم الذین کفروا‘‘ کے ساتھ مشروط کیا ہے؟ انہوں نے اس اشکال کا تذکرہ جناب نبی اکرمؐ سے کیا تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی ہے، اسے واپس کیوں کر رہے ہو؟ میں اس کا ترجمہ یوں کیا کرتا ہوں کہ ہم حالتِ امن میں قصر کر رہے ہیں اور وحی کا سلسلہ بھی جاری ہے مگر اللہ تعالیٰ اس سے منع نہیں فرما رہے تو تم اس مہربانی پر اشکال کا اظہار کیوں کر رہے ہو؟
میں یہاں جس بات پر بطور خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حالت خوف میں قصر نماز ہم قرآن کریم کے حکم کے مطابق پڑھتے ہیں مگر حالت امن میں قصر نماز جناب نبی اکرمؐ کی سنت کی وجہ سے پڑھتے ہیں، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ جس طرح قرآن کریم دین میں اتھارٹی ہے اسی طرح جناب نبی اکرمؐ بھی اللہ تعالیٰ کے رسول اور نمائندہ ہونے کی وجہ سے اتھارٹی ہیں، اور جس طرح قرآن کریم کے حکم سے کوئی عمل واجب ہوتا ہے اسی طرح جناب نبی اکرمؐ کے حکم سے بھی عمل واجب ہو جاتا ہے، کیونکہ جناب نبی اکرمؐ کا کوئی بھی ارشاد یا عمل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نکیر نہ ہونے کی صورت میں حکماً وحی کا درجہ اختیار کر لیتا ہے اور وحی کی خاموشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم بن جاتا ہے۔
حضرت امام شافعیؒ اس مسئلہ میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں، تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت امام شافعیؒ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ کیا حالت احرام میں بھڑ مارنا جائز ہے؟ تو فرمایا کہ ہاں جائز ہے۔ سوال ہوا کہ کیا یہ قرآن کریم میں ہے؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’وما اٰتاکم الرسول فخذوہ‘‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تم پر میرے ساتھ میرے خلفاء راشدینؓ کی سنت بھی لازم ہے‘‘۔ یہ مسئلہ حضرت عمرؓ نے بتایا کہ حالتِ احرام میں بھڑ مارنا جائز ہے۔ گویا حضرت عمرؓ کا فرمان جناب نبی اکرمؐ کا فرمان ہے اور نبی اکرمؐ کا فرمان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
یہاں ایک فرق کی وضاحت ضروری ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کا ہر ارشاد براہ راست قرآن کریم کا حصہ تو نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ارشاد گرامی ’’وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا‘‘ کے مطابق قرآنی تعلیمات کا حصہ ضرور ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ارشاد کا مطلب یہی ہے اور حضرت امام شافعیؒ کے فرمان کا مقصد بھی یہی ہے۔ جبکہ ابوداؤد شریف کی ایک روایت جناب نبی اکرمؐ نے خود بھی اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ ’’الا وانی أوتیت القرآن ومثلہ معہ‘‘ خبردار مجھے قرآن کریم بھی دیا گیا ہے اور اس جیسے اور احکام بھی دیے ہیں۔ اسی ارشاد گرامی میں جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جس چیز کو میں حرام قرار دیتا ہوں وہ بھی ویسے ہی حرام ہے، جیسے وہ چیز حرام ہے جسے قرآن کریم نے حرام کہا ہے۔
اس موقع پر ایک صاحب نے چٹ کے ذریعے سوال کیا کہ جناب نبی اکرمؐ نے اپنے اوپر شہد حرام کیا تھا جس سے قرآن کریم نے منع فرما دیا تھا، اس کا جواب مولانا زاہد الراشدی نے یہ دیا کہ جناب نبی اکرمؐ کی حیات طیبہ میں صورتحال یہ تھی کہ آپ کی کوئی بات اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہوتی تو اس پر وحی کے ذریعہ نکیر ہو جاتی تھی، اور ایسی چند باتوں کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔ لیکن جناب نبی اکرمؐ کے وصال اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو جانے کے بعد آپؐ کا ہر وہ ارشاد اور عمل وحی کا درجہ اختیار کر گیا ہے جس پر آپؐ کی زندگی میں وحی کے ذریعہ نکیر نہیں ہوئی۔ مثلاً قرآن کریم نے خنزیر کو حرام کیا ہے مگر کتے کا ذکر نہیں کیا، اور کتے کے حرام ہونے کا اعلان جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا تھا جس پر وحی خاموش رہی ہے، اس لیے جیسے خنزیر حرام ہے اسی طرح کتا بھی حرام ہے۔
حضرات محترم! میں نے جناب نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ کے صرف ایک پہلو پر مختصرا کچھ گزارشات پیش کی ہیں کہ نبی اکرمؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف پیغامات پہنچانے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ وحی اور پیغامات پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کے لیے نمونہ اور اسوہ بھی تھے اور دین پر عملدرآمد کے حوالہ سے آئیڈیل اور اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس لیے جس طرح قرآن کریم کے ارشادات کی تعمیل ضروری ہے اسی طرح جناب نبی اکرمؐ کے فرمودات اور سنتوں کی پیروی بھی لازم ہے، بلکہ قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ ’’من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ‘‘ (سورہ النساء ۸۰) جس نے رسول اللہؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی وہی قبول ہو گی جو جناب نبی اکرمؐ کی اتباع کی صورت میں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں