جب قومیں تاریخ کے دریامیں اپنی کشتی کو بہاؤکے سہارے چھوڑدیتی ہیں،توکوئی بھی لہرانہیں غرق کرسکتی ہے۔اورجب قوموں کے افق پربادل صرف برسے نہیں،گرجنے بھی لگیں ،تواہلِ دانش کوخواب سے جاگ جاناچاہیے۔ہم جس برِصغیرمیں سانس لیتے ہیں وہ صرف جغرافیہ نہیں،تہذیبوں کامرکب ہے جہاں تاریخ دشمنوں کوبھی دوست بنانے کی تعلیم دیتی ہے اورجہاں دوستی کودشمنی میں بدلنے کے لئے فقط چندسیاسی کوتاہیاں کافی ہوتی ہیں۔آج بھارت کے خلاف جوفصیلِ خطرہ مشرق، مغرب اورشمال سے بلندہورہی ہے،وہ دراصل کئی دہائیوں کی غیرتدبرانہ پالیسیوں کاخمیازہ ہے۔
تاریخ کے صفحات پروہ قومیں سنہری حرفوں سے لکھی جاتی ہیں جووقت کی نزاکتوں کوتقدیرکے سپرد کرنے کی بجائے،تدبیرکے ذریعے حالات کارخ موڑنے کا ہنر رکھتی ہیں۔اگرچہ تقدیرایک ازلی قوت ہے، مگر تدبیر انسان کاوہ شعورہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے حال کوسنوارتاہے بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرتاہے۔ تقدیرپرایمان ایک روحانی تسکین ضرورہے،مگراگراسے عمل کی نفی،کوشش کی توہین،یاذمہ داری سے فرار کا جوازبنالیاجائے،تویہی عقیدہ زوال کازینہ بن جاتا ہے۔ برِصغیرکی تاریخ میں بہت سی مسلم ریاستیں محض اس لیے مٹ گئیں کہ ان کے سلاطین نے حالات کو ’’قسمت کا لکھا‘‘سمجھ کرہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھنے کوکافی جانامگر تقدیر اس وقت ایک روشن باب بن جاتی ہے جب اسے تدبیرکی مشعل سے پڑھا جائے۔تدبیرمحض ایک لفظ نہیں،یہ وہ شعوری کاوش ہے جس کے بغیراقوام کی کشتیاں وقت کے طوفانوں میں بھٹک جاتی ہیں۔یہ وہ ہنرہے جودشمن کے ارادوں کوپہلے ہی بھانپ لیتاہے ،اور ایسی راہیں نکالتاہے جن پرچل کرقومیں نہ صرف محفوظ رہتی ہیں بلکہ ترقی کے زینے طے کرتی ہیں۔
حال ہی میں جنرل انیل چوہان کی تشویش، راہول بیدی کی خبروں میں چھپی ہزیمت،اوربنگلہ دیش وچین کابڑھتاہواعسکری وسیاسی گٹھ جوڑیہ سب کچھ تقدیر نہیں،تدبیرکاتقاضاکر رہے ہیں۔اب فیصلہ بھارت کے پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ان خبروں کو’’نصیب کالکھا‘‘سمجھ کربھلادیں یاانہیں مستقبل کی روشنی میں بدلنے کامنصوبہ بنائیں لیکن مودی کی سازشی ذہنیت سے بالکل امیدنہیں کہ وہ اپنی مکارفطرت کو تبدیل کریں ۔تدبیرصرف توپ وتفنگ کے ہنرکانام نہیں،یہ قوموں کی اندرونی وحدت،سیاسی بلوغت،سفارتی مہارت، تعلیمی بیداری اورعوامی شعور کامجموعہ ہے۔جب تک قومیں اپنی داخلی سمت کودرست نہیں کرتیں، بیرونی خطرات کے سامنے بندباندھناممکن نہیں ہوتا۔تاریخ نے سکھایاہے کہ دشمن کے مقابلے میں صرف ہتھیارنہیں،کرداربھی اہم ہوتاہے۔جوقوم اپنے فکری محاذپرکمزورہو،وہ کسی بھی محاذپر پائیدارفتح حاصل نہیں کرسکتی۔
تقدیرکامفہوم اگربے عملی کاجوازبن جائے توتدبیراپنی آنکھیں بندکرلیتی ہے،اورقومیں تقدیر کو بددعا سمجھنے لگتی ہیں۔اب بھارت کے سامنے دوراہیں ہیں، تقدیرکاسہارالے کر خاموشی سے بکھرتے حالات کو تکتا رہے، یاتدبیرکے ساتھ ایک نیابیانیہ،نئی حکمتِ عملی اور ایک مضبوط قومی وحدت تشکیل دے۔یادرہے کہ قومیں جب تدبیر سے منہ موڑتی ہیں،تو تقدیران کے ہاتھ سے وقت کی لگام چھین لیتی ہے۔وقت کاتقاضاہے کہ ہم تقدیرکا رونا رونے کی بجائے،تدبیرکی مشعل تھامیں کیونکہ اندھیری راتوں میں راستہ تلاش کرنے والوں کے لئے ستارے بھی حرکت میں آجاتے ہیں۔
آج، بھارت جس صورتِ حال سے دوچار ہے وہ صرف جغرافیائی نہیں،بلکہ تہذیبی،عسکری اورفکری محاصرے کی ایک نئی داستان ہے۔ایک ایسی داستان جومحض عسکری خطوط پر نہیں لکھی جارہی،بلکہ اس کے پس منظرمیں سیاسی ناپختگی،سفارتی بیبسی، علاقائی لاپرواہی اورداخلی انتشارکی وہ گہری لہریں رواں ہیں،جن کی آواز نہ صرف سرحدوں سے پرے گونج رہی ہے بلکہ خودملک کے اندربھی اضطراب کاباعث بن رہی ہے۔یہ مکارانہ سازش کی داستان صرف سرحدوں پرنہیں لکھی جارہی، بلکہ سیٹلائٹ کے مداروں،سفارتی ڈرائنگ رومز اور افواج کے نچلے کیمپوں تک پھیل چکی ہے۔
جنرل انیل چوہان کی تشویش محض ایک عسکری کمانڈرکی اضطرابی کیفیت نہیں بلکہ یہ اس اندیشے کی بازگشت ہے جسے تاریخ کئی باردہراچکی ہیجب اقوام نے خطرے کوآنکھوں سے نہیں،دل سے دیکھا توفتوحات ہاتھ سے چھن گئیں۔چین،پاکستان اوراب بنگلہ دیش کاابھرتاہوامثلثی اتحاد،بھارت کیلئیاس چکرویوہ کی مانندہوتاجارہاہے،جس میں پھنس کر ابھیمنیوکی طرح نکلنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی یعنی شمال میں چین،مغرب میں پاکستان ،اوراب مشرق میں بنگلہ دیش کے مشترکہ اتحادنے انڈیاکی رات کی نیندیں بھی حرام کر دی ہیں۔
کل تک مودی جنہیں اپنے جگر کا ٹکڑا کہتا تھا وہی اگرخنجرلیے سامنے آکھڑاہوتودل پرلگنے والے زخم زبان سے بیان نہیں کیے جا سکتے۔بنگلہ دیش، جوجغرافیائی لحاظ سے ’’انڈیالاکڈ‘‘ ہے،جس کی94 فیصد سرحد بھارت سے منسلک ہے،اب اسی بھارت کے خلاف صف بندی کرتادکھائی دے رہا ہے۔جس ملک کوانڈیا نے تجارت، ٹرانزٹ،پانی اوروفاکی راہوں پرہم رکاب کیا،وہی اب اس کے دشمنوں کی صف میں کھڑاہوتویہ محض سیاسی موڑنہیں،تہذیبی سانحہ ہے۔4,367کلومیٹرکی طویل سرحدکااگر دشمنی کے ارادے سے استعمال ہو،تو صرف بندوق نہیں،بستیوں تک ہلنے لگتی ہیں۔جوسرحدیں کبھی اشتراک اورتعاون کااستعارہ تھیں،وہی اب اندیشوں کی خاردارباڑمیں بدل رہی ہیں۔
یادرہے کہ بنگلہ دیش،جسے کبھی بھارت کی اسٹریٹجک فتح کامظہرسمجھاگیا،آج چین اور پاکستان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ دیے کھڑاہے۔ کیا یہ بنگلہ دیش کابدلتامزاج مشرق سے اٹھتا ہوا خطرہ، صرف معاشی مجبوریوں کانتیجہ ہے؟یاپھربھارت کی غیردوستانہ رویے نے اسے نئی پناہ گاہوں کی تلاش پرمجبورکیا ہے؟یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بنگلہ دیش کی 94 فیصد سرحد بھارت سے منسلک ہے۔ایسے میں اس کی طرف سے سردمہری کا اظہار، یابھارت مخالف بیانیے کی قبولیت،محض سفارتی ناکامی نہیں بلکہ ایک تہذیبی زوال کاپتہ دیتی ہے۔ جب رشتے اعتمادکے بغیر قائم ہوں توسرحدیں صرف فاصلے نہیں بڑھاتیں،فاصلے دلوں میں اترجاتے ہیں۔
آج دنیاایک نئے جغرافیائی شطرنج پرکھڑی ہے۔چین،پاکستان اوربنگلہ دیش کامجوزہ اتحاد صرف عسکری اتحادنہیں،بلکہ عالمی تناظر میں ایشیامیں ابھرتاہوا ایک ایسانیاکھیل ہے جو سیاسی،اقتصادی اورتہذیبی محاذپر ایک گہری چال بھی ثابت ہوسکتاہے۔بھارت اگر اس حقیقت سے غافل رہا،تو صرف بھارتی سرحدیں نہیں ٹوٹیں گی،تاریخ کے صفحات سے بھی بھارت کاوقارمحوہو سکتا ہے۔
چین کے ساتھ سرحدی جھڑپیں،درحقیقت ایک طویل المدت منصوبہ بندی کاحصہ ہیں۔چین نہ صرف لداخ کے پہاڑوں میں موجودہے، بلکہ بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکااور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کوایک اسٹریٹجک نیٹ ورک میں تبدیل کررہا ہے۔ بھارت جسے اپنی جغرافیائی برتری سمجھتاتھا،آج وہی اس کے گردتنگ ہوتادائرہ بن چکاہے۔
چین کااقتصادی دباؤ،عسکری برتری اور پاکستان وبنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، ایک نئی سردجنگ کاپیش خیمہ بن رہی ہے جس میں بھارت باوجود اپنی فوجی تیاریوں کے خودکوتنہامحسوس کررہاہے۔مودی اقتدار کی لالچ اورانتخابی مہم کے لئے ایک مرتبہ پھرجنگی ماحول پیداکرنے کی کوشش کرے گااوریہی وہ موقع ہوگاجب امریکابہادر انڈیاکی مجبوری کو کیش کرواتے ہوئے مودی کو سیاسی خودکشی پرمجبورکردے گا۔
انڈین نائب آرمی چیف کی شکایت کہ پاکستان کوچین سے انڈیاکی’’لائیو‘‘معلومات دستیاب تھیںایک ایساانکشاف ہے جوعسکری اخلاقیات کے پردے چاک کرتاہے۔اگردشمن کوہمارے لشکرکی حرکات وسکنات لمحہ بہ لمحہ معلوم ہوں،تویہ نہ صرف بھارتی دفاعی پالیسی کی شکست ہے،بلکہ ہندومہاشے کی سفارتی تنہائی کا بھی اعلان ہے۔ پاکستان نے حسبِ روایت اس الزام کو مستردکیا ہے اورعالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کابھی یہ مانناہے کہ چین کے مشورے تومیسرہو سکتے ہیں لیکن جنگ میں شرکت کے لئے پاکستانی افواج کی باکمال مہارت نے ایک عالم کومبہوت کرکے رکھ دیاہے۔لیکن سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ اتنی گہرائی تک انٹیلی جنس کی رسائی ممکن کیسے ہوئی؟کیایہ داخلی دراڑوں کانتیجہ ہے یاٹیکنالوجی کے محاذپر بھارتی پسماندہ پن؟اس کے لئے بھی سارا کریڈٹ پاکستان کے ان سپوتوں کوجاتاہے کہ ان کی شب وروزمحنت کانتیجہ اس حالیہ جنگ میں سب نے دیکھ لیاکہ ایک ہی وارمیں انڈیاکے 70فیصد گرڈ بیکار کرکے ’’شائننگ انڈیا‘‘کوایک لمحے میں تاریک کردیا۔
(جاری ہے)