پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا لیکن پچھلے77 سالوں سے اسلامی فلاحی ریاست کا خواب ابھی تک ادھورا ہے۔ وطن عزیز اسلامی فلاحی ریاست کیسے بن سکتا ہے؟ تاریخ اسلام کی روشنی میں اس مقصد کے حصول کیلئے کچھ ضروری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
(1) قانون سازی اور پالیسی سازی میں قرآن و سنت کو بنیاد بنایا جائے۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اسلامی تعلیمات کے مطابق کام کریں۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ روا رکھا جائے۔ عدالتی نظام کو تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ ہر شہری کو فوری انصاف ملے۔ سود پر مبنی نظام معیشت کو ختم کر کے اسلامی مالیاتی نظام نافذ کیا جائے۔زکوٰۃ، صدقات اور وقف کا موثر نظام قائم کیا جائے تاکہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہو۔ (2) دینی اور عصری علوم کے مابین حسین امتزاج پیدا کیا جائے تاکہ ایک متوازی معاشرہ تشکیل پائے۔غریبوں، یتیموں، بیواؤں، اور معذور افراد کی کفالت کے لیے ریاستی نظام کو مضبوط کیا جائے۔صحت، تعلیم، اور روزگار کی سہولیات کو ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔(3) حکمرانوں اور عوام کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم کیا جائے۔قیادت کو امین، دیانتدار اور عوام کے لیے جوابدہ بنایا جائے۔(4) میڈیا اور معاشرتی پلیٹ فارمز پر اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے۔معاشرتی برائیوں جیسے جھوٹ، کرپشن، اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے، خواہ وہ کسی بھی مذہب، نسل، یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، جیسا کہ اسلامی تعلیمات میں تاکید کی گئی ہے۔مشاورت کو حکومتی فیصلوں کا اہم جزو بنایا جائے، جیسا کہ خلافتِ راشدہ میں تھا۔ عوام کی رائے اور تجاویز کو اہمیت دی جائے۔ ہر فرد کو اپنی اصلاح اور دوسروں کی بھلائی کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دی جائے۔یہ تمام اقدامات تبھی ممکن ہیں جب حکمران اور عوام مل کر اخلاص کے ساتھ اسلامی اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کا عزم کریں۔ اسلامی فلاحی ریاست صرف قوانین کے نفاذ سے نہیں بلکہ کردار، نیت اور عمل کی تبدیلی سے ممکن ہوگی۔(5) پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی ختم کرنے کے لیے ایک جامع اور متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انفرادی، خاندانی، سماجی، اور حکومتی سطح پر عمل میں لائی جا سکے۔ اخلاقی اور دینی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔بچوں اور نوجوانوں کو کردار سازی اور اخلاقیات کی تربیت دی جائے۔ والدین کو بچوں کی صحیح تربیت کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے۔ میڈیا پر نشر ہونے والے مواد کو ریگولیٹ کیا جائے تاکہ فحش اور غیر اخلاقی مواد کا خاتمہ کیا جا سکے۔اسلامی اقدار اور مثبت معاشرتی رویوں کو فروغ دینے والے پروگرامز تیار کیے جائیں۔سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کے خلاف قوانین سختی سے نافذ کیے جائیں۔ فحاشی کے فروغ میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
علمائے کرام اور سماجی رہنما عوام میں دینی شعور بیدار کریں۔ مساجد اور دینی اجتماعات میں اخلاقی موضوعات پر گفتگو کی جائے۔ عوام میں شرم و حیا اور عفت و عصمت کے جذبات کو اجاگر کیا جائے۔ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مقامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ثقافتی و معاشرتی تقریبات میں بھی اخلاقی اقدار کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ غیر اخلاقی ویب سائٹس اور مواد کو بلاک کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ایسا کلچر متعارف کرایا جائے کہ ہر فرد قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات کرےحکومت، عوام، میڈیا، تعلیمی ادارے، اور مذہبی رہنما مل کر اس مقصد کے حصول کیلئے جد و جہد کریں۔اس کے ساتھ ساتھ فحاشی کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں آگاہی مہم چلا ئی جائے۔ یہ اقدامات مسلسل محنت اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے عمل میں لائے جا سکتے ہیں تاکہ ایک صاف ستھرا اور پر امن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ (6) پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام ملک کی ترقی، خوشحالی، اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔انتخابات کو شفاف، منصفانہ اور بروقت منعقد کیا جائے۔عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے اس نظام کو مؤثر سمجھیں۔ کسی بھی غیر آئینی طریقے سے حکومت کی تبدیلی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔تمام ریاستی ادارے (عدلیہ، پارلیمنٹ، فوج) آئین کے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ اداروں کو غیر سیاسی اور آزاد بنایا جائے تاکہ وہ اپنی ذیامہ داریاں بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ اور مشاورت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیح دی جائے۔ اہم مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، جیسے معیشت، تعلیم، صحت، اور خارجہ پالیسی۔ (7) الیکشن کمیشن کو مزید مضبوط اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ انتخابی دھاندلی کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور شفافیت پر زور دیا جائے۔انتخابی نظام کو ایسا بنایا جائے کہ عوامی نمائندے منتخب ہو کر واقعی عوام کے مسائل حل کریں۔(8) سیاست میں شائستگی، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیا جائے۔سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کریں، نہ کہ مخالفین کو نیچا دکھانے پر۔ عوامی نمائندوں کو قانون سازی اور حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے تربیت دی جائے کیونکہ سیاسی استحکام کا براہ راست تعلق معاشی ترقی سے ہے۔ لہذا معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جامع پالیسیز بنائی جائیں تاکہ عوام میں مایوسی کم ہو۔ (9) غیر ضروری قرضوں اور فضول خرچیوں سے بچا جائے، اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔میڈیا غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرے، اور نفرت انگیزی یا انتشار پھیلانے سے گریز کرے۔سول سوسائٹی سیاسی شعور اجاگر کرے اور عوام کو جمہوری عمل میں شامل کرنے کے لیے کام کرے۔ سیاسی تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ (10) نوجوانوں کو سیاست میں مثبت کردار ادا کرنے کیلئے اچھا ماحول مہیا کیا جائے۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ عوام مایوسی کا شکار نہ ہوں۔کرپشن کا خاتمہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔احتساب کا عمل شفاف ہونا چاہیے۔ طاقتور طبقوں کی لوٹ مار اور وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔(11) پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنا چاہیے تاکہ کسی بیرونی دباؤ یا مداخلت سے سیاسی عدم استحکام پیدا نہ ہو۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں تاکہ داخلی سیاست پر ان کے منفی اثرات کم ہوں۔ سیاسی استحکام کے لیے سب سے ضروری عنصر عوام کا اعتماد ہے، جو صرف اس وقت پیدا ہو گا جب حکمران اور سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں گی اور ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں گی۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے سماج کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔