Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

میدان،ایوان اورمیزان، دھوکہ،دہلی،اورپسپائی

(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں جنرل انیل چوہان جیسے حساس منصب پربیٹھے شخص کوٹی وی پراعترافِ شکست کالہجہ اپناناپڑا؟اگر الزام بے بنیادہوتاتو اسے عالمی میڈیاکی زینت بنانے سے روکاکیوں نہ گیا؟ راہول بیدی کے مطابق پاکستان کوجوکچھ چین سے مل رہا ہے ،دفاعی سازوسامان،سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر، انٹیلی جنس کی پوشیدہ لہریںوہ سب کچھ اس خطرے کی صورت گری کر رہاہے،جواب بھارت کے تینوں محاذوں پرسایہ فگن ہے لیکن کیاوجہ ہے کہ یہ اعتراف اس قدرتاخیرسے کیوں سامنے آرہے ہیں؟کیابھارتی فوج کے شکست خوردہ مورال کوچھپانے کی کوشش تونہیں ہورہی؟
پاکستانی فضائیہ نے جس ہروپ ڈرون کو مار گرایا،وہ محض ایک پرزہ نہیں،بلکہ ٹیکنالوجی کی وہ شطرنج ہے جس میں صرف چال نظرنہیں آتی،صرف نتیجہ دکھائی دیتاہے۔یہ ڈرون دشمن کے ریڈارکودھوکہ دے کرہدف تک خاموشی سے پہنچنے والاایک مہلک ہتھیارہے اورجس کے متعلق اسرائیل نے یہ دعویٰ کیاتھاکہ اس ڈرون کودنیاکی کوئی ٹیکنالوجی بشمول امریکابھی ناکام کرنے کی سکت نہیں رکھتااورچندڈرون ہی پاکستان کے سارے دفاعی نظام کوپل بھرمیں مفلوج کرسکتے ہیں۔بھارت نے اسرائیل کے اس دعوے کوتکنیکی طورپراپنے ہاں آزمائشی استعمال کے بعدتکبراورفتح کے گھمنڈمیں ان کواستعمال کرنے کے لئے اسرائیلی آپریٹرزکواپنے ہاں بلاکراس جنگ میں شریک کرلیالیکن اگربھارت کے دفاعی نظام اس کے وجود کوبھی نہ پہچان پائیں،تویہ صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کی گھنٹی ہے۔شیطانی مثلث (امریکا، اسرائیل،انڈیا)کامانناہے کہ اسرائیلی ہاروپ، جنگ کاوہ خاموش کردار ہے جونہ صرف معلومات لاتاہے بلکہ خودہدف بھی بناتاہے۔اسرائیل کایہ بھی دعویٰ تھاکہ پاکستان کے لئے صرف چندہاروپ ڈرون ہی کافی ہیں لیکن پاکستان نے نہ صرف79 ہاروپ ڈرون کاتباہ کیابلکہ چندڈرونزکوجام کرکے زمین پربحفاظت اتاربھی لیاجس کے بعداسرائیل جو کبھی اس ڈرون کی ٹیکنالوجی کوشئیرکرنے کے لئے تیارنہیں تھا،اب وہ تمام تکنیکی معلومات طشت ازبام ہوچکی ہیں اوریہ ہی اسرائیل کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی شکست ہے کیونکہ اس نے اپنے ان ڈرونز کو کامی کازکانام دے رکھاتھاکہ دشمن کے ہاتھ آنے سے پہلے یہ خودکوتباہ کرلینے کی صلاحیت رکھتاہے۔
پاکستان برسوں سے عسکری محاذپربھارت کو آزماتاآرہاہے،لیکن اب جوفرق آیاہے،وہ ہے چین کے ساتھ مشترکہ ٹیکنیکل شراکت اور جدیدجنگی حکمت عملی کی پشت پناہی، جدید ٹیکنالوجی اورمتحدہ محاذ۔ہاروپ ڈرونزہوں یابراہموس میزائل کاجواب،پاکستان اب محض جوابی کاروائی نہیں کررہا،وہ منصوبہ بندی کے ساتھ چالیں چل رہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت کی داخلی سیاست،بیرونی پالیسی کو کمزورکررہی ہے۔قومی اتحادکے بغیر،کوئی بھی دشمن کمزورنہیں پڑتا،بلکہ مضبوط ہوجاتاہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ بھارت کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کوپاکستان کیوں نہ روک پایا؟اگرچہ میزائل ہدف سے بھٹک گئے،مگر ان کاسفرخطرناک سوالات چھوڑگیا۔پاکستان نے دعویٰ کیاکہ اس نے انڈین براہموس میزائل کوہدف سے بھٹکایا،لیکن کیایہ سچ ہے یا فقط ایک تکنیکی حادثے کادعویٰ؟رفتارمیں برق، مگرنگاہ سے اندھے کیاتیزرفتارمیزائلوں کو اندھا کیا جا سکتاہے؟ جدیدجنگی سافٹ ویئر میں اس امکان کی گنجائش ضرور ہے، مگرحقیقت بہرحال میدانِ جنگ طے کرتاہے اور پاکستان نے یہ کردکھایا۔
اس تمام کاروائی کے بعدسوال یہ ہے کہ کیا روایتی دفاع اب کافی ہے؟اورپھرسوال یہ بھی ہے کہ بھارت کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائلوں کوپاکستان کیوں نہ روک پایا؟اوریہی معاملہ انڈیا کے ساتھ بھی پیش آیا۔کیاوجہ تھی کہ انڈیاجس کی پشت پر امریکا اوریورپی ممالک کے سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہم پلہ تھے اوران سب طاقتوں کاتعاون بھی بھارت کوپاکستان کے ان آہنی پرندوں کے نشانے سے بچانہ سکے،بلکہ دشمن کے دل میں پیوست ہوکرانہوں نے تاریخ میں اپنانام لکھوایا۔ اسرائیلی ڈرون کے 21کے قریب ہاروپ ڈرونزآپریٹرز آدم پوربیس پرپاکستان پرحملے کرنے میں مصروف تھے لیکن پاکستان نے خود پر شدید دباؤکے باوجودجب جواب دیاتوآدم پوربیس کے پرخچے اڑگئے اورانڈیانے جب رات کے اندھیرے میں18 اسرائیلیوں کے تابوت تل ابیب پہنچائے تواسراائیل کے ہاں کہرام مچ گیالیکن مودی کی ڈھٹائی اپنی جگہ پراب بھی قائم ہے کہ وہ اعترافِ شکست کی بجائے اپنے سندور آپریشن کوجاری رکھنے کی دھمکیاں دے رہاہے۔
مودی حکومت پریہ الزام لگایاجارہاہے کہ اس نے قومی نقصان کوچھپانے کی دانستہ کوشش کی۔انڈین دفاعی اتاشی کایہ اعتراف کہ ’’چندطیارے کھوئے گئے‘ ‘ محض عسکری اعدادو شمار کاانکشاف نہیں بلکہ سیاسی ننگاپن ہے۔اگربلومبرگ ٹی وی پرنقصانات کا اعتراف ممکن ہے تواپنے ملک میں سچ کیوںچھپایاگیا؟ خود انڈین عوام مودی سے سوال کررہی ہے کہ اگر غیرملکی میڈیاجیسے بلومبرگ پرلب کشائی ممکن ہے،تودہلی کے ایوانوں میں خاموشی کیوں؟جہاں حکمت،سیاست پرغالب آتی ہے، وہاں رہنماؤں کوچاہیے کہ وہ قوم کوفقط جھو ٹے فخر کی افیون سے نہ بہلائیں،بلکہ حقیقت کاآئینہ بھی دکھائیں۔ کیونکہ شیشے کامحاذلکڑی کی ڈھال سے نہیں روکا جاسکتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مودی حکومت کے بیانیے کومشکوک بناتا ہے۔ کیاقومی فخرکامطلب سچائی کودفن کرناہے؟قومیں سچائی سے بنتی ہیں، پروپیگنڈے سے نہیں۔
پاکستانی جے10سی اورانڈین رافیل کے درمیان متوقع ڈاگ فائٹ صرف ٹیکنالوجی کامقابلہ نہیں تھابلکہ عسکری نظریات اورقومی اعتمادکاامتحان بھی ثابت ہوا۔یہ’’ڈاگ فائٹ ‘‘ صرف دوجہازوں کی ٹکرنہیں، بلکہ دونظریات،دوریاستی فکر،اوردوعسکری ماڈلزکاتصادم تھا۔ دنیا کی نظریں اس معرکے پراسی لیے تھیں کیونکہ جوجیتے گا،وہ صرف جنگ نہیں جیتے گاوہ اگلی دہائی کاعسکری بیانیہ لکھے گا۔ رافیل کی قیمت،رفتاراوراسٹائل،بمقابلہ جے10سی کی سادگی،پاک چین کی مشترکہ کاوش اورمہارت ،اس جنگ کی گواہی صرف آسمان نے نہیں دی بلکہ اس کے واضح اثرات زمین پربھی محسوس کئے گئے۔
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ اعتراف کیاکہ 9مئی کی رات امریکی نائب وزیرخارجہ نے وزیراعظم مودی سے کہاکہ اگرہم نے کچھ شرائط تسلیم نہیں کیں توپاکستان انڈیاپر بہت بڑاحملہ کرے گا۔یہ بیان محض سفارتی چال نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات کاعکس ہے۔سوال یہ ہے کہ امریکاکواس حد تک تشویش کیوں ہوئی؟کیابرصغیرمیں کوئی نیا عسکری توازن بن رہاہے؟یاپھر، بھارت کواس کی محدودحیثیت کا شعوردلایاجارہاہے؟
انڈیااورپاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی صرف توپوں اورٹینکوں کی گھن گرج نہیں تھی،بلکہ ایک ذہنی جنگ بھی تھی۔88گھنٹے پر محیط یہ تنازعہ سفارتی دبا،عسکری چالاکی،اورمیڈیا کے بیانیے کاایساامتزاج تھا،جوشایدآنے والے دنوں میں برصغیرکی سیاست کا رخ موڑدے گا۔انڈیا،پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھرہمیں یہ یاددلایاہے کہ برصغیر کی تاریخ محض نصاب کی عبارت نہیں،بلکہ خون سے لکھی گئی تحریرہے۔ ان88گھنٹوں میں جوکچھ گزرا،وہ محض واقعات نہیں، آئندہ کی تیاری کاپیش لفظ ہے۔
سناتھاکہ جوبادل گرجتے ہیں،وہ برستے نہیں ہیں لیکن کبھی کبھارگرج چمک کے ساتھ آنے والا طوفان زمینی حقائق کے ساتھ کئی عبرت کے اسباق بھی ساتھ لاتا ہے۔یہ وقت بیداری کاہے،تصادم سے پہلے تدبر کا ۔ اگربھارت اپنی داخلہ سیاست کی مصنوعی چمک میں بین الاقوامی سچائیوں کونظراندازکرتارہا،توآنے والاوقت شاید اپنے ساتھ صرف سوال نہیں، پچھتاوے بھی لائے گا۔
یہ محض ابتدائیہ نہیں،ایک گھنٹی ہے،وہ گھنٹی جو یا توجاگنے کی صداہے،یا زوال کی آخری گونج۔ قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں،اپنے غرورسے مٹتی ہیں۔آج اگر بھارت کوتاریخ سے کوئی سبق سیکھناہے تووہ یہی ہوناچاہیے کہ تدبیرسے پہلے تقدیرکاانتظارتباہی کی طرف پہلاقدم ہوتاہے۔اگرہم نے تاریخ کونظرانداز کیا ،تو تاریخ ہمیں بھی نظراندازکردے گی۔

یہ بھی پڑھیں