(گزشتہ سے پیوستہ)
ذدا نزادقبانی کی یہ نظم دیکھئے:آل اسرائیل! ایسااترانابھی کیا؟گھڑی کی سوئیاں آج رک گئیں توکیاہواکل یہ پھرسے چل پڑیں گی۔ زمین کے چھن جانے کاغم نہیں،بازکے پربھی جھڑ جایاکرتے ہیں۔طویل تشنگی کابھی ڈرنہیں کہ پانی ہمیشہ چٹانوں کی تہہ میں ہوتا ہے۔تم نے فوجوں کوہرادیالیکن تم شعورکوشکست نہیں دے سکے۔تم نے درختوں کی چوٹیاں کاٹ ڈالیں جڑیں مگرباقی ہیں۔ ہم آج بے بس سہی،مگرجڑیں توباقی ہیں۔ ان جڑوں کی آبیاری توہم کرہی سکتے ہیں۔ہم اپنے دکھوں کامداوانہیں کرسکتے لیکن ہم ان دکھوں کو سنبھال کرتو رکھ سکتے ہیں۔ہم اس امانت کواگلی نسل کوتوسونپ سکتے ہیں۔کیاعجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔ وقت کا موسم بدل بھی تو سکتا ہے۔
محموددرویش نے کہاتھا:اے میرے وطن میری زنجیروں نے مجھے عقاب کی سختی اوررجائی کی نرمی سکھائی،معلوم نہ تھا ہماری کھال کے نیچے طوفان جنم لیں گے اوردریاؤں کاوصل ہوگا ۔ انہوں نے مجھے کوٹھڑی میں قیدکیا،میرے دل نے وہاں مشعلیں فروزاں کردیں،انہوں نے دیوار پر میرا نمبرلکھالیکن دیواریں مرغزار ہوگئیں، انہوں نے میرے جلاد کی تصویربنائی، روشن زلفوں سے اسے چھپالیا،میں نے شکست کواٹھاکرپٹخ دیا اورفاتحین نے توصرف زلزلوں کوجگایاہے۔ہم کیسے بھول جائیںجہاں ہمارے حضورﷺ بلند ہوئے تھے،وہاں ہم پست ہو گئے۔یہ دکھ ہماری اگلی نسل کی امانت ہے۔آپ کے آنگن میں بچے کھیل رہے ہوں گے۔انہیں بلائیے،پاس بٹھایئے اوریہ دکھ ان کی رگِ جاں میں انڈیل دیجیے کہ جہاں ہمارے حضور ﷺ ؓبلندہوئے تھے،وہاں ہم پست ہوگئے۔
اورہاں ان تمام نوحوں میں بھارتی درندوں کی بے رحم سنگینوں کاشکار،خونِ حق سے تربتر کشمیرہم نے کہاں کھودیا؟اس کی یادیں اب کیوں دھند لارہی ہیں؟اب بھی وہاں کے نوجوان اپنے سروں پرسبزہلالی پرچم کواپناکفن سجا کرراہِ عدم کوروانہ ہونے میں تفاخرمحسوس کررہے ہیں۔وقت رخصت ان کے چہروں کی مسکراہٹ پتہ دے رہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کے حضوراس کے انعامات سے خوش وخرم اورراضی ہوکرابدی اوردائمی زندگی کی کامیابی کے پروانوں کے تمغوں سے سرفرازکر دیئے گئے ہیں۔ ایساکیوں نہ ہوکہ وہاں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی نشانی،مردِبطل حریت سیدعلی گیلانی کی للکاراورانکاررگوں میں منجمدخون کوایسی حرارت بخش رہاہے جس سے جہاں ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں شوقِ شہادت کے جذبوں سے معمورجوانیاں میدانِ عمل میں اترآئی ہیں وہاں ارضِ جنت سے آسیہ اندرابی نمودارہوکرمتعصب شیطانوں اورظالم کافروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرآتش حریت سے پکار رہی ہے کہ ہمارے کشمیرسے نکل جاؤ، میرا کشمیرتوکبھی بھی بھارت کاحصہ نہیں رہااورجونہی ہندوستانی ہائیکورٹ کشمیری مسلمانوں کے مذہبی رسوم ورواج کے خلاف گائے کے ذبیحہ پرپابندی کاظالمانہ حکم صادرکرتی ہے تویہ مومنہ اسی لمحے چوک کے اندراپنے نگرانی میں اللہ کے راستے میں صدقہ کے طورپرگائے کوذبح کروانے کے عمل کے بعدخون آلود چھری کولہرتے ہوئے عدالت کے اس بہیمانہ قانون کے پرزے اڑاکراپنے رب کو راضی کرنے کیلئے اس کی کبریائی بیان کرکے ایک مثال قائم کردیتی ہے۔
آج اسی آسیہ کواس کی دو نوجوان ساتھیوں سمیت بھارت کی سب سے بدترین جیل کی کال کوٹھڑیوں میں قیدتنہائی میں ڈال کراس کے عزم کوشکست دینے کی بدترین کوشش کی گئی جو اب بھی جاری ہیں جبکہ بزدل بنیاجانتاہے کہ آسیہ نے ساری عمرثابت قدمی کی وہ زریں مثال قائم کی ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے اس کے شوہرڈاکٹرقاسم کوبے گناہی کے جرم میں آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے کے باوجوداس کے پائے استقامت میں کوئی لرزش نہیں آئی۔یقینا میری مجاہدہ بہن اپنے رب کے اس وعدے پرایمان کی حد تک یقین لاچکی ہے،اورآخرت تمہارے لیے پہلی(حالت یعنی دنیا)سے کہیں بہترہے،اورتمہیں پروردگارعنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گاکہ تم خوش ہوجاؤ گے(سورہ الضتح: 4-5)اسی لئے وہ آج ہندودرندوں کے تعذیب وابتلا کوانتہائی بہادری سے برداشت کررہی ہے۔
مجھ تک جب ایسی مستندخبریں پہنچتی ہیں کہ ہمارامیڈیاکس قدر آسانی سے ان کوبھولنے کے جرم عظیم کامرتکب ہورہاہے تومیرے شب وروزمجھے انتہائی بے چین ،پریشان اورکرب میں مبتلا کردیتے ہیں۔میرے آقا نبی اکرمﷺ جنہیں میرے رب نے سب جہانوں کیلئے رحمت بناکرمبعوث فرمایا،ان کے سینہ مبارک پرنازل الہامی اورآخری کتاب قرآن حکیم کایہ پیغام کیوں بھول گئے کہ:اورتم کوکیاہواہے کہ اللہ کی راہ میں اوران بیکس مردوں اورعورتوں اور بچوں کی خاطرنہیں لڑتے جودعائیں کیاکرتے ہیں کہ اے پروردگارہم کواس شہرسے جس کے رہنے والے ظالم ہیں،نکال کرکہیں اور لے جا۔اوراپنی طرف سے کسی کوہماراحامی بنا۔اوراپنی ہی طرف سے کسی کوہمارامددگارمقررفرما (النساء:75)۔ کیا کبھی تنہائی میں خوداحتسابی کاسامناکرناپڑاکہ اس مختصرعارضی زندگی کے چندروزہ اقتدار کا بالآخر حساب تودیناہوگا۔اللہ کے اس برحق پیغام نے کبھی دل پر لرزہ طاری کیاکہ: اوراعمال کاوزن کیا جانااس دن برحق ہے،پس جس شخص کے اعمال نامے بھاری ہوں گے،پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔اور جس کے اعمال نامے ہلکے ہوں گے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈالااس واسطے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے(الاعراف:8-9)۔ربِ ذوالجلال کایہ حکم بھی پڑھ لیں پھرجس کے نیک اعمال کاپلہ بھاری ہوگاتووہ پسندیدہ زندگی میں ہوگااورجس کاپلہ ہلکا ہوگاتواس کاٹھکانہ گڑھا ہوگا۔ اورتجھے کیا معلوم وہ کیاہے،وہ دہکتی ہوئی آگ ہے (القارعہ : 6-11)
پاکستان میں نظام مصطفی کونافذکرنے اور ریاست مدینہ بنانے کاکہہ کراقتدارحاصل کرنے والے والے تمام کان کھول کرسن لیں اور میرے رب کایہ اٹل فیصلہ بھی ذہن نشیں کرلیں کہ کیالوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ وہ بس اتنا کہہ دینے سے چھوڑدیئے جائیں گے کہ”ہم ایمان لائے ”اوران کوآزمایانہ جائے گا؟اللہ کوتویہ ضروردیکھناہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون! (العنکبوت:2۔3)اورہاں یہ بھی سن لو’’اور اس سے بہترکس کی بات ہے جس نے لوگوں کواللہ کی طرف بلایااورخودبھی اچھے کام کیے اورکہابے شک میں بھی فرماں برداروں میں سے ہوں! ( الفصلات: 33)۔41)
یقیناان حالات میں دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ جہاں ہمارے حضورﷺ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے۔