Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

معاشی استحکام کا طلوع ہوتا سورج

یہ امر خوش آئند ہے کہ سیاسی بے یقینی کے گہرے بادل چھٹ رہے ہیں۔ معاشی استحکام کا روشن سورج طلوع ہو رہا ہے ۔گزشتہ ڈھائی برس کے دوران سیاسی بے یقینی کی وجہ سے پیدا ہونے والے اندرونی عدم استحکام نے ملک کی معاشی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔صد شکر کے رفتہ رفتہ معاشی استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مثالی عروج دیکھا۔ ایسے مواقع بھی آئے جب اسٹاک ایکسچینج نے ایک لاکھ پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کی ۔ ملکی معیشت کے درست سمت میں سفر کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں پاکستان کے متعلق مثبت امکانات کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مالیاتی پیکج کی منظوری ملکی معیشت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹوں میں بھی آنے والے سال میں پاکستان کی شرح نمو تین فیصد ظاہر کی گئی ہے ۔ گزشتہ دو برس کے دوران سیاسی بحران کے نتیجے میں جنم لینے والی مہنگائی نے عوام پر معاشی بوجھ میں شدید اضافہ کر دیا تھا ۔یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اس برس مہنگائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ افراط زر میں حیرت انگیز کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔میڈیا پہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق افراط زر میں 29 اشاریہ دو فیصد سے چار اشاریہ سات نو فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں حیرت انگیز کمی کی ہے۔
گزشتہ برس شرح سود 22 فیصد تھی۔ اتنی بلند شرح سود کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی تھیں۔ حالیہ دنوں میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 13 فیصد کر دی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے اس اقدام کو ملکی معیشت کے استحکام کا واضح ثبوت قرار دیا ہے ۔ اسی طرح رواں برس ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ترسیلات زر میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کا واضح مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی حکومت کے اقدامات کو اعتماد کی نظر سے دیکھتے ہوئے اپنا سرمایہ معمول کے مطابق پاکستان بھیج رہے ہیں۔ تاہم یہ پہلو بیت افسوس ناک ہے کہ بعض سیاسی طالع آزما ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنا سرمایہ پاکستان بھیجنے سے منع کر رہے ہیں ۔ اس اقدام کا واضح مقصد یہی ہے کہ پاکستان کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہو سکے، ملک میں عدم استحکام پیدا ہو اور اس کے نتیجے میں سیاسی مفاد پرست فائدہ اٹھا سکیں۔ مفاد پرستوں کی ان منفی خواہشات کے برعکس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی برامدات میں لگ بھگ 13 فیصد اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ یہ امر بھی خوشگوار حیرت کا باعث ہے کہ حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی روشن ڈیجیٹل اکائونٹ سکیم بھی نہایت کامیابی سے رواں دواں ہے۔ اس اسکیم کے تحت نو ارب کا زر مبادلہ پاکستانیوں نے ملک میں بھیجا ہے۔ ایک طویل مدت کے بعد ملکی بجٹ نے خسارے سے نجات حاصل کی اور 944ملین ڈالر کا سرپلس حاصل کیا ہے۔ اگرچہ ملکی معیشت کو پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے مزید وقت درکار ہے اور مکمل بحالی کا عمل حکومت کے اصلاحاتی اقدامات سے مشروط ہے تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے پریشان کن اقتصادی بحران کے بعد حالیہ مثبت آثار نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ بنیادی طور پر سیاسی بے یقینی اور حزب اختلاف کی ہیجان انگیز احتجاجی مہم نے پاکستان کو معاشی اعتبار سے بہت پیچھے دھکیل دیا۔
سابق حکومت نے جس غیر دانشمندانہ انداز سے اقتصادی معاملات کو چلایا اس کے اثرات ابھی تک پوری طرح دور نہیں کیے جا سکے۔ ماضی میں بعض سیاسی قائدین کی جانب سے پیش کی گئی میثاق معیشت کی تجویز نہایت کارآمد اور توجہ طلب ہے۔ بدقسمتی سے اقتدار کی ہوس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں تمام تر توانائیاں صرف کر کے بعض سیاسی جماعتوں نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں ملکی سلامتی، خارجہ امور اور اقتصادی اصلاحات جیسے حساس نوعیت کے اقدامات پر وسیع تر اتفاق رائے قائم کیا جائے۔ حالیہ مثبت معاشی اشاریئے اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی حکومت پاکستان کو یہی تجاویز دی ہیں کہ موجودہ فرسودہ ٹیکس نظام کو فوری طور پر مزید موثر بنایا جائے۔ یہ تاثر عام ہے کہ ٹیکس کا زیادہ بوجھ متوسط طبقے اور تنخواہ دار ملازمین پر آن پڑا ہے جبکہ با اثر طبقات یا بڑی مچھلیاں اپنے حصے کا بوجھ نہیں اٹھا رہے۔ سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ بھی نہایت سنگین نوعیت کا ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے ازلی دشمن ملک کی معاشی بنیادوں کو ہلانے کے لیے تسلسل سے دہشت گردی کا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں ۔اس سلسلے میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کی سرکوبی کرنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ملکی معیشت کی بحالی کا سفر اگرچہ مشکل ہے لیکن بروقت اصلاحات کے ذریعے یہ مرحلہ کامیابی سے طے کیا جا سکتا ہے ۔قوم چاہتی ہے کہ سیاسی قیادت، اور متعلقہ ریاستی ادارے حالیہ مثبت معاشی اشاریوں کو ایک مربوط اور پائیدار معاشی نظام میں تبدیل کرنے کے لئے مربوط اقدامات پر توجہ مرکوز رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں