(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکی صدرآئزن ہاورنے اسرائیل کویہ دھمکی اس وقت دی تھی جب صرف چندہفتوں بعدامریکامیں صدارتی انتخابات ہونے جارہے تھے ۔ امریکی صدرآئرن ہاورکی اس دھمکی کے نتیجے میں اسرائیل نے چندمہینوں میں تمام مصری علاقے خالی کردئیے۔
اسی طرح جب1978ء میں جب اسرائیل نے لبنان پرحملہ کیااوردریائے لیتانی تک آگیاتوامریکی صدرجمی کارٹرنے اسرائیل کوامداد بندکرنیکی دھمکی دے کر مجبورکردیاکہ وہ لبنان کی سرحدمیں چند کلومیٹرتک محدودرہے۔اس کے بعداگلے امریکی صدررونالڈ ریگن نے1981ء میں’’اے آئی پی اے سی‘‘کے بھرپور دباؤ کومستردکرتے ہوئے فوکس طیارے سعودی عرب کوبیچے۔اس کے 10 سال بعدبش سینئرنے ’’اے آئی پی ایس ‘‘کے بھرپوردباؤکاکامیابی سے مقابلہ کیا اوراسرائیل کی ناک رگڑتے ہوئے10ارب کاقرضہ جاری نہیں کیاجب تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی امن منصوبے کی راہ میں رکاوت’’یزٹحاک شمیر‘‘کوشکست نہیں ہوگئی کیونکہ یہ امریکی منصوبے میں رکاوٹ تھا۔2004ء میں بش جونیئرنے اسرائیل کونہ صرف چین سے اس معاہدے کوتوڑنے پرمجبورکردیاجس کے تحت اسرائیل نے طیاروں کوجدیدبنایاتھا بلکہ اسرائیلی وزارت دفاع کے ’’ڈائریکٹرجنرل آموس یارون ‘‘کوبھی استعفیٰ دیناپڑا۔
اسی طرح اسرائیل پچھلے کئی سالوں سے امریکا کوایران پر حملے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کرتارہا لیکن نہ صرف یہ کہ امریکانے اس کی اس خواہش کوپورا نہیں کیابلکہ امریکانے اسرائیل کوبھی سختی سے ایران پرکسی بھی قسم کے حملے سے روک دیاتھا۔
ان تمام حقائق کے باوجودآخرامریکاکیوں اسرائیل کی اس قدرحمایت کرتاہے۔سب سے پہلے تواس بات کوذہن نشین کرلیناچاہیے کہ امریکاایک نظریاتی ریاست اوردنیاکی واحد سپرپاورہے۔امریکا جو بھی فیصلے کرتاہے اپنی ضرورت اورمفادات کو سامنے رکھ کر کرتاہے۔مشرق وسطیٰ کاعلاقہ کئی اعتبارسے اہمیت رکھتاہے۔دنیاکے تمام تجارتی بحری قافلے اس کے بحری علاقوں سے گزرتے ہیں،دنیاکے66فیصدسے زائد تیل وگیس کے ذخائراس علاقے میں موجودہیں اوران تما م باتوں سے بڑھ کریہ علاقے مسلم اکثریتی آبادی رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی اہمیت کو واضح کر نے کے لئے سابق برطانوی وزیر اعظم ہنری کیمپ بل(بینرمین)کاایک ہی تبصرہ کافی ہے۔
’’یہاں پروہ لوگ(مسلمان )رہتے ہیں جو اس زبردست علاقے اوراس زمین میں موجود ذخائر کو کنٹرول کرتے ہیں۔ان کی زمین انسانی تہذیب اور مذاہب کاگہوراہ ہے،ان لوگوں کاعقیدہ زبان، تاریخ اورجذبات ایک سے ہیں۔کوئی قدرتی رکاوٹ ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جدانہیں کرسکتی اوراگرکبھی جداہوبھی جائیں تویہ دوبارہ ایک مملکت میں ضم ہوجائیں گے۔پھریہ دنیاکی قسمت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اوریورپ کوباقی دنیاسے کاٹ دیں گے۔ان وجوہات کوسنجیدگی سے لیاجائے توضروری ہے کہ ایک بیرونی اکائی کو اس قوم کے دل میں پیوست کردیاجائے تاکہ اس قوم کی صلاحیتوں کوکبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں میں ضائع کر دیاجائے۔یہ بیرونی اکائی مغرب کے لئے ایک ایسے پلیٹ فارم کاکام بھی کرے گی جہاں سے وہ اپنے خفیہ منصوبوں کوانجا م دے سکے گا‘‘۔
یہ ہیں وہ بنیا دی وجوہات جن کی بناپرپہلی جنگ عظیم کے بعداس وقت کی سپرپاوربرطانیہ نے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں یہودی مملکت کی کوششوں کاآغازکیا اور پھردوسری جنگ عظیم کے بعدجب امریکاسپرپاوربن گیا تو اس کے مفادکاتقاضہ بھی یہی تھا کہ اسرائیل کی ریاست قائم کی جائے اوراس کومضبوط بنایاجائے۔اسرائیلی ریاست کے ذریعے اس علاقے کو مسلسل جنگوں میں مبتلارکھاجاتاہے جس سے ایک طرف امریکی اسلحے کی فیکٹریاں چلتی رہتی ہیں تودوسری طرف ان ممالک کی کمزوری کے سبب امریکاان ممالک میں اپنے اثرورسوخ کوبڑھاتااوربرقراررکھتاہے۔
دنیاکی واحدسپرپاورامریکاہے جوسرمایہ داریت کے نظریے کاعلم بردارہے۔مسلمانوں اوراسلام کاحقیقی دشمن یہودی یا اسرئیلی ریاست نہیں بلکہ امریکااورسرمایہ داریت کانظام ہے، اسرائیل تومحض امریکی مفادات کوپوراکرنے والاایک کھلا ڑی ہے۔اس کھلاڑی کی یہ جرأت اورطاقت نہیں ہوسکتی کہ وہ وقت کی واحدطاقت کو اپنے مفادات کے مطابق چلاسکے۔ اسرائیل کی اس حقیقت کوایک اسرائیل استاداورامن کے لئے کام کرنے والے کارکن نے اس طرح سے بیان کیا ہے، اسرائیل اپنے قبضوں کواس لیے برقراررکھ پاتاہے کیونکہ وہ مغرب خصوصاًامریکاکے استعماری مفادات کوپورا کرنے کے لئے تیاررہتاہے اورحقیقت میں اب اسرائیل امریکاکا ایک آزمودہ سپاہی بن چکاہے۔سابق امریکی وزیرخارجہ الیگزینڈرہیگ نے اسرائیل کے متعلق بڑااہم بیان دیا تھا، اسرائیل امریکاکا واحدسب سے بڑابحری وہوائی بیڑہ ہے جوڈوب نہیں سکتا۔
تاریخی اعتبارسے یہوداپنی سازشوں،مال واسباب اورسیاسی اثرورسوخ کے باوجودکبھی بھی اپنے سیاسی اہداف بغیرکسی بیرونی طاقت کی مددکے بغیرحاصل نہیں کرسکے۔پچھلے چودہ سوسال میں یہودعباسی خلافت، عثمانی خلافت،اسپین کی اموی حکومت، یورپ اورامریکا میں معاشی لحاظ سے ہمیشہ خوش حال رہے ہیں لیکن کبھی بھی کسی علاقے میں یہودکوئی قابل ذکرسیاسی مقام نہیں بناسکے۔ ریاست مدینہ میں بنوقریضہ،بنوناصر، بنوقینوقاہ اور خیبرکے یہوداپنی معاشی سیاسی اور فوجی قوت کے باوجود کبھی بھی مدینہ کی ریاست کوبراہ راست چیلنج نہیں کرسکے بلکہ ہمیشہ قریش مکہ کی مددکاانتظار کرتے تھے اورآخرمیں اپنی سازشوں اوروعدہ خلافیوں کی بناپران کوبے دخل ہوناپڑا۔
(جاری ہے)