Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

اکابر کی فکر اور پارا چنار

مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ کی خدمت میں ایک دن نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا مزاج کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں!ٹھیک ہے، میاں!مزاج کیا پوچھتے ہو؟ عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا ، حضرت!آپ کی ساری عمرعلم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت میں گزری ہے، ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں، آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ تو حضرت ؒ نے فرمایا کہ میں تمہیں صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کردی میں نے عرض کیا کہ حضرت!اصل بات کیا ہے؟ فرمایا، ہماری عمروں کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کردیں۔ امام ابو حنیفہ ؒکے مسائل کے دلائل تلاش کریں، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔اب غور کرتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی!پھر فرمایا: ارے میاں!اس بات کا کہ کون سا مسلک صحیح تھا اور کون سا خطا پر ؟ اس کا راز تو کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا؟(نماز میں)آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا؟ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔
روز محشر اللہ تعالیٰ نہ امام شافعی ؒ کو رسوا کرے گا، نہ امام ابوحنیفہ ؒ کو، نہ امام مالک ؒ کو،اور نہ امام احمد بن حنبل ؒ کو اور نہ میدان حشر میں کھڑا کرکے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابوحنیفہ ؒنے صحیح کہا تھا یا امام شافعی ؒنے غلط کہا تھا، ایسا نہیں ہوگا۔تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں ، نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑکر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، جو سب کے نزدیک مجمع علیہ اور وہ مسائل جو سبھی کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیا کرام علیہم السلام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا، وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج اس کی دعوت ہی نہیں دی جارہی ، یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے اور اغیار سبھی دین کے چہرے کو مسخ کررہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے ، الحادی آرہاہے، شرک وبت پرستی چلی آرہی ہے، حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں، اس لیے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ عمر ضائع کردی۔(وحدت امت، ص: ، مفتی محمد شفیع ؒ) حضرت اقدس سید محمد انور شاہ کاشمیری نور اللہ مرقدہ علم وعمل کے دھنی اور تقویٰ کے پہاڑ تھے، مندرجہ بالا دونوں سربلند علماء کے اس بصیرت افروز مکالمے کی روشنی میں آج ہم سب اپنی اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں،ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟آج فرقہ پرستی ،سیاسی انتشار ،قوم پرستی،اور لسانیت زدگان نے پاکستان کی جڑوں تک کو کھوکھلا کر ڈالا ہے،بظاہر اچھے اچھے پڑھے لکھے سمجھے جانے والے لوگوں کو جب یہ خاکسار قوم پرستی اور فرقہ واریت کی لت میں مبتلا دیکھ کر سر پکڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے،فرقہ وارانہ تشدد نے ہمیں یہ دن بھی دکھانا تھا کہ اس ’’لت‘‘میں مبتلا ظالموں نے مخالف فر قے کے بزرگ کا سر کاٹ کر رینجرز کی چیک پوسٹ پر ایستادہ کر دیا،توبہ،توبہ توبہ،فرقہ پرستی کی بدبو بظاہر اچھا بھلا انسان دکھنے والوں کو بھی نجس جانوروں سے بھی بدتر کر دیتی ہے،فرقہ پرستی کی آگ میں جلنے والے انسانی شکل میں ہونے کے باوجود جنگل کے درندوں سے بھی بدتر ہو چکے ہیں،جو مسلمان کہلانے کے باوجود ایک دوسروں کے معصوم بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے حتیٰ کہ زندہ جلانے سے بھی دریغ نہ کریں ،یہاں تک کہ بزرگوں کو پہلے قتل کریں اور پھر ان کے سر کاٹ کے چیک پوسٹ پر سجا دیں۔یقینا علامہ اقبال ؒنے ایسے بد بختوں کے لئے ہی کہا تھا کہ یہ وہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود،خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں خون ریز کشیدگی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
ذمہ دار ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، اور تقریبا ًنو دنوں میں حملوں اور تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد کے 124 سے متجاوز ہو گئی ہے۔اخبارات میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق بگن کے علاقے میں لشکر کشی کے بعد علی زئی، ٹالوگنج ، جیلامیے، کونج علیزئی ، مقبل ،خارکلے اور بلیش خیل سمیت پورے کرم میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ہوئی اس لڑائی کو روکنے میں نہ تو بالوں والی ’’گنڈاپوری سرکار‘‘کو کوئی دلچسپی ہے،اورنہ ہی اسلام آباد کے مالک ’’شہباز شریف سرکار‘‘کو،جبکہ دوسری طرف ملک بھر کے عوام میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے، خیبر پختونخوا میں چیک پوسٹوں، مسافر بسوں پر حملے اور کرم میں پائی جانے والی بدامنی اور خون ریزی کے واقعات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور لوگوں کو حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور گنڈا پوری سرکار اسلام آباد فتح کرنے اور اڈیالا جیل کے قیدی نمبر 804کو رہا کروانے کے مشن پر گامزن ہے، لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کا اس وزیر اعلیٰ گنڈا پور کو احساس ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ جو اپنے کارکنوں کو چلتی گولیوں کے سامنے چھوڑ کر خود ڈی چوک سے فرار ہو چکا ہو، وزیر اعلیٰ، علی امین گنڈا پور کو، کے پی کے حکومت دینے والوں کو اس خاکسار کا آٹھ فرشی ’’سلام ‘‘پہنچے،پارا چنار میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا کھوج لگانا ضروری ہے،یہ لڑائی زمین کی وجہ سے ہوتی ہے یا فرقہ واریت کی بنیاد پر ؟ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہو گا۔ دہشت گردی، بدامنی، خون خرابے کو روکنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،لیکن حکمران مافیا پارا چنار میں گرتی ہوئی لاشیں دیکھ کر بھی اپنی سیاسی لڑائی میں مصروف ہے، افسوس تو یہ ہے کہ الحاد و ملحدین کالجوں اور یونیورسٹیوں کو فتح کرنے کے بعد دینی مدارس کے اندر تک نقب لگا چکے، ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ہاتھوں ساڑھے چار سو سے زائد ملعون گستاخوں کی گرفتاری کے باوجود سوشل میڈیا پہ گستاخوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں