Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

بنگلہ دیش کی واپسی؟

بنگلہ دیش سے حسینہ واجد کی بھارت واپسی کے بعد یعنی وہاں پناہ لینے کے بعد سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے ۔ بنگلہ دیش کی اکثریت نے اعلیٰ سطح پر ہونے والی اس تبدیلی کا خیرمقدم کیاہے۔ عوامی لیگ کی حکومت اور اس کے کارکنوں کی عام بنگالیوں پر ظلم کی تاریک رات کاخاتمہ ہوگیاہے۔ ہرچند کہ شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کا منصوبہ بھارت کے ساتھ مل کربنایاتھا‘لیکن وہ پاکستان کے اس سابق اعظیم خطہ کو بھارت کی تسلط سے آزاد رکھناچاہتاتھا۔بھارت کو شیخ مجیب الرحمن کی اس ’’ خفیہ پالیسی‘‘ کو منظور نہیں تھی‘ چنانچہ جب بھارت کی بنگلہ دیش میں سیاسی و معاشی مداخلت بڑھی تو پھر شیخ مجیب الرحمن کو نہ صرف اقتدار سے فارغ کردیا بلکہ ان کے پورے خاندان کو وہ سزا دی گئی جس کا بنگلہ دیش کے عوام کو تصور نہیں تھا‘ لیکن بھارت کی طاقت آگے بنگلہ دیشی بھائی خاموش رہے اور اپنے لیڈر کے انجام کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ ابتدا میں بنگالی بھائیوں نے پاکستان سے علیحدگی اور نام نہاد آزادی کا خیرمقدم کیاتھا‘ لیکن جلدہی بنگلہ دیش کے عوام کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا کہ انہوں نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے نہ صرف اپنے آپ سے بلکہ تاریخ سے غداری کی تھی۔
چنانچہ عوامی لیگ کے دودہائیوں پر مبنی اقتدا ر سے وہ نتائج نہیں نکل سکے جس کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کو ایک گہری سازش کے ذریعے پاکستان سے علیحدہ کیا گیاتھا۔ شیخ مجیب الرحمن بنگلہ دیش کے قیام کی ’’ تحریک‘‘ سے بہت پہلے بھارت کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اگر تلہ سازش کیس بالکل صحیح تھا‘عوامی لیگ کے اکثرلیڈر شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر بھارت کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔بلکہ اس ضمن میں شیخ مجیب الرحمن کی اہلیہ کا اہم رول تھا۔
تاہم اگر بنگلہ دیش کے قیام کی تاریخ کا غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لیاجائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ عوامی لیگ نے بنگالیوں کو سبز باغ دکھائے تھے اور انہیں یہ باور کروایاتھا کہ پاکستان سے علیحدگی کی صورت میں نہیں ان کے تمام معاشی ‘ سماجی اور ثقافتی مسائل حل ہوجائیں گے‘ لیکن بعد میں آنے والے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ مشرقی پاکستان کے عوام کو پاکستان سے علیحدگی کا جو خواب دکھایا گیا تھا و ہ نہ تو پورا ہوا بلکہ بنگلہ دیش باقاعدہ معاشی وسماجی طور پر بھارت کی کالونی بن گیاتھا۔
چنانچہ اب جو کچھ بھی بنگلہ دیش میں واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ان کا ہونالازمی تھا۔ کیونکہ بنگلہ دیش کو بھارت نے مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے رکھاتھا۔ معاشی‘ تجارتی اور سیاسی طور پر لیکن یہ صورتحال ایک عام بنگالی کو پسند نہیں تھی‘ انہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے بے پناہ قربانیاں دینے کے علاوہ ہرموقع پر پاکستان کے ساتھ اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کیا تھا۔ لیکن بھارت نے چائینکا کی سیاست سے کاطرز اختیار کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جو بعد میں بنگلہ دیش کی صورت میں ایک ’’ آزاد ‘‘ مملکت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ لیکن بہت جلد اہل بنگال کو اپنی غلطی کااحساس ہوگیا‘انہوں نے مجیب الرحمن کی پالیسیوں کو مسترد کردیا۔
وہیں انہوں نے آہستہ آہستہ پاکستان کے ساتھ رابطے بڑھانا شروع کردیئے۔ بھارت کو بنگلہ دیش کی حکومت کی یہ خفیہ کارروائی بالکل پسند نہیں تھی‘ اس لئے انہوں نے بنگلہ دیش پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے ہر حربہ و طریقہ کا ر اختیار کیا لیکن اس کے باوجود بھارت بنگلہ دیش کے عوام کا دل نہیں جیت سکا ۔ اس وقت بنگلہ دیش بھارت کی سیاسی‘ معاشی وثقافتی تسلط سے آزاد ہوچکاہے اور اپنے تئیں معاشی‘ خارجہ اور داخلہ پالیسیاں مرتب کررہاہے۔ یقینا بنگلہ دیش نے بھارت کو اپنے ملک سے جس طرح بے دخل کیاہے‘ اس نے بھارت کے رہنمائوں کی نیندیں حرام کردی ہیں لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ بنگلہ دیش اب ہر طرح سے ایک آزاد ملک ہے‘ جس کی اپنی خارجہ اور داخلی پالیسی مبنی ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ پاکستان سے اپنے تعلقات قائم کرنے میں آزاد ہے۔ بھارت اس صورتحال پر بوکھلاگیا ہے لیکن اب کیا ہوسکتاہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرارہی ہے۔ ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں