Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

روشن خیالی کی مسند،مسخروں کے ہاتھ!

اس وقت دنیا بھرمیں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا امت مسلمہ ہے جس پر چاروں طرف سے ابتلا کی بارش کردی گئی ہے لیکن ہمارے تمام دشمن نہ صرف اکٹھے مل کرمسلمانوں کو نیست ونابودکرنے کی عملی سازشوں میں شریک ہیں بلکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کادشمن بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اورہم ایک دوسرے کاگلہ کاٹنے میں مصروف ہیں ۔یوں تواس وقت امت مسلمہ کئی مسائل سے دوچارہے لیکن کشمیراورفلسطین دوایسی بڑی مقتل گاہیں بن چکی ہیں جہاں پچھلی سات دہائیوں سے انسانیت مسلسل چیخ وپکارکررہی ہے لیکن خودکومہذب کہلانے والی قومیں نہ صرف بہرے اورگونگے شیطان کاکرداراداکررہی ہیں بلکہ اس ظلم وستم میں برابرکے شریک ہیں۔
کشمیریوں اورفلسطینیوں پرقیامت بیت رہی ہے لیکن صدافسوس کہ یہاں ہماری مسلم حکومتوں کی محفلیں شگوفہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ہمیں کیاہوگیاہے؟بستی میں ایسی بے حسی توکبھی نہ تھی۔ درست کہ ہم آج کمزورہیں اوران کی عملی مددسے قاصرہیں لیکن ہم اتناتو کرہی سکتے ہیں کہ یہ دکھ امانت کی طرح سنبھال کررکھیں اورنسلوں کووراثت میں دے جائیں۔کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔وقت کاموسم بدل بھی توسکتاہے۔ہم اتناتوکرسکتے ہیں کہ موسموں کے بدلنے تک اپنے زخموں کوتازہ رکھیں۔اس رستے لہوکو جمنے نہ دیں۔بھلے وقتوں کی بات ہے ابھی روشن خیالی کی مسند مسخروں کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی۔ ہمارا ادیب دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بے نیاز ہو کر یہ امانت نسلوں تک پہنچا رہا تھا۔
اقبال،قدرت اللہ شہاب،فیض،شورش کاشمیری،انتظارحسین،حبیب جالب،احمد ندیم قاسمی، ابن انشا،احمدفراز،رئیس امروہوی،ن م راشد، مستنصرحسین تارڑ،قر العین حیدر،مظہر الاسلام، ادا جعفری،یوسف ظفر، منظورعارف، ضمیر جعفری، خاطرغزنوی،محمودشام،نذیر قیصر، شورش ملک،سلطان رشک، طاہر حنفی، بلقیس محمود میرے ملک کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں اور نظموں میں اس دکھ کو ٓئندہ نسلوں کیلئے امانت کے طور پرمحفوظ کردیا،یہ مگرگزرے دنوں کی بات ہے۔
فلسطین سے دھواں اٹھتاہے تومراقلم بے اختیار نوحے لکھتاہے لیکن باقی ادیب کیا ہوئے؟ قلم ٹوٹ گئے،سیاہی خشک ہوگئی یااحساس نے دم توڑ دیا؟برسوں پہلے انتظار حسین کاافسانہ’’ شرم الحرم ‘‘ پڑھاتھا۔کچھ فقرے آج بھی دل میں ترازو ہیں۔’’بیت المقدس میں کون ہے؟بیت المقدس میں تومیں ہوں،سب ہیں،کوئی نہیں ہے۔بچے کمہارکے بنائے پتلے کوزوں کی طرح توڑے گئے، کنواریاں کنویں میں گرتے ہوئے ڈول کی رسی کی مانند لرزتی ہیں۔ان کی پوشاکیں لیرلیر ہیں۔ بال کھلے ہیں۔انہیں توآفتاب نے بھی کھلے سر نہیں دیکھا تھا۔عرب کے بہادربیٹے بلندوبالا کھجوروں کی مانندمیدانوں میں پڑے ہیں۔ صحرا کی ہواؤں نے ان پربین کیے‘‘۔انتظارحسین ہی کے افسانے’’ کانے دجال‘‘ کومیں نے کتنی ہی بارپڑھا۔یہ پیراگراف ہردفعہ خون رلاتاہے۔
’’پلنگ پہ بیٹھی اماں جی چھالیاں کاٹتے رونے لگیں۔انہوں نے سروتاتھالی میں رکھا اور آنچل سے آنسوپونچھنے لگیں۔ابا جان کی آواز بھر آئی تھی مگرضبط کرگئے۔اپنے پروقارلہجے میں شروع ہوگئے: آنحضورﷺ دریاؤں، پہاڑوں، صحراؤں،سے گزرتے چلے گئے۔ مسجداقصٰی میں جاکر قیام کیا۔حضرت جبرئیل نے عرض کیا یا حضرتﷺتشریف لے چلئے،آپﷺنے پوچھا کہاں؟بولے کہ یانبیﷺ زمین کاسفر تمام ہوا۔ یہ منزل آخرتھی،اب عالم بالاکاسفردرپیش ہے۔ تب حضورﷺ بلندہوئے اوربلندہوتے چلے گئے‘ اباجان کاسرجھک گیا۔پھرانہوں نے ٹھنڈاسانس بھرا۔بولے جہاں ہمارے حضورﷺ بلند ہوئے تھے،وہاں ہم پست ہوگئے۔
لڑکپن جوانی میں بدلااورجوانی ڈھل چلی، کنپٹیوں کے بال اب سفیدہورہے ہیں اورعائشہ اب چہچہاتی ہے کہ باباآپ تو بڈھے ہو گئے۔ لیکن یہ فقرہ آج بھی نیزے کی انی کی طرح وجود میں پیوست ہے جہاں ہمارے حضورﷺ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے۔ عشروں پہلے بھی یہ فقرہ پڑھا توآگے پڑھانہ گیا۔آج بھی یہاں پہنچتاہوں تو آنکھوں میں دھنداتر آتی ہے۔سیدعلی گیلانی کا نورانی اور پرعزم چہرہ سامنے آن کھڑاہوجاتاہے اور میں شرمندہ ہوکرافسانہ ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔
منیرنیازی والامعاملہ درپیش ہوتاہے:اس کے بعداک لمبی چپ اورتیزہواکاشور۔لمحہ موجود کی روشن خیالی کاتوسارابانکپن ہی مسلمانوں پر غرانے اورغراتے رہنے میں ہے۔میں مگر بھلے وقتوں کی بات کررہاہوں۔جب روشن خیالی کی مسندابھی مسخروں کے ہاتھ نہیں آئی تھی۔تب فیض احمد فیض نے فلسطینی مجاہدوں کیلئے ایک ترانہ لکھاتوقرآن کی آیت کوعنوان بنا دیا:لاخوف علیہِم ولاہم یحزنون۔
ابن انشاکی دیوارِگریہ پڑھیے،فیض کی سرِوادیِ سیناکودیکھئے،اداجعفری کی مسجداقصیٰ پر نگاہ ڈالیے،منظورعارف کے آئینے کے داغ دیکھئے، احمدفرازکے بیروت کودیکھئے،رئیس امروہوی کا فدیہ اورمحمودشام کی بنت اقصی دیکھئے،آپ کو سطرسطریہ دکھ تازہ ملے گا۔انہوں نے اس دکھ کواگلی نسلوں تک امانت کے طورپرپہنچایالیکن آج کیوں قحط الرجال ہے،یہ میں نہیں بلکہ بھارت کی بدنام زمانہ جیل میں صعوبتیں برداشت کرنے والی میری مجاہدہ بہن سیدہ آسیہ انداربی اوراس کے ساتھ قیدفہمیدہ اورنسرین پوچھ رہی ہیں اورمیرے پاس ماسوائے شرمندگی،اس کاکوئی جواب نہیں۔ آخرکہاں سے ڈھونڈکرلاؤں اس کا جواب؟ ہم نے اس عالم دین کوکشمیرکمیٹی کا برسوں سربراہ رکھاجوعلی اعلان کہتا رہا کہ ’’پاکستان بننے کی غلطی میں ہماراہاتھ نہیں‘‘لیکن پاکستان کے قومی خزانے سے وہ خود اوراس کے دیگر عزیزواقارب تمام مراعات وصول کررہے ہیں۔ ’’ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق‘‘
ہم نے تواپنے رب کی اس دھرتی پرسینے پر ہاتھ رکھ کرہزاروں کے مجمع میں کشمیرکے وکیل ہونے کادعویٰ کیاتھا،کشمیرکی آزادی کیلئے ہر جمعہ کی دوپہرکوایک گھنٹے کے علامتی مظاہرہ کا اعلان کیا تھا،لیکن ہواکیا؟چندمنٹ کافوٹوسیشن کرکے وکیل کہاں چھپ گیا؟بلکہ کشمیرکے بارے میں جہاد کانعرہ بلندکرنے سے بھی منع کر دیا تھا۔ کیاپاکستان کومدینہ ریاست بنانے کادعویٰ کرنے سے پہلے یہ سوچانہیں تھاکہ مدینہ کواسلامی اورفلاحی ریاست بنانے کیلئے بدراوراحدکے علاوہ بھی کئی دیگر معرکوں میں میرے آقا نبی اکرم ﷺکوخودعملی جہادکرناپڑا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہاکہ میں اپناغم اوردردکس سے بیان کروں؟
اس امانت میں صرف دردکااحساس ہی نہیں وقت کے موسموں کے بدلنے کی آس بھی ہے۔مستنصرحسین تارڑکے خانہ بدوش کا آخری پیراگراف پڑھیے:میں سینکڑوں فلسطینیوں سے مل چکا تھامگراحمدایک مختلف انسان تھا۔وہ حقارت سے اسرائیل کاذکرکرتا تھابلکہ ایک سپاٹ اور کاروباری اندازمیں۔وطن اس کیلئے ایک اغواشدہ بچہ تھاجوجذباتی ہونے سے نہیں مل سکتاتھا۔اس کی تلاش میں اس کے نقش نہیں بھولنے تھے اورایک سردمنصوبہ بندی سے خرکارکیمپ تک پہنچناتھا۔ یہی نقش ہم بھولتے جارہے ہیں۔یہ نقش کیسے یاد رہتے ہیں؟ ماؤں کی لوریاں انہیں تازہ رکھتی ہیں، نصاب تعلیم تذکیرکاکام کرتاہے،ادیب اور شاعر کا قلم اسے سنوارتارہتاہے۔ ماؤں کے پاس اب وقت نہیں،باپ کی جانے بلا،فلسطین اور کشمیر کیا ہے؟ نصاب تعلیم اجنبی ہوچکا،اورادیب وشاعرگونگے ہوچکے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں