گلگت بلتستان آج کل پاکستان اور دنیا بھر میں خبروں کی اچانک زینت بن گیا ہے چونکہ سابق وزیراعظم عمران خان کےسیاسی انتقام میں مخالف عاقبت نااندیش حکمرانوں نے گلگت بلتستان کے سابق عبوری وزیراعلی اور عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رہنما خالد خورشید کو دہشتگردی کی ایک عدالت سے 34 سال کی سزا سنوا دی پاکستان کی قیادت نے اسکے منفی نتائج کا بھی قطعا نہیں سوچا ہوگا۔ خالد خورشید پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی ورکروں کو اشتعال دلانے والی کوئی مبینہ طور پر ایسی تقریر کی جس میں پاکستان کی سلامتی کے اداروں کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور لوگوں کو اشتعال دلوایاگیا، خالد خورشید کی اس طرح طویل سزا کی مذمت کی صدائیں دور دور تک تک سنائی جارہی ہیں سزا کے خلاف تاثر بہت غلط گیا ہے اسی کی وجہ چونکہ گلگت بلتستان ابھی تک ایک متنازعہ علاقہ ہے جو پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ خالد خورشید کی سزا میری رائے کے مطابق پاکستان کی فیڈریشن کی مضبوطی کے لئے درست قدم نہیں کہاجاسکتا۔ یہ خطہ1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد کشمیر کے مسئلے کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ منسلک ہوا ہے ۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کے تحت مکمل طور پر ابھی تک پاکستان کا صوبہ یا حصہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے یہ خطہ ابھی تک ایک خصوصی انتظامی یونٹ کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسے قانونی طور پر کشمیر کے قضیے یا تنازعے سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
2009 میں پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں”گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر” کے تحت اسے داخلی خودمختاری تو دے دی گئی، لیکن یہ خطہ اب بھی مکمل صوبے کا درجہ نہیں رکھتا۔
گلگت بلتستان کو پاکستان میں ایک علیحدہ انتظامی یونٹ کے طور پر چلایا جاتا ہے، لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ خطہ جموں وکشمیر کے مسئلے سے منسلک یا حصہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کشمیر تنازعے کے حل کے ساتھ وابستہ ہے۔
آئینی اور قانونی طور پر اسے مکمل طور پر پاکستان کا حصہ تسلیم نہیں کیا جاتا یہ امر بھی باعث حیرت ہےکہ گلگت بلتستان کی تاریخ قدیم تہذیبوں، مختلف سلطنتوں اور اہم جغرافیائی حیثیت کی آئینہ دار ہے۔ یہ خطہ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے بےحد اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں واخان کی پٹی یا راہداری ہے جو ایک بفرزون کی حیثیت رکھتی ہے جو چین اور پاکستان کے لئے دفاعی اور معاشی حب ثابت ہوسکتی ہے چونکہ اس راہداری کی صورت میں وسطی ایشیائی ریاستوں تک بلکہ کبسین جھیل یا سمندر تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے جہاں قدرتی گیس کے بیش بہا ذرائع پائے جاتے ہیں چین اور پاکستان اس سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ گلگت بلتستان ایک وقت میں بدھ مت کا اہم مرکز تھا یہاں کئی قدیم بدھ مت کے آثار اور چٹانوں پر کندہ نقش و نگار پائے گئے ہیں، جیسے کہ کارگاہ بدھ اور مختلف پتھروں پر کندہ تحریریں وغیرہ۔گلگت بلتستان قدیم سلک روٹ ،شاہراہ ریشم کا ایک اہم حصہ رہا ہے جو وسطی ایشیا، چین، اور برصغیر کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ خطہ کئی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا،جیسےگلگت، ہنزہ، نگر، شگر،اور سکردو۔ یہ ریاستیں مقامی راجائوں اور میر حضرات کے تحت تھیں۔ مختلف اوقات میں چترال اور کشمیر کی حکومتوں نےاس خطے پرقبضہ کیا، جس کی وجہ سے یہاں مختلف ثقافتوں کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
19ویں صدی میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی قیادت میں ڈوگرہ سلطنت نے گلگت بلتستان پر قبضہ جمالیا تھا اس دوران مقامی لوگوں نے شدید مزاحمت کی تھی جبکہ گلگت بلتستان کو ڈوگرہ حکمرانوں نے1935 میں ایک معاہدے کے تحت برطانوی حکومت کےحوالے کیا۔
19ویں اور 20ویں صدی میں برطانیہ گریٹ گیم” کے تحت روس کےجنوبی ایشیا میں ممکنہ اثرورسوخ سےخوفزدہ تھا۔ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، برطانیہ اس علاقے پر اپنا کنٹرول چاہتا تھا تاکہ روسی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔دوسری طرف ڈوگرہ حکمران گلگت بلتستان پراپنا موثر کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام رہے تھے مقامی لوگوں کی مزاحمت اور علاقے کی دور افتادگی کی وجہ سے انتظام مشکل تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے29 مارچ 1935 کو ایک معاہدے کے تحت گلگت ایجنسی کا انتظام 60 سال کے لیے برطانوی حکومت کےحوالے کردیاتھا۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے گلگت میں اپنا سیاسی ایجنٹ مقرر کیا اور براہ راست انتظام سنبھال لیا۔
(جاری ہے)