Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

ابلاغی فتنہ گری اور جھوٹے بیانیے کا پھندا

تحریک انصاف اور حکمران نون لیگ کے درمیان جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔حسب سابق یہ جنگ ابلاغی اکھاڑے میں لڑی جا رہی ہے۔ نت نئے بیانیے اور لفظی گولہ باری کے ہتھیاروں سے لیس دونوں جماعتوں کے جنگجو بھرپور وار کر رہے ہیں۔پنجاب کی وزیر اطلاعات نے انصافی لشکر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جھوٹے بیانیے کہ فروخت کے لیے میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔نہ تو یہ الزام نیا ہے اور نہ ہی تحریک انصاف اپنی اس صلاحیت پر کبھی شرمسار ہوئی ہے ۔یہ امر قدرے حیران کن ہے کہ ذرائع ابلاغ خاص طور سے سوشل میڈیا پر بیانیے کے ذریعے ہجان بپا کرنے کی صلاحیت پر تحریک انصاف ہمیشہ فخر کرتی چلی آئی ہے۔ یہ حقیقت بھی رد نہیں کی جا سکتی کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی حریف تحریک انصاف کی بیانیہ سازی اور برق رفتار پروپیگنڈ ے کے ہاتھوں درد سر کا شکار رہتے ہیں۔ پے درپے سیاسی غلطیوں اور ناقص کارکردگی پر تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے پردہ ڈالے رکھا ہے۔
گو کہ سابق وزیراعظم ،ان کی اہلیہ اور جماعت کے لیڈر مختلف مقدمات کے تحت قید کاٹ رہے ہیں تاہم کسی شرمندگی کا شکار ہونے کے بجائے انصافی لشکر اس قانونی عمل کو سیاسی انتقام قرار دیتا چلا آیا ہے۔پنجاب کی وزیر اطلاعات نے خصوصیت کے ساتھ تحریک انصاف کی اس صلاحیت کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے بانی چیئرمین کی قید کا ذکر کرتے ہوئے انصافی لشکر زیر تفتیش سنگین بدعنوانی کے الزامات کے بجائے اپنے قائد کی بہادری اور استقامت کی خیالی داستانیں بیان کر کے کارکنوں کا لہو گرماتے ہیں۔حقائق کے برعکس بیانیے گھڑنے کی صلاحیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ تسلسل کے ساتھ قید تنہائی اور ملاقاتوں پر قدغن کا واویلا مچا کر عوام کی ہمدردیاں بٹوری جا رہی ہیں۔حکومت کے ترجمانوں کا موقف بھی توجہ طلب ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر اختیار ولی نے حالیہ پریس کانفرنس میں اہم حقائق بیان کئے ہیں۔ اگر ملاقاتوں پر قدغن ہوتی تو آئے روز تحریک انصاف کے رہنما اڈیالہ جیل سے باہر ملاقات کرنے کے بعد سابق وزیراعظم کے فرمودات کس طرح بیان کر پاتے؟ ہر اہم قومی معاملے پر اسیر بانی چیئرمین کا بیان ذرائع ابلاغ سے جاری کیا جاتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ بین الاقوامی یا غیر ملکی میڈیا تک سابق وزیراعظم کے خیالات اور تحریریں بہ آسانی پہنچ جاتی ہیں۔ان کے بعض بیانات اختیارات کے صفحہ اول پر سرخیوں کی صورت میں بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ ان کے ایکس اکائونٹ سے 413 پوسٹیں کی جاچکی ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں 66 ملاقاتیں جیل کے ریکارڈ میں درج ہیں۔ حکومتی ترجمان کہتے ہیں کہ ایک سال کے دوران 45 مواقع پہ سابق وزیراعظم کے بیانات اخبارات کے صفحہ اول پر شہ سرخی کی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصے قبل سابق وزیراعظم کا مضمون ٹائم میگزین میں شائع ہوا تھا۔یہ اہم سوال اب تک جواب طلب ہے کہ کیا ہر قیدی کو پاکستانی جیلوں میں یہ سہولیات دستیاب ہیں کہ وہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا تک اپنی تحریر یا افکار و نظریات پہنچا سکیں؟آئے روز بانی چیئرمین جیل سے ہدایت جاری کر کے پارٹی کے عہدے داروں کو تبدیل کرنے کا شوق پورا فرماتے رہتے ہیں۔ اہم سیاسی معاملات پر تسلسل سے ان کے بیانات نہ صرف پارٹی عہدے داروں تک پہنچتے ہیں بلکہ اخبارات اور چینلز کی زینت بھی بنتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں قید تنہائی اور ملاقاتوں پر پابندی کا بیانیہ محض روایتی دروغ گوئی ہی لگتا ہے۔ اسی طرح اصحاب انصاف اپنے بہت سے بیانیوں میں حقائق کے برعکس موقف کا پرچار کر رہے ہیں۔قانون کے تحت گرفتاری کے عمل کو اغوا اور حبس بیجا کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔
نو مئی کے منظم فسادات بھی اسی ابلاغی جھانسے کی بنیاد پر کروائے گئے۔ایک جانب سیاسی مخالفین کو چور، ڈاکو اور لٹیرے کہہ کر احتساب کے دعوے کیے گئے تو دوسری جانب مرکزی قیادت کے خلاف مالی بدعنوانیوں اور سرکاری وسائل کے خرد برد کو سیاسی انتقام کہہ کر عوام کی توجہ بٹانے کی کوشش کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا پر پروپیگنڈے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کندھے استعمال کیے گئے۔تحریک انصاف کے تضادات کی فہرست بہت طویل ہے۔ حقیقی آزادی کے پر فریب نعرے کے ذریعے تحریک انصاف نے خود کو امریکہ مخالف انقلابی جمہوری قوت کے طور پر پیش کیا۔ ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘کے پرکشش نعرے سے اپنے قائد کو ایک مسیحا کے طور پر پیش کیا۔ اب معاملہ الٹ چکا ہے۔ جس امریکہ کو لعن طعن کی گئی تھی آج اسی امریکہ کے سیاست دانوں اور صدر سے مدد کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔اوسط درجے کہ امریکی اہلکاروں کے ٹویٹ پر ملکی سیاست کی پیالی میں طوفان اٹھائے گئے۔ابلا غی فتنہ گری سے مقبولیت کی سیڑھی تو طے کر لی لیکن جماعت کے سادہ لوح حامی اور عہدے دار ایک بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔متضاد بیانیوں کا پھندا گلے میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔
انصافی لشکرکئی مخمصوں کا شکار ہے۔ احتجاج کریں یا مذاکرات؟قید تنہائی کا وا ویلا کریں یا بانی چیئرمین کے میڈیا پر گردش کرتے بیانوں کا جشن منائیں؟دوسروں کو چور کہیں یا اپنی قیادت کے احتساب پر پردہ ڈالیں؟ بیرون ملک مقیم بھگوڑوں کی ہدایت پر ہیجان پھیلائیں یا ان کے سیاہ کرتوتوں سے لا تعلقی کا اظہار کریں؟حکمران جماعت کو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ اگر سابق وزیراعظم جیل سے بیرونی دنیا تک پیغام رسائی کر رہے ہیں تو کیا یہ رعایت حکومت کی منشا سے دی گئی ہے یا قوانین کی خلاف ورزی ہے؟اگر خلاف ورزی ہے تو اسے روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ خبر گرم ہے کہ ایک مفرور دست راست امریکی ایوانوں میں فریاد رسی کے لئے جھولی پھیلانے جا رہا ہے۔ کیا یہ حقیقی آزادی کے امریکہ مخالف بیانئے سے کھلا انحراف نہیں؟

یہ بھی پڑھیں