Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جوہری خطے میں ڈرونز: جنگی ٹیکنالوجی کی نئی حقیقت

(گزشتہ سے پیوستہ)
انڈیاکی ڈرونزکی صلاحیت،چاہے وہ مقامی سطح پرتیارہویادرآمدکیاگیاہو،بنیادی طورپرکم اوردرمیانی او نچا ئی تک جانے والے ڈرونزتک محدودہے۔بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت والے جدیدڈرونزکے لئے انڈیا کو دوسرے ممالک پرانحصار کرناپڑتاہے۔فوج نے ان کی کمپنی کے ساتھ بلندی پرپروازکرنے والے اورعمودی پروازکرنے والے ڈرونزفراہم کرنے کے کئی معاہدے کیے ہیں جوسرحدی علاقوں کی نگرانی میں فوج کے لئے ایک مفیدہتھیارثابت ہوسکتے ہیں۔یہ ڈرونز ممکنہ طور پر انتہائی بلندی پرمنفی درجہ حرارت میں بھی پروازکر سکتے ہیں اورآسمان پرطویل عرصے تک بغیر’’ ٹریس ‘‘ ہوئے اپنا کام انجام دے سکتے ہیں۔کمپنی کے ڈرونز کو شہری مقاصد کے ساتھ ساتھ کشمیرمیں مجاہدین آزادی کا پتہ لگانے کے لئے استعمال کیاجاچکاہے۔
جبکہ دوسری طرف پاکستان ترکی اورچین سے ڈرونزدرآمدکرتاہے جبکہ اس نے جرمنی اوراٹلی سے بھی ڈرون خریدے ہیں۔ پاکستان کے پاس ترک ساختہ جدید ’’بیراکتر‘‘ڈرونزٹی بی ٹواورایکنجی ہیں جبکہ اس نے چین سے’’وینگ لونگ ٹو‘‘اور’’سی ایچ ‘‘جیسے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔تاہم پاکستانی ماہرین نے براق اورشہپرجیسے بعض ڈرونزخودبھی بنائے ہیں ۔ 2022ء کے دوران پاکستان نے فلیگ شپ ڈرون’’شہپرٹو‘‘کی نمائش کی تھی جس کے بارے میں بتایاگیاکہ یہ ایک ہزار کلو میٹرتک پروازکرکے ہدف کو نشانہ بناسکتاہے۔یہ اپنے ہدف کو لیزربیم سے لاک کرکے اس کومیزائل کی مددسے تباہ کر سکتا ہے۔پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے پہلے ’’ابابیل‘‘کے نام سے سرویلنس ڈرونز بنائے گئے تھے جنہیں جنگی مقاصدکے لئے مسلح کیاگیاتھا۔
جدید لڑاکاڈرون شاہپرتھری اہم حربی خصوصیات اورہتھیاروں سے لیس ہے،درمیانی پرواز کے ساتھ جدید ہتھیاروں اورنظام سے لیس یہ ڈرون 30گھنٹے تک طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ شاہپر ڈرون 1650کلوگرام وزنی ہتھیار لیجا سکتاہے جب کہ اس میں مقامی طورپرتیارکردہ خصوصی ایویونکس اورجدید فلائٹ کنٹرول سسٹم نصب ہے۔واضح رہے کہ ملک کادفاعی مصنوعات کاادارہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشن اس سے قبل شاہپرون اورٹوبھی متعارف کراچکاہے۔
یادرہے کہ پاکستان کی فضائیہ ڈرون اورروایتی ذرائع کے اشتراک سے انڈیاکے ایس400 اور پرتھوی کے جدید فضائی دفاعی نظام کومؤثرطریقے سے ٹارگٹ کرکے انڈیاکے فضائی دفاعی نظام کومفلوج کرسکتی ہے۔عالمی دفاعی تجزیوں کے مطابق پاکستان دنیا میں چوتھاڈرون پاورماناجاتاہے۔ان کے پاس بہت جدید قسم کے ڈرون ہیں اوران کے ڈرون ئیک کی تھی تو پاکستان کے پاس فضائی مواصلاتی نظام کوجام کرنے کی صلاحیت تھی۔پاکستان نے انڈین پائلٹ کے مواصلاتی نظام کوجام کردیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے ان دونوں جنگی طیاروں کومارگرایااوران کاپائلٹ بھی گرفتارکرلیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس سے اگلے دن ہی اعلانیہ جوابی حملہ کرکے اپنی صلاحیتوں کالوہامنوالیاجس کے بعدانڈیا اور اس کے اتحادی بالخصوص امریکاکوبھی اپنے لنگڑے گھوڑے کی حیثیت کاپتہ چل گیا۔
دوسری طرف ’’چین بھی ملٹری ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل چکاہے۔عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان اورچین ایک دوسرے کے ساتھ ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی پر مل کرکام کررہے ہیں۔پاکستان کے پاس آج بہت زیادہ صلاحیت ہے۔ان کی فضائیہ بہت مضبوط ہوگئی ہے اوراس میں بہت بڑاکردارچین کاہے۔ چین گزشتہ15برس سے ملٹری ٹیکنالوجی پرکام کررہا ہے۔ 5اگست 2019کے بعدچین اور پاکستان کے درمیان فوجی اشتراک بہت مضبوط ہواہے جس کامنہ بولتاثبوت پاکستان میں مکمل طورپرتیار ہونے والاجنگی طیارہ’’جے ایف تھنڈرــ17‘‘دنیامیں اپنی کارکردگی کالوہامنواچکاہے اورپاکستان نہ صرف اس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوچکاہے بلکہ کئی دیگرممالک کویہ طیارے فروخت کرنے کے معاہدے بھی کرچکاہے‘‘۔
جے ایف17تھنڈربلاک تھری ایک ایکٹوالیکٹرونکلی سکینڈایرے(اے ای ایس اے)ریڈار اور لانگ رینج بی وی آرسے لیس4.5 جنریشن کاملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جومختلف قسم کے جنگی مشنزمیں حصے لینے کی صلاحیت رکھتاہے۔لاک تھری کے جے ایف17 طیارے سب سے زیادہ ایڈوانس ماڈل کے ہیں اوراس کی مددسے پاکستان ایئرفورس کو علاقے میں بدلتی ہوئی صورتحال میں مزاحمت کی قوت میں توازن برقراررکھنے میں مدد ملتی ہے۔بلاک تھری جے ایف17کااگلا ورژن ہے۔جس میں نئے ریڈارلگائے جائیں گے ،اس ورژن کاجہازنئے اورجدیدہتھیاروں اورمیزائلوں سے بھی لیس ہوگا۔الیکٹرانک وارفیئرکی صلاحیت کوبھی بڑھایا جائے گااورہرزاویے سے اس میں بہتری لائی جائے گی‘‘۔
تاہم اب جووارفیرہے اس میں فزیکل فیلڈمیں یعنی جہاں جہاں لڑائی میں انسان کام کرتے تھے،وہ اب انسان سے مشین کی طرف شفٹ ہورہی ہے۔فزیکل کامطلب زمین، سمندر ، آسمان،زیرسمندر اورخلا،ان سب میں ڈرون کااستعمال بڑے پیمانے پرہونے جارہاہے۔ یہ مختلف ملکوں میں ان کی ٹیکنالوجی کی مناسبت سے الگ الگ سٹیجزمیں ہورہاہے ۔ابھی ڈرون پوری طرح مواصلات کے ذریعے کنٹرول کیے جارہے ہیں۔یہ کوئی ڈرون کی ریس نہیں ہے بلکہ یہ وارفیئرمیں ہونے والی تکنیکی تبدیلی کااشارہ ہے۔دنیا اب ڈرون وارفیئرکے مرحلے میں ہے اورڈرون وارفیئرموجودہ وقت اورمستقبل کاوارفیئرہے۔
یوکرین اورغزہ کی جنگوں میں ڈرونزکابہت استعمال ہورہاہے۔ڈرونزان جگہوں پرزیادہ کارگرثابت ہوتے ہیں جہاں جس فریق پر حملہ ہورہاہوان کے پاس فضائی دفاعی نظام بہت کمزورہو۔ڈرونزکاجواستعمال آپ غزہ اورکئی دوسری جگہوں پردیکھ رہے ہیں، وہاں جن پرحملہ ہورہاہے،ان کے پاس ایئرڈیفنس سسٹم،یا آرمڈ ائیرفورس جوکہ ڈرون سے زیادہ باصلاحیت ہو، موجود نہیں لیکن اگرآپ انڈیااورچین کی مثال لیں تو چین کے موجودہ جدیدڈرونزانڈیاکے انہیں علاقوں میں کارگرثابت ہوں گے جہاں کوئی ایئرفورس نہ ہو،یاجنگی جہازنہ ہوں۔ باقی جگہوں پروہ کامیاب نہیں ہوں گے۔پاکستان،چین یاانڈیامیں فضائی دفاعی نظام مثلا ریڈار،کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم(جوکہ ایئرسپیس کو کنٹرول کرتے ہیں)اور فضائیہ بہت مضبوط ہے۔ یہاں تک کہ ڈرونزبھی دشمن کے ڈرون کو روک سکتے ہیں۔یہاں ان کارول بنیادی طور پر فضا میں بہت اونچائی پر پروازبھرکے دشمن کے مخصوص علاقوں پر نظررکھنے اورمخصوص ٹارگٹ کی جاسوسی کرنے اوراہم تصاویر حاصل کرنے تک محدودرہے گا۔
گزشتہ آٹھ دس برس میں جنگوں کی نوعیت تبدیل ہوئی ہے اورڈرون اب ان کاایک اہم حصہ ہیں۔ ڈرون اب روایتی جنگ کے بڑے پلیٹ فارم جیسے ٹینک،آرٹیلری وغیرہ کوکافی حدتک نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس پردونوں ممالک کافی حد تک توجہ مرکوزکررہے ہیں۔انڈیااورپاکستان کے درمیان اس جنگی ڈرون کی دوڑ بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے جومودی کاوہ جنگی جنون اوربرہمنی چانکیہ سوچ ہے جووہ اس خطے میں پڑوسیوں پردھاک بٹھانے کے لئے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ریموٹ کنٹرول وارفیئربڑھے گاکیونکہ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے ساتھ مشین انسان کی جگہ لے لے گی۔ تاہم اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان اورانڈیاکے لئے عسکری ڈرونزکابڑھتااستعمال ’’خوفناک خطرہ پیدا کر سکتا ہے‘‘ کیونکہ اس میں ’’غلطی کاامکان ہے‘‘۔ دونوں جوہری ممالک ہیں اوراگرغلطی سے بھی کوئی ڈرون کسی جوہری تنصیب کے اوپرآگیاتویہ خوفناک غلطی گمبھیر مسئلہ پیداکردے گی جس کے نتائج ماسوائے مکمل انسانیت کی بربادی کے سواکچھ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں