Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وحدتِ امت: خواب یا امکان؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسلام کاسیاسی نظام شورائیت، عدل، مساوات اوراحتساب پرمبنی تھا۔مگرآج؟ہرملک اپنی ریاست ،ہرریاست اپنے مفادمیں گم۔قومیں قومی مفادات میں الجھی ہیں،اورامت کے تصور کا جنازہ نکل چکاہے اورامت مسلمہ اجتماعی سیاسی انتشارمیں مبتلاہے۔
نہ کوئی سعدؓ بن معاذ، نہ کوئی عمرؓ باقی
ہے قیادت کی جگہ،دولتِ بے کار فقط
اخلاقی زوال اورروحانی بے حسی کایہ عالم ہے کہ امت کردارسے خالی ہوگئی ہے۔ہمارے بازار جھوٹ سے لبریز،عدالتیں انصاف سے خالی، اور معاشرے فحاشی ومادہ پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سرسے لے کر پائوں تک علمی انحطاط اورتعلیمی زوال میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن اقتدار کیلئے غیرت اورحمیت تک کوگروی رکھ دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
نہ دیانت نہ شرافت، نہ محبت باقی
یہی ہے امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی محرومی
آج امت سیاسی تقسیم اورقیادت کے بحران میں غرق ہے۔اس کے پاس نہ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ وعلیؓ توکیاصلاح الدین ایوبی،محمد بن قاسم اور ٹیپو سلطان بھی تو نہیں رہے۔ہرملک، ہر قوم، ہر نسل، اپنی علیحدہ شناخت میں قیدہے۔قیادتیں یا تو کرپشن کی آلودہ ہیں یامغرب کی غلام۔
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبرتھی کہ چلا آئے گا الحادبھی ساتھ
اوآئی سی ہویاعرب لیگ،سب بے جان ادارے ہیں۔صرف رسمی اجتماعات ہیں۔ قراردادیں پاس ہوتی ہیں،تصاویرلی جاتی ہیں، مگرنہ عمل ہوتا ہے نہ نتیجہ۔وحدتِ امت کافقدان ایک عذاب کی طرح ہم پرطاری ہے۔ہرمظلوم مسلمان تنہا ہے۔ فلسطین جل رہاہے،کشمیر سلگ رہاہے،شام اجڑچکاہے، اور ہم فقط قراردادیں پاس کررہے ہیں:
اقبال بھی رویا تھا اس حالِ زبوں پر
امت ہے کہ خوابِ غفلت میں ہے مدہوش ابھی تک
پھراب سوال یہ ہے کہ حل کیاہے؟اس امت کے دردکامداوااورراہِ نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن سے عملی وابستگی اختیار کریں۔ سیرتِ رسول ﷺ کوزندگی کے ہرشعبے میں نافذ کریں۔ علم کومقصدِحیات بنائیں نہ کہ محض روزگارکا ذریعہ۔ اپنے کردارکو پیغمبرانہ شان دیں۔ امت کے تصورکو قومی تعصب پرمقدم رکھیں۔ امت کواپنے تعلق کو رب سے جوڑنا ہوگا۔نمازکوروح بناناہوگا، قرآن کو ہدایت، اور سیرتِ طیبہ کورہنمائی کامرکز۔ یادرکھیں : جب امت اپنی شناخت کھوبیٹھے،تواللہ اسے ذلت میں مبتلا کر دیتاہے،تاکہ وہ پھرسے اپنی اصل کوتلاش کرے۔
ہمارے نصاب میں قرآن وسنت، جدید سائنس،تاریخ،اورتہذیب کاتوازن ہو۔ہمیں غزالی اورنیوٹن،دونوں کے وارث بنانے ہوں گے۔ یونیورسٹیاں صرف ڈگری نہیں، شخصیت سازی کا مرکزہوں۔مدارس میں سائنسی بصیرت اورجامعات میں روحانی تربیت ہو۔فکرکی قیدیں توڑنی ہوں گی۔ ہمیں قرآن کووقت کی زبان میں پڑھنا ہوگا۔ہمیں اختلاف کونعمت سمجھنا ہوگا، اور اجتہاد کوعلم کاشعور دیناہوگا۔ تجدیدِایمان اور تعلق باللہ کی رسی کومضبوطی سے تھامنا ہوگا۔ ہر فردکوصادق،امین،محسن اورنیکوکار بننا ہوگا۔ گھر سے معاشرہ بنتاہے اورمعاشرے سے قوم۔ہمیں صبر،حلم،تواضع،سخاوت،اورعدل کواپنی شناخت بناناہوگا۔۔۔۔۔۔۔کردارکے غازی بنیں،نہ کہ گفتارکے بادشاہ!
یاد رکھیے!وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جوعلم وعمل کی راہوں پرچلتی ہیں،جووقت کی نبض پہ ہاتھ رکھتی ہیں،جواپنے ماضی سے سبق سیکھتی اورحال کوتعمیر کرتی ہیں۔میری یہ بات یادرکھیں کہ قومیں مر جاتی ہیں،جب ان کے دلوں میں زندگی کی تمناختم ہو جائے،جب ان کے دماغ سوچنے سے انکارکردیں اوران کی روحیں جمود کا شکارہوجائیں ۔ لیکن جو قومیں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا سیکھ لیں تویہ زندگی جوموت ہی کی امانت ہے،وہ سراٹھاکر جینے کاسلیقہ سکھادیتی ہے۔
یہ دنیاایمان،علم اورجہادسے بدلتی ہے، مگر جب امت ان تینوں کوچھوڑدے،تودنیااسے بدل دیتی ہے۔آج ہمیں ازسرنوتعمیرِامت کابیڑا اٹھانا ہوگا۔ یہ کام فردسے شروع ہوگا،دل کی اصلاح سے،نیت کی پاکیزگی سے،کردارکی مضبوطی سے۔یہ ذہن نشین رہے کہ زبان کا حسن قوم کے باطن کاآئینہ ہوتاہے۔آج ہماری زبانوں سے محبت،اتحاد اورخیرکی بجائے نفرت،تفرقہ اورتعصب کی بوآتی ہے۔ہمیں اب وہی زبان درکار ہے جودلوں کوجوڑدے،وہی قلم درکار ہے جوامت کے خوابوں کوتعبیردے،وہی فکر درکار ہے جوزمانے کا رخ بدل دے۔پھرمجھے اپنے مرشد اقبال یادآگئے:
دیار عشق میں اپنامقام پیداکر
نیا زمانہ نئے صبح وشام پیداکر
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیداکر
سیاسی بیداری اورقیادت کی اصلاح کیلئے امت کوباشعورووٹربنناہوگا۔ہمیں ایسی قیادت کو لانا ہوگا جوقرآن سے جڑی،سنت سے روشن، اور امت کی خدمت سے مزین ہو۔وحدتِ امت اور بین الاقوامی شعوراجاگرکرنے کیلئے قومیت، رنگ، نسل،زبانسب بعد میں،امت پہلے۔ہمیں ایک پرچم تلے جمع ہوناہے، جولاالہ الااللہ کاہے۔
شب تاریک سہی،مگرچراغ جلانالازم ہے
اب جورکے وہ خسارہ،جوبڑھے وہی مقدر
آئیے!ہم ایک ایساانقلاب برپاکریں جو پہلے دلوں کوبدلے،پھرمعاشروں کو، پھر دنیا کو۔ ایسا انقلاب جوعلم سے ہو،عدل سے ہو،اخلاق سے ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی فکر نہ کریں،بلکہ انہیں ابنِ سینا، ابنِ رشد، امام غزالی،اورابن تیمیہ جیسا بنا دیں۔ انہیں علم کا پیاسااورکردارکاپیکربنائیں۔
یادرکھیے!امت کازوال عارضی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم خودکوبدلنے کاارادہ کریں۔ قرآن کہتاہے:بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خوداپنی حالت نہ بدلے۔
آئیے ہم اپنے آپ کوبدلیں تاکہ ہماری قوم بدلے۔اوریہ دنیاپھرسے اسلام کی روشنی سے جگمگائے۔آج ہم یہاں صرف خطاب سننے نہیں،بلکہ تاریخ میں اپنے کردارکی تجدیدکیلئے جمع ہیں۔ ہمیں خودوہ ابراہیم بنناہوگاجوباطل کے بت توڑے، وہ محمدبن قاسم بنناہوگا جوحق کیلئے سرزمینوں کوتسخیرکرے،وہ صلاح الدین بننا ہوگا جو بیت المقدس کوآزادکرائے،وہ طارق بن زیاد بننا ہوگاجومنزل کے حصول کیلئے اپنی کشتیاں جلاکر اپنے لشکرکوپیغام دے کہ موت کے اندرہی وہ زندگی ہے جوفتح کاپیام لیکرآئے۔توآئیے،ہم آج یہ عہدکریں کہ: ہم خودکوبدلیں گے۔ہم قرآن سے جڑیں گے۔ہم علم کوہتھیاربنائیں گے۔ ہم کردارکو اپنازیوربنائیں گے۔اورہم امت کوایک بارپھر ’’خیرامت‘‘بنانے کاعزم کریں گے۔
لہٰذاہمیں اب وہ قوم بنناہے جوقرآن سے وابستہ ہو،سیرت سے روشنی لے،علم سے آشناہو، اخلاق سے مزین ہو،اورکردارمیں ممتاز ہو۔وقت کی یہ صدا ہمیں پکاررہی ہے:اٹھو!وہ ابراہیم بنو جو باطل کے ایوانوں میں توحیدکی مشعل روشن کرے۔ وہ محمد بن قاسم بنو جوظلم کی سرزمین پر عدل کاپرچم لہرائے۔

یہ بھی پڑھیں