Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

آخر زمانہ کی اہم ترین علامات

رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئیوں کے مطابق قربِ قیامت کی علامات واضح طور پر بیان کی گئی ہیں۔ یہ علامات نہ صرف ہمیں موجودہ حالات کا جائزہ لینے بلکہ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور نیک اعمال کی ترغیب دیتی ہیں۔ درج ذیل میں اہم علامات کو احادیث کے مطابق پیش کیا گیا ہے:
-1 امانت کا ضیاع اور نااہل حکمرانوں کا تقررقیامت کے قریب امانت کا پاس و لحاظ ختم ہوجائے گا اور معاملات ایسے افراد کے سپرد کیے جائیں گے جو ان کے اہل نہیں ہوں گے۔ حدیث،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ لوگوں نے پوچھا، امانت کیسے ضائع ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایاجب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کئے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 59)
-2 جھوٹ کا عام ہونا اور سچائی کا فقدان جھوٹ اس قدر عام ہوگا کہ سچ بولنا عجیب لگے گا۔ حدیث، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، قیامت سے پہلے جھوٹ بہت زیادہ بولا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث نمبر 2940) علمی میدان میں بھی جھوٹ عام ہوگا۔ لوگ بغیر مستند علم کے اپنی رائے کو دین کا حصہ بنا کر پیش کریں گے۔ علماء ناپید ہوں گے اور جاہل افراد دین پر لیکچر دینے لگیں گے۔
-3 مال و دولت کی کثرت لیکن بے برکتی مال و دولت کی بہتات ہوگی، لیکن اس میں برکت ختم ہوجائے گی۔حدیث، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مال کی کثرت نہ ہوجائے اور لوگ بلا ضرورت مال خرچ نہ کرنے لگیں۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 1412)
-4بے حیائی اور زنا کا عام ہوناحرام و حلال کی تمیز ختم ہوجائے گی اور لوگ کھلے عام بے حیائی اور زنا کریں گے۔ حدیث، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ کھلے عام زنا نہ کریں۔(مستدرک حاکم، حدیث نمبر 8423)
-5 بلند عمارتوں پر فخر کرناغریب اور محتاج افراد بلند عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔حدیث، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تم دیکھو گے کہ ننگے پائوں، ننگے بدن اور غریب چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 8)
-6علم کا خاتمہ اور جہالت کا غلبہ علم ختم ہوجائے گا اور جہالت عام ہوگی۔ لوگ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور گمراہی پھیلائیں گے۔ حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر 80)
-7 فتنوں کا ظہور دنیا میں فتنے ایسے چھا جائیں گے جیسے رات کے اندھیرے۔حدیث، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،نیک اعمال میں جلدی کرو، کیونکہ فتنے رات کے اندھیروں کی طرح چھا جائیں گے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 118)
-8 دجال کا خروج ہر نبی نے اپنی امت کو دجال کے فتنے سے خبردار کیا ہے۔حدیث،حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجال کے فتنے سے نہ ڈرایا ہو۔ یاد رکھو، وہ کانا ہوگا۔(صحیح بخاری، کتاب الفتن، حدیث نمبر 7131)
-9 عالمی بحران، جنگیں اور بے یقینی عراق، شام اور یمن میں جنگیں، زلزلے، طوفان، وبائیں اور بدامنی قربِ قیامت کی علامات ہیں۔ موجودہ دور میں بے یقینی کی کیفیت اور مسلمانوں کی حالتِ زار انہی پیش گوئیوں کی تصدیق کرتی ہے۔
-10 امام مہدیؑ کا ظہور قیامت کے قریب امام مہدیؑ کا ظہور ہوگا، جو امت مسلمہ کو متحد کریں گے۔ ایک بڑی جنگ، جسے ’’ملحمۃ الکبری‘‘ یا ’’آرمگڈان‘‘ کہا جاتا ہے، برپا ہوگی، جس میں ظالم طاقتوں کو شکست دی جائے گی اور دنیا میں عدل و انصاف قائم ہوگا۔
نتیجہ: یہ علامات ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ ہم ایمان پر قائم رہیں، نیک اعمال کریں، اور موجودہ فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ دنیاوی لذتوں کے بجائے آخرت کی تیاری کریں، کیونکہ قیامت کی نشانیاں ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کی ترغیب دیتی ہیں تاکہ ہم آخرت اصل اور ہمیشہ کامیابی حاصل کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں