Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

انا کی موت،زندگی کی حقیقت

ان کاطریقہ بھی عجیب تھا۔کوئی وعظ ونصیحت نہیں کوئی فوں فاں نہیں کوئی بقراطی نہیں، دبدبہ نہ طنطنہ سرٹیفکیٹ نہ کوئی ڈگری نہ ہی کبھی کہا:آیہ دیکھو صفحہ نمبرفلاں پریہ لکھاہے، دیکھو غورسے کچھ بھی تونہیں۔ان کے پاس عاجزی تھی، انکساری تھی،نفی تھی۔بہت چھوٹےچھوٹے جملوں میں بندکتابیں تھیں،محبت بھری شفیق باتیں۔ اپناپن لیے ہوئے سراپا محبت و ایثار ووفا۔کبھی خفانہیں ہوئے،لاکھوں غلطیاں کیں گستاخیاں کیں بدتمیزی توکسی گنتی میں نہیں آتی۔سب کچھ کیالیکن ان رب کی نشانیوں نے کبھی نہیں دھتکارا۔جتنی زیادہ سرکشی کی،ان سے اتنا زیادہ پیارملا۔کس مٹی کے بنے ہوئے تھے اور ہیں۔کہتے تھے: اچھابچہ لاکھ کااوربدسوالاکھ کا۔کچھ سمجھ میں نہیں آیاتوپوچھاتھا:یہ کیاکہتے ہیں آپ؟مسکرائے اورکہا:جوبچہ خودہی اچھاہواس کی کیا فکرکرنی!جوبدہے اسے دیناہے ناپیار،اس کا رکھناہے خیال،کہیں دلدل میں نہ دھنس جائے،کسی گڑھے میں نہ گرجائے، اندھیرے میں گم نہ ہوجائے راہ کھوٹی نہ کربیٹھے خود کو برباد نہ کربیٹھے‘ بہت خیال رکھنا ہے اس کا۔
عجیب سی باتیں کرنے والے لوگ جنہیں لوگ پاگل سمجھتے ہیں،چریاکہتے ہیں۔بات کوپالینے والے پاگل،محبت میں بسے ہوئے چریا۔ جب موت آئے گی تومرجاؤگے،کوئی سفارش نہیں چلے گی، کوئی کام نہیں آئے گا،نہ کوئی رشوت نہ کوئی دھمکی۔اگر مرنے کا مزا پاناہے تو ابھی کیوں نہیں مرجاتے مرکر دیکھو کیساسکون ہےکیسی راحت کیسی حلاوت۔ہرکوئی جنت کا طلبگارلیکن اس نعمت کے حصول کیلئے مرنا ضروری ہے۔پھرسمجھ میں نہیں آیا تو پوچھا کیسے؟ کہہ دیایہ توتم خودجانو،کہہ کر خاموش ہو گئے پھرایک دن میں نے انہیں جالیاتوکہنے لگے خود کومردہ سمجھناشروع کردو،پھرطریقہ بھی سمجھایا، بہت مزاآیا۔ہاں اس میں ہے حلاوت شیرینی اورسکون۔
مردےکبھی کسی کوایذانہیں پہنچاتے، آزار نہیں دیتے،غیبت نہیں کرتے چغلی نہیں کھاتے، سازشیں نہیں کرتے۔نظرتوزندہ آ اور سب کے کام آ،سمجھو خودکومردہ۔ کوئی طلب نہیں، کسی صلہ وستائش کی پروانہیں،کسی کی گالی طعنہ کچھ بھی نہیں۔بس دیتے جا،دیتے جا۔ رب کی مخلوق توطرح طرح کی ہے ناں۔ رنگارنگ ہے سب ایک جیسے ہیں نہ ہوسکتے ہیں۔ ہمیں مخلوق میں رہتے ہوئے ان کی خدمت کرتے ہوئے رب کوپاناہے،کوئی کچھ کہے گا،کوئی کچھ سمجھے گاتوسمجھنے دو، پرواہ نہ کرو۔کوئی الزام کوئی طعنہ تمہاری راہ کھوٹی نہ کرے اور کوئی تعریف تمہیں غبارے کی طرح پھلا نہ سکے توبس رب کو دیکھورب کے بندوں کودیکھو۔کوئی بھوکاہے تو اسے نصیحت نہ کرواسے کھانا کھلا،پیاسے کوپانی پلا، دوروٹھے ہوئوں میں پل بن جااورخودقلی بن کر دوسروں کابوجھ اٹھا،اپنےلیے نہیں بندوں کیلئے طلب کرو، اپنے لیے ہی نہیں۔
بندوں کیلئے تھکواوردیکھوتھکتاوہ ہے جو کسی چیزکاطلب گارہو۔تجارت وکاروبارِزندگی تھکادیتے ہیں اوردیکھو محبت میں انسان کبھی نہیں تھکتا کبھی بھی نہیں۔ہردم ہرلمحہ تیار رہتا ہے، محبت اسے تھکنے ہی نہیں دیتی۔محبت کاتعلق کبھی پرانانہیں ہوتا کبھی نہیں مرجھاتا۔ہردم تازہ دم رہتاہے،محبت کابوٹاسدابہار ہے اسے خزاں نہیں گھیر سکتی۔بے لوث بے غرض محبت نخلستان ہےٹھنڈا میٹھابہتادھارا،پرسکون ندی اورگہری جھیل۔ محبت بن جائو سراپا محبت ودعا۔مخلوق کیلئے ہاتھ پھیلاؤ، ان کاسائبان بن جاؤ۔ کسی کودومیٹھے بولوں کی ضرورت ہےتوضروربولو۔
کوئی اداس ہےتواسےلطیفہ سناؤ،امیددلاؤ۔ ہنس کربات کرواوراسے ہنسائو، اپنازخم چھپاؤ ، دوسرے کےزخم پرمرہم رکھو۔مردہ بن جاؤجوکوئی شے طلب نہیں کرتا۔کوئی آگیا پھول رکھ کرچلاگیا، اگربتی جلاکرخوشبوپھیلاگیا بن مانگے ہی۔تورب بنائے گا بگڑی،پارلگائے گانیا۔ اس اندھیری رات میں سے روشن کرے گاسحر۔
وہ تومردے میں سے زندہ وجود نکال لیتاہے اورزندوں کوخاک میں ملادیتاہے،لوگوں کے عیوب پرپردہ ڈالو،تمہاراپردہ اللہ رکھے گا۔محتاجوں کوبے آسرامخلوق کوسینے سے لگاان کیلئے جیو اپنے لئے مرجا۔نعمتیں ملیں توشکر،نہ ملیں توصبراور صبرسے بڑھ کردولت کیاہوگی!جب وہ کائنات کاخالق ومالک صبرکرنے والوں کے سنگ ہے توپھرکیسی اداسی کیسی مایوسی ! ہاں اپنی ’’انا‘‘چاہے عام ہویاخاص،اس کوختم کرناہوگا۔
بیشتروقت لوگ سوالات کرتے رہے اوروہ جواب دیتے رہے،نشست ختم ہورہی تھی کہ آخرمیں انھوں نے لوگوں سے یہ سوال پوچھ لیا۔اللہ کی راہ میں سب سے مشکل کام کیاہے؟ جوابات آئے اوربیشترلوگوں کی رائے تھی کہ اپنی جان دے دینااس راہ کاسب سے مشکل اوربڑاکام ہے۔وہ خاموش رہے اوراس رائے پرلوگوں کااجماع ہوتے دیکھتے رہے۔ جب سب بول چکے تو انہوں نے اپنے سوال کاخودہی جواب دیناشروع کیا۔
بے شک جان دینابہت بڑی بات ہے۔اللہ کیلئے جان دینے کے توکیاہی کہنے اوراس کاکیاہی بڑا اجرہے مگرغورکیجیے کہ انسانی تاریخ میں جوہزاروں جنگیں ہوئیں ہیں،ان میں کروڑوں لوگوں نے پورے شعورسے اپنے ملک، قوم، بادشاہ اورمتعدد دیگربڑے مقاصدکی خاطر جان دی ہے اورآج بھی دیتے ہیں۔اتناکہہ کرخاموش ہوگئے۔لوگوں کواندازہ ہوچکاتھاکہ ان کی رائے لوگوں سے مختلف ہے۔وہ اب اس رائے کوجاننے کے منتظرتھے۔وہ ہم سب کاانتظارختم کرتے ہوئے بولے! انسان دوچیزوں سے مرکب ہے۔ایک اندرونی شخصیت اوردوسراظاہری جسم۔جان دینا ظاہری جسم کی قربانی ہے،بے شک یہ بڑی بات ہے،مگرجان دینے پرابھارنے کیلئے ایک قادر الکلام مقررکی زوردارتقریر،جذبات میں ہلچل پیداکردینے والی فیصلہ کن گھڑی اورمحبت ونفرت کے جذبے کی شدت کاکوئی لمحہ کافی ہوتاہےمگر اپنی اندرونی شخصیت کوقربان کرنا جسے عام الفاظ میں اناکوقربان کرناکہتے ہیں،اس دنیاکامشکل ترین کام ہے۔انسان کسی بناپرکسی خاص لمحے میں یہ کربھی لے تواگلے لمحے میں انازندہ ہوجاتی ہے۔کسی جذبے کی وجہ سے کسی خاص شخص کے سامنے یہ کربھی کرلے تودوسرے شخص کے سامنے اناتن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اناکوختم کر دیا ہے، مگروہ پوری طرح موجودہوتی ہے۔
تویہ کیسے پتہ چلے گاکہ انا ختم ہوئی یانہیں؟
بتاتاہوں،مگرپہلے یہ سمجھ لیں کہ انادو قسم کی ہوتی ہے۔ایک عام اوردوسری خاص۔عام انااپنااظہار بہت کھل کرکرتی ہے،اس لیے اس کوجاننابڑاآسان ہے۔یہ وہی چیزہے جسے تکبرکہتے ہیں۔ یعنی خودکوکسی بھی پہلوسے بڑا سمجھنا اور دوسروں کوچھوٹا سمجھنا۔کوئی بھی اس کی نشاندہی کرسکتاہے اورہم مخلص ہوں توفورااپنی اصلاح کرسکتے ہیں چنانچہ جب ہم خودکو بڑا اور دوسروں کوچھوٹاسمجھناچھوڑدیتے ہیں تواس عام اناسے نجات پالیتے ہیں جبکہ خاص اناکولوگ سات پردوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ خود کو حقیرو فقیرکہنے والوں کی انابھی آسمان تک بلندہوتی ہے اوران کوخبر بھی نہیں ہوپاتی۔
اس اناکوکیسے پہچاناجائے؟ایک اورشخص نے سوال کیا۔
اس کی پہچان آسان نہیں مگراس کی کچھ موٹی موٹی نشانیاں بتادیتاہوں۔پہلی یہ کہ آپ کسی اورانسان کی خوبیوں کے اعتراف کی عادت نہ رکھتے ہوں۔دوسری یہ کہ جب آپ پرتنقید کی جائے توآپ ناقدکی بات سمجھنے سے پہلے ہی اس کی بات کاجواب سوچنے لگیں اورتیسری یہ کہ جب کوئی شخص آپ کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرے توآپ کوشش کرکےکسی نہ کسی طرح اس میں بھی فوراًکوئی خرابی اورخامی تلاش کرنا شروع کر دیں۔ ان میں سے ہررویہ یہ بتاتاہے کہ آپ اناکے مریض ہیں لیکن چونکہ تکبرایک سماجی برائی سمجھاجاتاہے اس لیے آپ اسے چھپاکررکھتے ہیں لیکن جس نے اپنے مرض کوسمجھ لیاوہ یقینااس سے نجات پالے گا!
بہت مزے کی بات کہتے تھے:کم کوزیادہ جانواورمیں آج تک اس پرعمل نہیں کرسکا۔ بولتارہتاہوں۔چلئے آج اتناہی، زندگی بخیررہی توملتے رہیں گے دنیاکے کام توچلتے رہیں گے آپ سب سداخوش رہیں۔آبادرہیں۔دل شادر ہیں۔ کچھ بھی تونہیں رہے گابس نام رہے گا اللہ کا۔
بکھرائے تیرے رنگ ہواؤں نے ہرطرف
کوئی نہیں ہے ترے سواخشک وترمیں بھی
سیراب ہوگئے ہیں تری اک نظرسے ہم
کیاکیا قیامتیں ہیں تری اک نظرمیں بھی

یہ بھی پڑھیں