Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

پی ٹی آئی پر پابندی کیوں؟

بعض افراد ایسے بھی ہیں جو جمہوریت کا دعویٰ ضرور کرتے ہیں لیکن عملاً وہ جمہوری سوچ کے حامل نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے ہی شخص بعض سیاسی پارٹیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا’’نعرہ‘‘ لگاتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ آ ج کل بعض سیاسی جماعتوں کے رہنما پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جوکہ انتہائی غیر جمہوری مطالبہ ہے۔ جمہوری سوچ رکھنے والے کبھی بھی کسی دوسری جماعت پر پابندی لگانے کا نہ تو مشورہ دیتے ہیں اور نہ ہی ایسی سوچ رکھتے ہیں۔ جو عناصر پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا نعرہ لگارہے ہیں یا پھر پس پردہ حکومت کو ایسا کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ دراصل اس غلط مشورے سے جمہوریت کا چراغ گل کرناچاہتے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ کاراستہ ہموار کرکے عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دراصل پاکستان میں ایسی چھوٹی بڑی جماعتیں بدرجہ اتم موجود ہیں جو اپنے ’’وجود‘‘ کو قائم رکھنے کے لئے دوسری جماعتوں پر پابندیاں لگانے کا مشورہ دیتی ہیں تاکہ وہ ’’ بن مقابلہ‘‘ بیک ڈور سے اقتدار حاصل کرلیں۔
تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنمائوں اورکارکنوں کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگانے کا مقصد جمہوریت کا گلہ گھوٹنا ہے اور ڈکٹیٹر شپ کی راہ ہموار کرنا ہے۔اس لئے ایسے عناصر یا سیاسی کارکنوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندیاں لگانے کامطالبہ کررہے ہیں۔ دراصل کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندیاں لگانا دراصل آئین کی مکمل خلاف ورزی کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہرسیاسی پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق کام کرنے اور عوام کو اپنا ہم خیال بنانے کا پورا پورا حق حاصل ہے بلکہ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق پاکستان میں ایسی سیاسی پارٹیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو اپنے منشور کے مطابق کام کررہی ہیں اور عوام سے یہ وعدہ بھی کررہی ہیں کہ اگر انہیں اقتدر ملا تو وہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرتے ہوئے ان کو معاشرے میں جائز مقام دلائیں گے۔
دراصل سیاسی پارٹیاں کسی بھی ملک میں جمہوریت کا چراغ ہوتی ہیں جو عوام کو ان کے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے روشنی فراہم کرتی ہیں۔ تاکہ عوام کو مسائل کی تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لے جایا جائے‘ ملک ترقی کی طرف گامزن ہوسکے اور عوام کی اکثریت کو ان کے درپیش تکلیف دہ مسائل سے نجات مل سکے۔ یہی طریقہ کار جمہوریت کا مشن کہلاتاہے اور اس ہی طریقہ کار کو اپناکر معاشرے میں سیاسی وسماجی یکجہتی پیدا کی جاتی ہے۔ کیونکہ جب تک عوام کے سیاسی ومعاشرتی مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ اس وقت تک جمہوریت کی اصل طاقت کا بھی ادرک نہیں ہوتاہے اس لئے عوام کے مسائل کے حل میں ہی جمہوریت کا حسن پوشیدہ ہے۔ جن ترقی یافتہ ملکوں نے گزشتہ سوسال کے اندر سیاسی ومعاشرتی ترقی کی ہے۔ انہوں نے ایسا کارنامہ صرف اور صرف جمہوریت کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ اس لئے کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی کا مطالبہ کرنا اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ جمہوریت کا گلہ گھونٹ دیاجائے اور عوام کومسائل کے دلدل میں دھکیل کر ان سے باعزت جینے کا حوصلہ چھین لیاجائے۔ اس پس منظر میںپاکستان میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں کام کررہی ہیں ان کا کم وبیش منشور یہی ہے کہ کسی طرح عوام کے بنیادی معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی مسائل حل کئے جائیں تاکہ وہ ایک باعزت زندگی بسر کرتے ہوئے ملک کو استحکام کی طرف لے جاسکیں۔
یہاں اس حقیقت کوفراموش نہیں کرناچاہیے کہ سیاسی پارٹیاں چاہے ان کاقد بڑا ہویا چھوٹا ان کامنشور ہی عوام کی بھلائی وترقی میں ہی مضمرہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ان پارٹیوں کو ووٹ دیتی ہیں جو ان سے کئے ہوئے سیاسی وعدے پورے کرسکیں۔ پاکستان میں اس وقت کئی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں اپنے منشور کے مطابق کام کررہی ہیں لیکن ان میں سے صرف چند ایسی ہیں جن کو عوام کی پذیرائی ملی ہے جبکہ دوسری پارٹیاں عوام میں پذیرائی نہ ملنے کی صورت میں گم ہوگئی ہیں۔
دراصل پاکستان میں جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ بہت سی سیاسی پارٹیاں معاشرے میں کام کررہی ہیں اوروعدہ کررہی ہیں کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرانے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ وہ اپنے منشور کے مطابق کام نہیں کرسکی ہیں اورگم ہوگئی ہیں۔ صرف چند باقی رہ گئی ہیں جو عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہیں اور عام انتخابات میں جیت کرہی آتی ہیں۔تاہم سیاسی پارٹیاں ہی جمہوریت کا چراغ ہوتی ہیں جو معاشرے سے اندھیرے کو دور کرکے حیات بخش روشنی عطاکرتی ہے۔
پاکستان میں جوسیاسی پارٹیاں موجود ہیں‘ ان میں بیشتر اپنے منشورکے مطابق کام کررہی ہیں۔ لیکن ماسوائے چند کہ باقی عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں یہاں یہ لکھنا درست ہوگا کہ وہ تھک ہارکر بیٹھ گئی ہیں اور کہیں گم ہوچکی ہیں۔تاہم اس حقیقت سے کسی بھی جمہوری سوچ رکھنے والے کو یہ مشورہ نہیں دیناچاہیے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی پہ پابندی عائد کردی جائے یہ سوچ جمہوریت کے خلاف ہے اور آئین پاکستان کے خلاف بھی۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی پاکستان کے آئین کے خلاف کام کررہی ہے یا پھر اس کے تعلقات دشمن ممالک سے ہیں تو ان پرپابندیاں عائد کرنا ملک کے مفاد میں ہے۔ لیکن ایسی سیاسی پارٹیاں جوعوام کی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہیں یا سماجی مسائل سے عوام کو آگاہ کررہی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ ملک میں جمہوری اقدارفروغ پاسکے اور اس کے ساتھ ہی عوام کے بنیادی مسائل حل ہوسکیں۔ جمہوریت کے فروغ کا حسن جمہوری روایات سے وابستہ ہے۔ اورجمہوری روایات کاتعلق عوام کی خوشحالی سے مربوط ہے۔ پاکستان میں موجود سیاسی پارٹیاں عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ لیکن زیادہ تر کامیاب اس لئے نہیں ہیں کہ انہیں ملک کے طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ جب تک انہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل نہیں ہوگی وہ کامیاب سیاسی پارٹیاں نہیں کہلائیں گی چنانچہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود سیاسی پارٹیوں کو کام کرنے کا موقع میسر آناچاہیے تاکہ جمہوریت کا چراغ فروزاں رہے۔

یہ بھی پڑھیں