Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

امریکہ بہادر کے ذہنی غلام

سفارت کاری کے بین الاقوامی مسلمہ اصول اراکین پارلیمان کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے۔ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتاریاں کرتے ہیں اور تفتیش کی روشنی میں مقدمات عدالتوں میں پیش کرتے ہیں تاہم ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا کہ کسی غیر متعلق ملک کے اراکین پارلیمنٹ تفتیشی اور عدالتی امور جیسے اندرونی معاملات پر خط لکھیں۔ نہ صرف یہ کہ خط لکھیں بلکہ کسی مخصوص قیدی کی رہائی کے لیے کوشش کرنے کا مطالبہ کریں ۔یہ معاملہ اس وقت زیادہ عجیب معلوم ہوتا ہے جبکہ قیدی ملک ’الف‘ میں گرفتار ہو اور ملک ’ب‘کے اراکین پارلیمان اس قیدی کی رہائی کے لیے اپنی حکومت کو کوشش کرنے کی درخواست یا مشورہ دیں۔
آپ بغیر کسی وضاحت کے ہی اس طویل تمہید کا مقصد سمجھ چکے ہوں گے۔ سابق وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس سے پاکستان میں قید کاٹ رہے ہیں۔ ان پہ قائم کیے گئے مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔آئے روز ان کے بیانات اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے عوام تک پہنچتے ہیں ۔مقدمات کی سماعت کی کوریج کرنے والے رپورٹرز سابق وزیراعظم کے بیانات اپنے میڈیا ہائوسز یا اخبارات کے ذریعے عوام تک پہنچا دیتے ہیں ۔البتہ یہ معاملہ معنی خیز ہے کہ یکا یک امریکی کانگرس ایک ایسی متنازعہ قرارداد منظور کر دیتی ہے کہ جس کا تعلق پاکستان کے الیکشن کی شفافیت ،انسانی حقوق کی عمومی صورتحال اور سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے خلاف قانونی کاروائیوں کے جواز سے ہے۔ کچھ ہفتوں کے بعد 60 امریکی کانگرس اراکین اپنے صدر جو بائیڈن کو خط لکھ کر ایسے ہی مطالبات پیش کرتے ہیں جیسا کہ کانگریس کی قرارداد میں پیش کیے گئے تھے۔ یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شنید ہے کہ امریکی کانگریس اراکین کے ایک اور جتھے نے صدر بائیڈن کو خط لکھ کر ہمارے سابق وزیراعظم کی گرفتاری پر اظہار افسوس کیا ہے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کاوشوں کا مطالبہ داغا ہے۔ یہ معاملہ بیک وقت عجیب بھی ہے ،تشویش ناک بھی اور قدر ے مضحکہ خیز بھی ہے۔اس حوالے سے کئی سوال ذہن میں اٹھتے ہیں۔اول، پاکستان میں قید اسیروں سے امریکی کانگریس کے اراکین کو کیا دلچسپی ہے؟دوم، ایک ہی مشکوک معاملے پر 60 اراکین کانگریس کی سوچ میں یکسانیت بذات خود انتہائی حیرت ناک واقعہ ہے۔ سوم، یہ فکری یکسانیت اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تمام اراکین کانگریس کو یکجا کرنے کے لیے کوئی گروہ یا تنظیم کارفرما ہے۔چہارم، ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے غم میں گھلنے والے اراکین کانگریس اور برطانوی اراکین پارلیمان فلسطینیوں ،کشمیریوں اور روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پہ چپ کا روزہ کیوں نہیں توڑتے؟ سوالات تو اور بھی ہیں لیکن اختصار کے تقاضے نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔
مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ الیکشن میں ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کے دن گنے جا چکے ہیں۔ وائٹ ہائوس سے رخصت ہوتے ہوئے عمر رسیدہ بائیڈن کسی دوسرے ملک میں قید کاٹنے والے شخص کی رہائی میں بھلا کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟اگر ایسی کوشش امریکی صدر کی جانب سے کی بھی جائے تو وہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہو گی ۔سفارتی روایات بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ سابق وزیراعظم کی رہائی سے آخر امریکہ یا بائیڈن کو بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ ایسے واضح عوامل کے باوجود آخر کانگریس اراکین کیوں سابق وزیراعظم کی وکالت پر کمر بستہ ہیں؟اس سوال کے دو ممکنہ جوابات ہیں۔اول، امریکہ میں مقیم تحریک انصاف کے حمایتی اپنے علاقے کے اراکین کانگریس کو سابق وزیراعظم کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں ۔ان پاکستانیوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے کانگریس ممبرز اجتماعی خط لکھ کر خانہ پری کر رہے ہیں۔ یہ خطوط میڈیا پر ارتعاش پیدا کرنے کے بعد سرکاری فائلوں کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں البتہ اراکین کانگرس ان کھوکھلے خطوط اور قراردادوں سے اپنے پاکستانی نژاد ووٹرز کو بہلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔بیرون ملک مقیم سوشل میڈیائی کاریگر ایسی خبروں کو مرچ مصالحہ لگا کر تحریک انصاف کے حامیوں کو پیش کر دیتے ہیں۔ جعلی خبروں ، افواہوں اور قیاس آرائیوں سے بنی بارہ مصالحوں کی یہ سوشل میڈیائی چاٹ خوب بکتی ہے۔ جعلی انقلابیوں کو پاکستانی عوام یا بانی پی ٹی آئی سے زیادہ اپنے یو ٹیوب چینلز کے سبسکرائیبرز کی تعداد بڑھا کر مال بٹور نے سے دلچسپی ہے۔رہی بات اسیر بانی چیئرمین کی رہائی کی تو یہ معاملہ پاکستانی عدالتوں میں حل ہونا ہے ۔ قانون کی کوئی شق ایسی نہیں کہ جس کے مطابق امریکہ یا برطانیہ کی خواہش پر ملزم یا سزا یافتہ مجرم کو رہا کر دیا جائے۔
امریکی حکومت سے داد و فریاد کا معاملہ یا ٹرمپ کی فتح سے سابق وزیر اعظم کی رہائی کی امیدیں باندھنا غیر سنجیدہ حکمت عملی ہے۔ گو پی ٹی آئی کے حالیہ چیئر مین بیرسٹر گوہر سمیت مرکزی قیادت اس تصور کی نفی کر چکے ہیں تاہم جماعت کے سوشل میڈیائی کاریگر یہ ڈھول مسلسل پیٹ رہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم مفرور ترجمان اور سابق مشیر امریکہ و برطانیہ میں جو دوڑ دھوپ کر رہے ہیں اس پر بانی چیئر مین کی ایک ہمشیرہ کھلے الفاظ میں تنقید کر چکی ہیں۔ ایک موصوف نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کی دختر نیک اختر اور داماد سے ملاقات فرما کر سابق وزیر اعظم کی رہائی کے معاملے میں سہولت کاری طلب کرنے کا اعلان فرما چکے ہیں۔ یہ کرتوت ‘حقیقی آزادی’ کے لچھے دار نعرے کی نفی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کر رہے ہیں کہ ہاں ہم ذہنی اور فکری طور پر امریکہ بہادر کے غلام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں