Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

صلح یاصلہ؟

جب مشرق کی پیشانی پراذان کی صدااولین بارابھری تھی،تواس نغمے میں وحدت کی بازگشت تھی۔وہ صدا،جوبیت المقدس سے لے کرخانہ کعبہ تک فضائوں میں گونجتی رہی،اہلِ زمین کوایک ایسے معبودِبرحق کی طرف بلاتی رہی جس کے حضورنہ کوئی فرعون سراٹھا سکتا تھا،نہ کوئی نمرود،مگرآج،اسی صداکے وارثوں کے درمیان ایسی دستاویزگردش میں ہے جسے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے اورجس کی روح سے زیادہ اس کاسایہ سنگین ہے۔
یہ معاہدہ فقط سیاہی سے لکھی ہوئی چندسطریں نہیں،یہ تاریخ کے دامن پرایک ایساتازہ دھبہ ہے جوماضی کے زخموں کو پھرسے ہراکردیتاہے۔صلح کے پردے میں تحقیر،امن کے خول میں نفاق،اوربھائی چارے کی زبان میں تابعداری کاوہ زہر چھپاہے جوقوموں کی غیرت کوسرنگوں کرنے کے لئے کافی ہوتاہے۔فلسطین کی مٹی اب بھی اپنے شہیدبیٹوں کی خوشبو سنبھالے کھڑی ہے،اور قدس اب بھی قیدہے،مگراسیرہونے سے انکارپرقائم۔وہ لوگ جوایک وقت میں قبل اول کی بازیابی کی دعامانگاکرتے تھے،آج بیت المقدس کے درو دیوار کے سامنے اسرائیل کے جھنڈے لہرارہے ہیں۔وہ ہاتھ،جوکبھی شہیدکی میت پر بلند ہوتے تھے،آج اسرائیل سے تجارتی معاہدے کرتے وقت جھکے نظرآتے ہیں۔تاریخ حیران ہے، امت خاموش، اورعالمِ اسلام خوابِ غفلت میں ڈوباہوا۔
یہ تحریراس خاموشی میں ایک صدا ہے صدائے احتجاج،صدائے بیداری،صدائے تحقیق۔اس میں ہم فقط ابراہیمی معاہدے کی سفارتی پیچیدگیوں کونہیں چھیڑتے، بلکہ اس کے تہہ درتہہ مفاہیم کی پرتیں کھولتے ہیں،اس کے محرکات کی گرہیں سلجھاتے ہیں،اوراس کے پس منظرمیں جاری تہذیبی یلغارکاتجزیہ کرتے ہیں۔یہ معاہدہ کس کے لئے’’صلح‘‘ہے اورکس کے لئے ’’صلہ‘‘؟ کس کے لئے ترقی کادروازہ اورکس کے لئے غلامی کی زنجیر؟تاریخ کاقلم ابھی تھمانہیں،وقت کے صفحات ابھی مکمل نہیں ہوئے لیکن وہ قومیں جواپنی تاریخ خودنہیں لکھتیں،ان کے لئے فاتح ہی تاریخ لکھتے ہیںاورپھروہ تاریخ ’’معاہدات‘‘کے روپ میں ان کے سروں پرتھوپ دی جاتی ہے۔پس یہ تحقیق فقط ایک تجزیہ نہیں،یہ صدائے ضمیرہے؛یہ نوح قدس بھی ہے ،اوراذانِ بیداری بھی۔آئیں:ابراہیمی معاہدے کو اس کی اصلی روشنی میں دیکھیںوہ روشنی جوآنکھوں کوخیرہ نہیں کرتی،دلوں کوجھنجھوڑتی ہے۔
جب تاریخ اپنے دامن سے گردجھاڑتی ہے تووہ فقط واقعات کی ترتیب نہیں،بلکہ تہذیبوں کی باہمی کشاکش اورحکمتوں کے جال کی پرتیں بھی واکرتی ہے۔ ابراہیمی معاہدہ اسی تاریخ کاایک ایساباب ہے،جہاں الفاظ سفارتی معلوم ہوتے ہیں،لیکن ان کے پیچھے تہذیبی بالادستی،جغرافیائی سیاست اورمذہبی تانے بانے کی گہری گتھیاں پنہاں ہیں۔
2020ء میں امریکی صدارت کے سنگھاسن پربراجمان ڈونلڈٹرمپ کے دورمیں خط عرب کی سیاسی افق پرایک ایسی دستاویزنے جنم لیاجسے’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کے نام سے تعبیرکیاگیا ۔یہ وہ معاہدہ ہے جویہودی نژاد ہنری کیسینجرکے ون ورلڈ آرڈرکے عین مطابق 2020ء میں واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدارتِ ٹرمپ کے دورمیں’’ابراہیمی معاہدے‘‘کے نام سے طے پایا،جس میں متحدہ عرب امارات اوربحرین نے اسرائیل کورسمی طورپرتسلیم کیا،اوربعدازاں مراکش بھی اس فہرست میں شامل ہوا۔یہ معاہدہ محض ایک رسمی اعلان نہیں،بلکہ صدیوں پرمحیط عرب-اسرائیل دشمنی کے بیچ ایک ایساخاکہ ہے جس میں اسرائیل کوتسلیم کرنے والے عرب ممالک نے اپنے سیاسی قبلہ کویکایک مغرب کی سمت موڑدیا۔اس معاہدے کو ’’ابراہیمی‘‘اس نسبت سے کہاگیاکہ تینوں توحیدی ادیان یہودیت،عیسائیت اوراسلام کوحضرت ابراہیم علیہ السلام کی روحانی نسبت سے جوڑاگیا،حالانکہ زمینی حقیقتیں اس’’روحانیت‘‘سے زیادہ زمام اقتدارکی گرفت میں نظرآتی ہیں۔یہ محض قانوناًدونوں اطراف کی سفارتی قبولیت نہیں بلکہ ایک نیاعصرِجغرافیائی وسیاسی نقشہ ہے جوتین ابراہیمی ادیان کی’’سماجی ہم آہنگی‘‘کے فلسفے کے نام پرامریکاکی ڈپلومیسی کی چھتری تلے پیش کیاگیا۔
اگرکہیں’’صلح‘‘اورکہیں ’’شطرنج کی بساط‘‘ ہو تویہ سازشیں واضح ہوتی ہیں کہ فلسطینی مسئلے کوپس پشت ڈال کراسرائیل کو عرب دنیاکاایک مستندعنصربنانا مقصود ہے تاکہ اسرائیلی ریاست کوسفارتی طورپرقبولیت کادرجہ دیاجائے۔اس کے ساتھ ہی ایران مخالف محاذکی تکمیل کے لئے خلیجی ملکوں کے ساتھ اتحادجوامن کے نام پرایران مخالف ایک بندگھیراتشکیل دیا جائے۔ سب سے خطرناک امریہ کہ واشنگٹن کے سامنے عرب دنیاکامنہ جھکاناجس سے امریکی خارجہ پالیسی کااستحکام یقینی ہو جائے اوراپنے ان مذموم ارادوں کی تکمیل کے لئے عوامی ردِعمل کونظراندازکرتے ہوئے سیاسی نرم دبائوکے ذریعے عرب عوام کی دبی آوازکوسماجی قبولیت کے لئے یقینی بنایاجائے۔
گویایہ ثابت ہوگیاہے کہ امریکایہودی اثرونفوذکے تحت ابراہیمی معاہدہ کی سطح پر’’امن‘‘کاپرچم لہراتاہے،لیکن اس کے نیچے طاقت کی وہی پرانی بساط بچھی ہے جس پرقومیں اپنے مفادات کی شطرنج کھیلتی ہیں۔اس معاہدے کامقصدمشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے وجودکوتسلیم کرواکراسے’’ریاستی جواز‘‘فراہم کرناہے تاکہ فلسطینی مزاحمت کوبین الاقوامی حمایت سے محروم کردیاجائے۔اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف ایک متحدمحاذبنانابھی امریکی-اسرائیلی ایجنڈے کامرکزی ستون ہے جس کاعملی مظاہرہ حالیہ ایران اسرائیل کی جنگ میں امریکی جارحیت کی شکل میں اقوام عالم دیکھ چکی ہے ۔ دراصل ابرہیمی معاہدے کے پسِ پردہ مقاصد تہذیبی سرنگ کے ذریعے چالاک سفارت کاری سے مقاصد کاحصول ہے۔
2008ء میں اسپین کے شہرمیڈرڈمیں سعودی فرمانرواشاہ عبداللہ نے تاریخ میں پہلی باربین المذاہب کانفرنس میں شرکت کی اورایک ہمہ گیرخطاب کیا۔شاہ عبداللہ کے اس یادگار خطاب کو مہذب پیرائے میں مذہبی تفاوت کوتعمیری مکالمہ کی شروعات قراردیا گیا جس میں ان کے خطاب کالب لباب’’امن،بقائے باہمی اوربین المذاہب ہم آہنگی‘‘تھاتاہم، اس کانفرنس کوبعض تجزیہ نگاروں نے اسرائیل کوتسلیم کرنے کی نظریاتی تمہیدقراردیاتھا۔انہوں نے عالمی مذاہب کے علماکومخاطب کیاکہ:
’’خدانے انسانوں کومختلف بنایاتاکہ وہ ایک دوسرے کوجانیں،نہ کہ جھگڑیں۔اختلاف کی بجائے امتِ انسانی پرتوجہ دیں‘‘مگریادرہے کہ یہ خودایک سیاسی بیان تھا،جس کی بعض حلقوں نے اسرائیل کی موجودہ سیاسی سچائی کے لئے پیش خیمہ تسلیم کیا ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعارف اور مخلص کوشش بالآخر ’’تسلیم‘‘کی دہلیز پر لے آیا؟موجودہ حالات اس کی کھلی نفی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے داماد، جیرڈ کشنر، جنہیں سیاسی سفارت کاری کا کم عمر مگر نہایت چالاک مہرہ کہا جا سکتا ہے، اس پورے معاہدے کے معمار کہلائے جا سکتے ہیں۔ پس پردہ خفیہ بیک ڈور چینلز کے ذریعے اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی راہ ہموار کی گئی۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کیا بلکہ تجارتی، سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی میں بھی معاہدات طے کیے۔ یہ پیش رفت ’’امن”‘‘کے پردے میں وہی ’’مفادات‘‘کی سیاست ہے جس کی جڑیں واشنگٹن سے لے کر تل ابیب تک پھیلی ہوئی ہیں۔شطرنج کے پس پردہ ہاتھ میں نئے دور کے یہودی نژاد لارنس آف عریب یا جیرالڈ کشنز کی خفیہ سفارت کاری اور ولی عہدمحمد بن سلمان کی باہمی قربت اور رفاقت کی داستان کو سمجھنا ازحد ضروری ہے جس نے شاہی درباروں اور سفارتی کتب خانوں کی تہہ میں ایک نئی روشنی پھونکی۔
رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان نے اپنے قریبی حلقوں میں فخر سے کہا کہ ’’ کشنر میرے پاؤں کا طواف کرتا ہے وہ میرے پوکٹ میں ہے‘‘۔اصلا یہ متنازعہ استعارہ اس رفاقت کی سطح بتاتا ہے جو دو طاقتوں کے مابین محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذاتی بنیادوں پر قائم تھی کہ اس رفاقت یا سیاسی حلیف کے سارے کھیل میں کس کی پاکٹ میں کون تھا،حالات نے سب آشکار کر دیا ہے۔اس دوستی کو مضبوط کرنے کے لئے جیرالڈ کشنز نے اطلاعات کی رازداری اور طاقت کے تبادلے ساتھ محمد بن سلمان کے ساتھ اس وقت گہرا رشتہ قائم کر لیا جب اس نے انٹرسپٹ کی رپورٹس کے مطابق، کشنر نے اپنے پاس موجود ’’ڈیلی بریف‘‘سے رازداری میں شاہی قریبی شخصیات کے نام ولی عہد محمد بن سلمان کو بتائے، جس کے ہفتوں کے اندر ہی ایک طاقتور ضدِ کرپشن مہم کے نام پر چند سو سعودی شہزادوں اور تاجروں کو گرفتار کرکے ریٹز کارلٹن میں محصور کیا گیا ۔ یہ اقدامات مغربی اطلاعات کے اشتراک اور اندرونی سیاسی صف بندی کی سنگین پیچیدگی کی عکاس تھے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں