(گزشتہ سے پیوستہ)
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ روس کا جوہری ڈاکٹرائن ہے کیااوراس میں کیاتبدیلی کی گئی ہے؟
کریملن کے مطابق روس کے جوہری ڈاکٹرائن پرپہلی بار صدرپیوٹن نے2020میں دستخط کیے تھے جبکہ اس کے تازہ ترین ورژن کی چنددن قبل منظوری دی گئی ہے۔اس تازہ ڈاکٹرائن میں بتایاگیاہے کہ روس کن حالات میں اپنے جوہری ہتھیاروں کااستعمال کر سکتا ہے۔ 2022 میں جب سے روس نے یوکرین پرحملہ کیاتھاتب سے پیوٹن اورکریملن کے دیگراہم اشخاص نے اکثرمشرقی طاقتوں کواپنےپاس موجود جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے خبردار کیا تھاتاہم کیئو کےاتحادی یوکرین کواربوں ڈالر کے جدیدہتھیاردینے سےنہیں رکے اوران میں سے کچھ ہتھیاروں کو روسی سرزمین پراستعمال کیاجاچکاہے۔
تجدیدشدہ دستاویزمیں روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کوڈیٹرینٹ(کاوٹ پیدا کرنے کے ایک ذریعہ) کے طورپربیان کیاہے۔دستاویز میں کہاگیاہے کہ روس کی جانب سے ان کا استعمال ایک ’’انتہائی اور مجبوراقدام‘‘ہوگا۔اس بات پرزوردیاگیاہے کہ روس جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے’’خطرے کوکم کرنے اوربین الریاستی تعلقات میں کشیدگی بڑھنے سےروکنے کیلئےتمام ضروری کوششیں کرتاہے جوجوہری تنازعات سمیت فوجی تنازعات کوجنم دے سکتے ہیں‘‘۔
دستاویزکےمطابق اس طرح کی حکمت عملی’’ ریاست کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت‘‘کو برقراررکھنے کیلئےکی گئی ہے تاکہ ممکنہ حملہ آور کارروائی کرنے سے بازرہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ’’اگرکوئی فوجی تنازع جوکشیدگی اختیار کرنے لگے تواسے ایسی شرائط کی بنا پرروکاجاسکے جوروس کیلئے قابل قبول ہوں‘‘۔ ڈاکٹرائن میں مزیدکہاگیا ہے کہ روس کی جوہری طاقت کے استعمال کی سٹریٹجی کامقصدہے کہ ’’کوئی بھی ممکنہ حریف روس اوراس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی کرے تو اسے معلوم ہوکہ اس کانتیجہ کیاہوگا‘‘۔
دستاویزمیں روس نے واضح نہیں کیاہے کہ وہ جوہری ہتھیارکب اورکیسے استعمال کرے گاتاکہ مشرق کو روس کی اگلی چال کے بارے میں یقینی طورپرمعلومات نہ ہوں۔تاہم اس تجدید شدہ ڈاکٹرائن میں یہ ضروربتایاگیاہے کہ پیوٹن روایتی جھڑپوں میں بھی جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ڈاکٹرائن کی تبدیلیوں پر مہینوں سےکام ہورہاتھا۔یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ منگل کوکیاجانےوالایہ اعلان امریکاکے یوکرین کوروس کے خلاف طویل فاصلہ طے کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی اجازت کے بعدکیاگیا ہے۔
روسی جوہری ڈاکٹرائن کی تازہ ترین تبدیلیوں کے مطابق اگرایک غیرجوہری ریاست کو روس پرحملہ کرنے کیلئے ایک جوہری طاقت کی حمایت حاصل ہے،تواسے روس پرمشترکہ حملہ تصورکیا جائے گا۔اب ان تبدیلیوں کے تحت روس پرروایتی میزائلوں، ڈرونزیاہوائی جہازوں سے بڑا حملہ روس کی جانب سے جوہری ردعمل کے معیار پر پورا اتر سکتاہے۔مثال کے طورپراگر بیلاروس پرحملہ ہویاروس کی خودمختاری کوکوئی سنگین خطرہ لاحق ہوتووہ جوہری ردعمل دے سکتاہے۔اس تبدیلیوں کے بعدروس کے خلاف کسی ایسے ملک کی جارحیت جو کسی اتحادکارکن ہو،ماسکوپورے گروپ کی طرف سےجارحیت تصورکرے گا۔ یعنی جوہری نظریےمیں تبدیلیوں کےمطابق ممکنہ جوہری ردعمل کےدائرے میں آنے والے ممالک ، اتحادوں اورفوجی خطرات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
پیوٹن پہلے بھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے چکے ہیں جس پریوکرین نے تنقید کرتے ہوئے اسے’’جوہری دھمکی‘‘ قراردیا تھا اوراسے اپنے اتحادیوں کومزیدمددفراہم کرنے سے روکنے کی روسی کوشش کہاتھاتاہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لارف نے کہاہے کہ’’ہم اس بات کے سخت حامی ہیں کہ جوہری جنگ سے ہرحال میں بچا جائے۔ریوڈی جنیرو میں جی20اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس میں سرگئی لاروف نے کہاکہ اس گروپ نے جس میں روس بھی شامل ہے،ایک اعلامیے پردستخط کیے ہیں جس میں واضح طورپرکہا گیاہے کہ’’ہم ایک ایسی دنیاکی طرف بڑھناچاہتے ہیں جوجوہری ہتھیاروں سے پاک ہو‘‘۔جوہری ڈاکٹرائن میں تبدیلی کے حوالے سے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’’ دوسری اقوام ان تبدیلیوں کا بغور مطالعہ کریں۔یہ ایک انتہائی اہم تحریرہے اس کابغورتجزیہ کریں‘‘۔
اہم مغربی خبررساں اداروں نے یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کے استعمال کی تصدیق کی ہےکہ امریکا کی جانب سے یوکرین کوطویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ساختہ میزائلوں کے ذریعے روس پر حملوں کی اجازت دینے کے ایک دن بعد،یوکرین نے پہلی باریہ میزائل روسی علاقے کے اندرکسی ہدف پرداغ دیے ہیں۔اس حملے میں شمال میں یوکرین کی سرحد سے متصل روس کے برائنسک کے علاقے کونشانہ بنایا گیا ہے۔
روسی وزارت دفاع نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ یوکرین کی جانب سے یہ میزائل حملہ مقامی وقت کے مطابق 03:25 پرکیاگیا۔اس حملے میں پانچ میزائلوں کو مار گرایاگیااورایک میزائل کونقصان پہنچاجبکہ اس کے کئی ٹکڑوں سے علاقے میں موجودایک روسی فوجی تنصیب میں آگ لگ گئی اوراس آگ کوفوری طورپربجھادیاگیااورکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس سے قبل یوکرین کی فوج نے تصدیق کی تھی کہ روسی علاقے کراچیف کے قریب سرحد سے100کلومیٹردورایک اسلحہ ڈپو پرہونے والے حملے میں12دھماکے ہوئے۔اس نے روسی علاقے برائنسک میں گولہ بارودکے گودام کونشانہ بنایا تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیاتھا کہ آیاان میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کااستعمال کیاگیاتھا۔
ادھرروس کے وزیرخارجہ سرگئی لاورف نے واشنگٹن پرتنازع کوبڑھانے کاالزام عائد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ’’برائنسک کے خطےمیں گذشتہ رات باربارامریکی میزائلوں کااستعمال کیا گیا جویقینااس بات کااشارہ ہے کہ وہ (امریکا) کشیدگی بڑھاناچاہتے ہیں۔جیساکہ پیوٹن کئی بارکہہ چکےہیں کہ امریکیوں کے بغیر،ان ہائی ٹیک میزائلوں کااستعمال ناممکن ہے ۔ روس’’یہ سمجھتے ہوئے آگے بڑھے گاکہ ان میزائلوں کوامریکی فوجی ماہرین چلارہے ہیں‘‘۔
انہوں نے ریو ڈی جنیرومیں جی20کے اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہاکہ’’ہم اسے روس کے خلاف مغربی جنگ کے ایک نئے چہرے کے طورپرلیں گے اور ہم اس کے مطابق ردعمل ظاہرکریں گے‘‘۔ یادرہے کہ یوکرین پہلے ہی ایک سال سے زیادہ عرصے سے روس کے زیرقبضہ یوکرینی علاقوں میں ان میزائلوں کا استعمال کررہاہے۔یہ میزائل 300 کلومیٹر تک کے اہداف کونشانہ بناسکتے ہیں اور انہیں روکنامشکل ہے۔کیئواب میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے روس میں اندرتک حملہ کرنے کے قابل ہے،بشمول کرسک کے علاقے کے ارد گرد،جہاں یوکرین کی افواج ایک ہزار مربع کلومیٹرسے زیادہ علاقے پرقابض ہیں۔ یوکرین اورامریکی حکام مبینہ طورپرخطے میں جوابی کارروائی کی توقع رکھتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ روس کی طرف سےجوابی حملے کی صورت میں رخصت ہونے والے امریکی صدرجوبائیڈن نے جوکانٹے بچھادیئے ہیں، ٹرمپ اپنادامن ان سے کیسے بچائیں گے کہ انہوں نے تونہ صرف امریکی عوام سے بلکہ پوری دنیا کے سامنے جنگیں بندکروانے کاعہد کیا ہے! کیاٹرمپ اپناوعدہ پوراکرسکیں گے یاپھرجنگی مافیا کے احکام پر سرجھکاکرپرانی تنخواہ پرکام کرنے میں اپنی عافیت سمجھیں گے اوردنیاایک بارپھراس کو ٹرمپ کی بڑھک سمجھ کراگلے انتخاب کا انتظار کریں گے؟