Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

یہود کی طاقت، حقیقت یا فریبِ نظر؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخی اعتبارسے یہوداپنی سازشوں،مال واسباب اورسیاسی اثرورسوخ کے باوجودکبھی بھی اپنے سیاسی اہداف بغیرکسی بیرونی طاقت کی مددکے بغیرحاصل نہیں کرسکے۔پچھلے چودہ سوسال میں یہودعباسی خلافت، عثمانی خلافت،اسپین کی اموی حکومت، یورپ اورامریکا میں معاشی لحاظ سے ہمیشہ خوش حال رہے ہیں لیکن کبھی بھی کسی علاقے میں یہودکوئی قابل ذکرسیاسی مقام نہیں بناسکے۔ ریاست مدینہ میں بنوقریضہ،بنوناصر، بنوقینوقاہ اور خیبرکے یہوداپنی معاشی سیاسی اور فوجی قوت کے باوجود کبھی بھی مدینہ کی ریاست کوبراہ راست چیلنج نہیں کرسکے بلکہ ہمیشہ قریش مکہ کی مددکاانتظار کرتے تھے اورآخرمیں اپنی سازشوں اوروعدہ خلافیوں کی بناپران کوبے دخل ہوناپڑا۔
یہودیورپ میں ہمیشہ دوسرے درجہ کے شہری رہے اورجب کسی حکمران نے ان پرظلم وستم کرناچاہاتوان کی معاشی طاقت کبھی کام نہ آئی۔جب عثمانی خلافت اپنے کمزورترین دور سے گزررہی تھی تویہودیوں نے خلیفہ عبدالحمید دوئم کواس بات کی پیش کش کی کہ اگرانہیں فلسطین کی زمین دے دی جائے توخلافت عثمانہ کے تمام قرض وہ اداکردیں گے لیکن اپنی معاشی قوت اورخلافت کی کمزوری کے باوجودیہوداپنے مقصدمیں کامیاب نہیں ہوسکے۔وہ قوم جوپچھلے ڈھائی ہزارسال سے اپنی تمام ترسازشی ذہنیت اورمال واسباب کے باوجود دربدرتھی، بالآخربرطانوی وزیراعظم ہنری کیمپ بل کی وفات کے چالیس سال بعداس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے برطانیہ عربوں کے سینے میں خنجرگھونپ کرفلسطین میں اسرائیل مملکت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔خطے میں اسرائیل کاقیام اس وجہ سے ضروری تھاکہ مسلمانوں کوہمیشہ کے لئے منقسم رکھنے اورخطے میں اپنے مفادات کے مستقل حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہودکوایک ریاست کی شکل میں طاقت دی جائے۔اللہ فرماتے ہیں۔
’’یہ تمہاراکچھ بگاڑنہیں سکتے،زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتے ہیں۔اگریہ تم سے لڑیں گے تومقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کومددنہ ملے گی۔ یہ جہاں بھی پائے گئے ان پرذلت کی مارہی پڑی،کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تویہ اوربات ہے۔یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں،ان پرمحتاجی ومغلوبی مسلط کر دی گئی ہے اوریہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہواہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفرکرتے رہے اورانہوں نے پیغمبروں کوناحق قتل کیا۔یہ ان کی نافرمانیوں اورزیادتیوں کاانجام ہے۔‘‘ (العمران111۔(112
اللہ نے قوم یہودپرہمیشہ ہمیشہ کی ذلت مسلط کردی ہے۔یہودسیاسی،معاشی اورفوجی لحاظ سے کبھی بھی مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں رہے،آج اگریہود مسلمانوں پرغالب ہیں توصرف اپنے استعماری آقا امریکا کی قوت کی وجہ سے۔ہم مسلمانوں کویہ سمجھناچاہیے کہ امریکادانستہ اس نظریے کوفروغ دیتاہے کہ یہودی لابی اس قدرطاقتورہے کہ امریکاجیسی طاقت بھی اس کے آگے مجبورہوجاتی ہے،اس بات کوفروغ دینے سے امریکادوفائدے حاصل کرتاہے۔
1۔وہ مسلمانوں کی امریکاسے نفرت کارخ یہودکی طرف موڑدیتاہے۔
2۔مسلمان اسرائیل کواپنااصل دشمن سمجھ کرصرف اسرائیلی قوت کوختم کرنے کی کوششو ں میں لگ جا تے ہیں،اس طرح نہ تو امریکاختم ہوتاہے اورنہ ہی اسرائیل،امریکاغدارمسلم حکم رانوں کے ذریعے اس بات کوممکن بناتاہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوجی قوت منشتررہے اورپھریہ مسلم افواج آپس میں بھی قومیت اوروطنیت کی کفریہ بنیادوں پر لڑتی رہیں،مسلمانوں کوجان لیناچاہیے کہ جب تک وہ اپنی گردنوں پرمسلط غدارامریکی ایجنٹ حکمرانوں سے نجات حاصل نہیں کرتے امریکااوراس کے سرمایہ داری نظام سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔
یہاں یہ بتانابھی بہت ضروری ہے کہ یہاں امریکااوراسرائیل حکومتوں کی طرف اشارہ ہے۔جس طرح اسلامی حکومتیں مسلم عوام کی خواہشات کی علمبردارنہیں بلکہ اسی طرح مغرب اورامریکاکی حکومتیں بھی یہاں کے عوام کی مکمل خواہشات کی آئینہ دار نہیں۔اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ جب امریکا،برطانیہ اوران کے دیگر اتحادیوں نے عراق پرحملہ کرنے کا اعلان کیاتو یورپ کی تاریخ کاسب سے بڑاملین افرادکامظاہرہ برطانیہ میں ہواجہاں ہرمکتبہ فکرکیافرادنے اس حملے کی بھرپور مخالفت کی اورآج بھی آئے دن برطانیہ،یورپ اور امریکامیں ہزاروں افرادسڑکوں پربے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام روکنے کے لئے سراپااحتجاج ہیں لیکن یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ اس سرمایہ داری نظام کی پیداکردہ جمہوری نظام ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ دنیامیں جاری اس ظلم وستم کے خلاف جوادراک پیداہورہا ہے، اس کوفوری طورپربہتراورجاری جمہوری اندازمیں حاصل کرنے کے لئے یہاں کی تمام سیاسی
جماعتوں میں عملًا شمولیت اختیارکی جائے اورسیاسی سفرمیں قانون سازاداروں میں پہنچ کرحق وصداقت کے لئے قانون سازی میں اپناکردارادا کیا جائے۔یقینا ایک دن ضرورآئے گاکہ جب مظلوم کو انصاف ملے گااوریہی افرادجوآج سڑک پردنیامیں ہونے والے اسرائیلی،امریکی جارحیت کے خلاف اپنااحتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں،وہ آئندہ انتخابات میں اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہرامیدوارسے یہ وعدہ ضرور لیں گے کہ وہ پارلیمنٹ میں جاکرایسی قانون سازی کریں جن کی بنیادپرہرظالم کولگام ڈالی جاسکے۔
کچھ بھی تونہیں رہے گا،کچھ بھی تونہیں،بس نام رہے گااللہ کا!

یہ بھی پڑھیں