Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کیا یورپ میں طبی تحقیق خطرے میں ہے؟

جانوروں کا طبی تحقیق میں استعمال ایک ایسا موضوع ہے جس پر دنیا بھر میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طبی ترقی میں جانوروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کالم میں ہم اس موضوع کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیں گے، جن میں جانوروں کی ضرورت، اہم مثالیں، تحقیق کے قوانین، اور ماہرین کی آرا شامل ہیں۔
سویڈش ریسرچ کونسل کی سالانہ کانفرنس میں طبی اور سائنسی ماہرین نے طبی تحقیق کے لیے جانوروں کے استعمال پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور اس کے ممکنہ اثرات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ یورپین ریسرچ کونسل کے سربراہ کرک لیچ (Kirk Leech) نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یورپ میں طبی تحقیق کے لیے جانوروں کے استعمال پر ممکنہ پابندیوں سے میڈیکل ریسرچ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے وضاحت کی کہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے 98 فیصد اراکین طبی تحقیق میں جانوروں کے استعمال کے مخالف ہیں، جو طبی تحقیق کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ آج ہم جو ادویات استعمال کرتے ہیں اور میڈیکل سائنس کی جو ترقی ہمیں نظر آتی ہے، وہ زیادہ تر جانوروں پر کی گئی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ یورپ میں جانوروں کے استعمال کے خلاف مہمات چلائی جا رہی ہیں، جن کا موقف ہے کہ اخلاقی وجوہات اور جانوروں کے تحفظ کے پیشِ نظر متبادل ذرائع، جیسے غیر حیاتیاتی مواد، کمپیوٹر ماڈلز اور پہلے سے موجود تحقیقی نتائج کو استعمال کیا جائے۔ ان متبادل ذرائع کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، اور ان کا استعمال کیا بھی جا رہا ہے، لیکن کئی مواقع پر تحقیق کے لیے جانوروں کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔
تحقیق میں 3R اصول (Replacement, Reduction, Refinement) کا خیال رکھا جاتا ہے، یعنی جانوروں کا متبادل تلاش کرنا، ان کی تعداد کو کم سے کم کرنا، اور ان کے آرام کا خیال رکھتے ہوئے تجربات کرنا۔ اس کے باوجود، اگر جانوروں پر تحقیق پر مکمل پابندی عائد کی گئی، تو طبی ترقی کا عمل رک سکتا ہے۔ جانوروں پر تحقیق نے گزشتہ کئی دہائیوں میں تقریباً ہر اہم طبی کامیابی میں کردار ادا کیا ہے۔ 1901 ء سے اب تک جتنے بھی نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ہیں، ان کی تحقیقات میں جانوروں کے ڈیٹا نے بنیادی حیثیت حاصل کی۔ انسان اور چوہے کے جینیاتی مواد میں 95 فیصد مشابہت ہے، جو انسانی جسم کے لیے ایک موثر ماڈل فراہم کرتی ہے۔ چوہوں پر تحقیق کی بدولت بریسٹ کینسر کے علاج کے لیے ہرسپٹین جیسی ادویات ممکن ہوئیں، جبکہ ایڈز، دمہ، اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے علاج میں بھی جانوروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مزید برآں، کوویڈ-19 ویکسین کی تیاری، انسولین کی دریافت، اور دل کی سرجری جیسی کامیابیاں بھی جانوروں پر تحقیق کے بغیر ممکن نہ تھیں۔ پولیو، ٹی بی، اور HPV جیسی ویکسینز کی تیاری میں بھی جانوروں پر تحقیق کا بڑا حصہ ہے۔
یورپ میں کاسمیٹک مصنوعات کی جانوروں پر جانچ پر 2004 ء سے پابندی عائد ہے، اور طبی تحقیقات میں استعمال ہونے والے زیادہ تر جانور چوہے، مچھلیاں، اور پرندے ہوتے ہیں۔ بڑے جانور، جیسے کتے، بلیاں، اور بندر، بہت کم استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کا تناسب صرف 0.2 فیصد ہے۔ اگرچہ غیر حیاتیاتی طریقے، جیسے سیل کلچر اور کمپیوٹر ماڈلز، تحقیق میں معاون ہیں، لیکن یہ جانوروں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔ طبی تحقیق میں اخلاقیات اور جانوروں کے آرام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، اور کسی بھی تجربے کی اجازت صرف عدالتی کمیٹی کی منظوری کے بعد دی جاتی ہے۔
اگر یورپ میں جانوروں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوئی، تو یہ فیصلہ طبی ترقی کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ اسی لیے سویڈش ریسرچ کونسل کے ماہرین نے عوام اور میڈیا میں آگاہی مہم چلانے پر زور دیا تاکہ اس مسئلے کی اہمیت کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں