کارگردگی دکھانے کے بجائے قلا بازیاں لگا کر تحریک انصاف سیاسی میدان مارنا چاہتی ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انصافی لشکر سیاسی جمناسٹک کا مظاہرہ کر رہا ہے۔جس بیانیے پر عوام دل و جان سے فدا ہوئے تھے آج اس کے برخلاف حکمت عملی اپنائی جا چکی ہے۔تحریک عدم اعتماد میں شکست کے بعد جب حکومت ہاتھ سے نکلی تو یہ واویلا مچایا گیا کہ امریکہ بہادر کے اشارہ ابرو پر ’’رجیم چینج‘‘ہوا ہے۔فوج کے خلاف دشنام طرازی کی گئی۔ چونکہ امریکہ مخالف چورن پاکستان میں بہت زیادہ بکتا ہے لہذا عوام میں یہ بیانیہ مقبول ہو گیا۔بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم حقیقی ازادی کا نعرہ تخلیق کر کے مرشد کی مسند پہ براجمان ہو گئے۔امریکہ کے خلاف ہر محاذ پر طبل جنگ بجانے والی تحریک انصاف آج کل کچھ اور ہی طرز کی جدوجہد کر رہی ہے۔مرشد جیل کیا گئے امریکہ کے متعلق تحریک کا طرز فکرہی تبدیل ہو گیا ۔ امریکی کانگرس میں لابنگ کی گئی۔پاکستان میں جمہوریت کی صحت اور الیکشن میں شفافیت پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ٹرمپ ابھی صدر بھی نہ پائے تھے کہ جان نثاران انصافی انقلاب نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ فخریہ دعوے کئے گئے کہ صدر ٹرمپ حلف اٹھاتے ہی سب سے پہلے اپنے دوست عمران خان کی رہائی کا فرمان جاری کریں گے۔ پھر پاکستان میں کس کی مجال کے حکم عدولی کر سکے؟ایسا کچھ بھی نہ ہو!اس سوال کا جواب اب بھی انصافی لشکر پر قرض ہے کہ کیا غیر ملک سے ہدایت نامہ وصول کر کے کسی قیدی یا ملزم یا مجرم کو رہا کر کے قومی خود مختاری کو ٹھیس نہ پہنچے گی؟
شنید ہے کہ امریکی کانگرس سے پارلیمان سے من مرضی کے بیانات اور ٹویٹ کروانے کے لیے بڑے پیمانے پر لابنگ کی گئی. امریکہ میں رجسٹرڈ پاکستانی نژاد اور ووٹرز کی حمایت پانے کے لیے کانگرس اراکین نے گاہے بگاہے جو بیانات تحریک انصاف کی فرمائش پر جاری کیے ان کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم کی رہائی کے من گھڑت قصے تراشے گئے۔تاہم تحریک انصاف کے کھاتے میں حاصل وصول صفر ہی رہا۔ کثیر الجہتی سیاسی ناکامی نے تحریک انصاف پر مایوسی مسلط کر دی ہے۔ اندرونی محاز پر جماعت میں تقسیم اور انتشار کی جڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔جماعتی گروہ بندی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ہر دھڑا بانی چیئرمین کے حوالے سے متضاد نوعیت کے بیانات دے رہا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر مرشد محترم کی ملاقات سے فیض یاب ہونے والے خواتین اور حضرات متضاد نوعیت کے اعلانات فرما رہے ہیں۔ہمشیرہ محترمہ نے فرمایا کہ مذاکرات کے بجائے حکومت مخالف تحریک ہی چلائی جائے گی۔کے پی وزیر اعلیٰ نے فرمایا کہ بانی چیئرمین ان حلقوں سے مذاکرات چاہتے ہیں جو دراصل با اختیار ہیں۔اس کی سادہ تشریح یہ ہے کہ مرشد محترم مقتدرہ سے مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں۔بیرسٹر سیف جو کہ آج کل پارٹی چیئرمین ہیں،فرماتے ہیں کہ تحریک تو شروع ہو چکی ہے۔لاہور میں قوالی نائٹ کے اجتماع میں گنڈاپور نے نوے دن کا راگ سنا دیا۔عالیہ حمزہ اور بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے درمیان سرد اور گرم بیانات کا تبادلہ بھی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر عوام تک پہنچا دیا۔جیل سے مرشد محترم نے عوام کے سامنے لڑائی جھگڑے سے منع فرمایا ہے۔گویا پس پردہ لڑائی جھگڑے کی اجازت ہے ۔اس عمل کو شوگر کوٹڈ کر دیا جائے تو اختلاف رائے کی اصطلاح برآمد ہوتی ہے۔
اندرون ملک جماعت کا انتشار بڑھ رہا ہے البتہ بیرون ملک پیالی میں طوفان اٹھانے والے سیاسی جمناسٹ اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔مرشد کے سابق مشیر زلفی صاحب امریکہ آن دھمکے ہیں۔ٹام لنٹوس کمیشن کے سامنے اپنے سیاسی دکھ درد بیان کیے ہیں۔مرشد کی رہائی کی دہائی دی ہے۔الیکشن کی شفافیت پر اعتراض اٹھایا ہے۔اس دردناک کلام میں تال میں تال ملانے کے لیے خاتون کانگرس رکن راشدہ طلیب بھی آگے آگئی ہیں۔ ٹویٹ داغ کر پاکستان کی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ محترمہ کو عسکری قیادت سے شکایت ہے۔ایسی کئی شکایتیں پاکستانیوں کو امریکیوں سے بھی ہیں۔کیا امریکہ میں کسی یکطرفہ سنوائی کی بنیاد پر پاکستان میں ریاستی پالیسی بدلی جا سکتی ہے؟ جواب ہے کہ ہرگز نہیں!حقیقی آزادی کے علمبرداروں کا امریکہ کے ایوانوں میں ایڑیا ں رگڑنا بہت براتاثر دے رہا ہے۔ہمارے سیاسی نابغے کب سمجھیں گے کہ ملکی مسائل کا حل اغیار کی چوکھٹ پہ نہیں بلکہ اپنے ملک میں تلاش کرنا چاہیے۔