Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سیاست بند گلی میں

سیاست بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے۔مختلف الخیال صحافی،تجزیہ کار اور کالم نگار اپنے اپنے انداز سے سوچتے اور اظہار خیال کرتے ہیں۔طویل عرصہ سے سیاست کو میں بھی موضوع بحث بنائے ہوئے ہوں۔شاید کچھ لوگ میرے سیاسی نظریے پر میری رائے سے اختلاف کریں،یہ ان کا حق ہے۔تاہم آزادی اظہار رائے میں کسی پر کوئی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔آزادی اظہار رائے سے ہی پتہ چلتا ہے کون،کیسے،کس طرح،کس انداز سے سوچ رہا ہے۔تاہم رائے عامہ کو بنانے اور فکری سوچ دینے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ رائے عامہ کو حکومت اور اپوزیشن کے حق اور مخالفت میں میڈیا ہی ہموار کرتا ہے۔جس کے بعد ہی کسی سیاسی سمت کا تعین ہوتا ہے۔کئی دہائیوں سے سیاست کو ہم جس طرح سے دیکھ رہے ہیں اس پر کیا اظہارِ خیال کریں۔جتنا سوچیں گے،فکر اور غور کریں گے دل رنجیدہ ہو گا۔تاہم لکھنے والوں کو لکھنا اور اظہار خیال کرنے والوں کو اظہار خیال کرنا ہی ہوتا ہے۔کیونکہ یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور فرض بھی۔لازم ہے ہم وہی بیان کریں جو صورت حال اس وقت چل رہی ہے وقت کا تقاضا ہے حقائق سے بالکل بھی چشم پوشی نہ کی جائے۔جو ہے،جس طرح ہے،اسے اسی انداز سے پیش کیا جائے تاکہ سننے اور دیکھنے والوں کو سمجھنے میں کوئی مشکل نہ ہو۔77 سال گزرنے کے بعد وقت آ گیا ہے کہ سیاست کے بھیانک چہرے بے نقاب ہوں اور قوم جس تکلیف سے گزر رہی ہے ان تکلیف دہ حالات سے انہیں مزید نبرد آزما نہ ہونا پڑے۔ہماری سیاست اس نہج پر آ گئی ہے کہ اب غیر ممالک بھی ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے لگے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی مختلف مقدمات میں جیل کاٹ رہے ہیں۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے بانی پر قائم مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔لیکن مقدمات کی فہرست دیکھی جائے کوئی بھی مقدمہ ان میں سیاسی نوعیت کا نہیں۔سب کریمنل مقدمات ہیں جن میں توشہ خانہ اور 190ملین پائونڈ کیس سمیت 9 مئی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔تمام تر مقدمات کی سماعت پاکستانی قوانین کے مطابق سول عدالتوں میں ہو رہی ہے۔رہا فوجی عدالت سے 9 مئی کے 85 مجرمان کو سزائیں ملنے کا معاملہ،تو سزائیں آئین کے مطابق ہی ہوئی ہیں۔فوجی املاک یا تنصیبات پر حملے ہوں، گھیرائو جلائو کیا جائے تو ان مقدمات کا فوجی عدالت میں ہی ٹرائل ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے ایک سال تک فوجی عدالت کو 9 مئی کے مجرمان کے حوالے سے حتمی فیصلے سے روک رکھا تھا۔دو ہفتے قبل سپریم کورٹ نے حکومتی اپیل منظور کرتے ہوئے فوجی عدالت کو حتمی فیصلہ سنانے کی اجازت دے دی۔ لیکن اب اعتراضات اٹھ رہے ہیں یہ تمام اعتراصات ملکی ہی نہیں غیر ملکی سطح پر بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ان ممالک میں سپر پاور امریکہ بھی شامل ہے۔بانی کی رہائی کے لیئے امریکہ کوئی قدم اٹھائے گا یا پاکستان پر دبائو ڈالے گا۔سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے۔مناسب ہو گا بانی پی ٹی آئی کا مقدمہ فوجی عدالت کی بجائے عام سول عدالت میں چلے تاکہ دنیا کو تنقید کا موقع نہ مل سکے۔امریکہ میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے پاکستانی چینل کے ایک ٹاک شو میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا امریکی نمائندے رچرڈ گرنیل نے ایسا بیان دے کر کوئی نیا کام نہیں کیا۔امریکی نمائندے پہلے بھی اسی نوعیت کے بیان دیتے رہے ہیں۔لیکن پاکستان نے وہی کیا قانون جس کی اجازت دیتا ہے۔دیکھنا اب یہ ہے پاکستان یا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس امریکی دبائو کو کس حد تک قبول کرے گی۔ویسے یورپی یونین نے بھی اسی نوعیت کا ایک بیان چند روز قبل دیا۔تاہم پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔وزارت خارجہ کے حکام اس حوالے سے سوچ بچار کر رہے ہیں۔باہمی مشاورت سے ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بعد باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری کیا جائے گا۔خیال ہے اسی بیان میں بانی پر قائم مقدمات اور اس سے جڑے آئینی و قانونی پہلوئوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔حکومتی سٹیٹمنٹ اسی تناظر میں ہو گی۔پاکستان اور امریکہ پرانے دوست اور پارٹنر ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ امریکہ ایک سابق وزیراعظم کی خاطر اپنے دوستانہ تعلقات پاکستان سے خراب کر لے۔جو ماضی میں افغانستان سمیت کئی معاملات میں امریکہ کا پارٹنر رہا ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان زہرہ بلوچ کا کہنا ہے ڈونلڈ ٹرمپ جب 25 جنوری کو صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے تو نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید بہتر اور مضبوط ہوں گے۔ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برابری کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔زہرہ بلوچ کا مزید کہنا ہے جو عالمی حالات چل رہے ہیں،جس صورت حال کا دنیا کو سامنا ہے اس تناظر میں امریکہ کبھی بھی پاکستان سے بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ایسا کرنا خود اس کے اپنے مفاد میں ہو گا۔اگرچہ کچھ امریکی سینیٹر امریکہ میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے باقی اسیران کی رہائی کے لیئے کمپین چلائے ہوئے ہیں۔زبردست لابنگ بھی کر رہے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ پاکستان یا فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے دبائو میں آجائے۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے امریکی نمائندے رچرڈ کی عمران خان کے حق میں سٹیٹمنٹ کو ویلکم کہا ہے۔لیکن چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے وہ بانی کی رہائی کے لیئے کسی غیر ملکی حکومت کے دبائو کو قبول نہیں کریں گے ۔حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کے پہلے دور کے بعد 2 جنوری کو مذاکرات کا جو دوسرا سیشن ہونے والا ہے اس میں واضح طور پر پی ٹی آئی دو اہم مطالبے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے رکھنے والی ہے۔پہلا مطالبہ یہ ہو گا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے جبکہ دوسرے مطالبے میں 9 مئی اور 26 نومبر کو ہونے والے واقعات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل ہے۔نہیں لگتا حکومت پی ٹی آئی کے یہ دونوں مطالبات مان لے گی۔اس صورت حال میں ڈیڈ لاک کا خدشہ ہے۔مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس صورت میں پی ٹی آئی دوبارہ سول نافرمانی کی کال دے سکتی ہے۔حالات کس نہج پر جاتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔مذاکرات کے دوسرے سیشن کے بعد بہت سی باتیں کھل کر سامنے آئیں گی۔سیاست کے افق پر امڈے بادل یا تو چھٹ جائیں گے یا مزید گہرے ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں