Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

استحصال کی قیمت، ہجرت کی لہر

یورپ نے نقل مکانی روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ معاشی استحصال کی پالیسی پر عمل روکنے کی ضرورت ہے۔ افریقا سے نقل مکانی کا رحجان اس لیے پروان چڑھا ہے کہ اس براعظم کے وسائل کا بلا دریغ استحصال کیا جارہا ہے۔ لازم ہوگیا ہے کہ یہ رجحان روکا جائے۔17جنوری کو اطالوی پارلیمنٹ نے فوجی افریقی ملک نائیجر میں تعینات کرنے کی منظوری دی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ نائیجر کے باشندوں کو لیبیا جانے سے روکا جاسکے۔ لیبیا سے یہ لوگ یورپ کی راہ لیتے ہیں۔ فرانس، جرمنی اور اسپین نے بھی ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔ افریقا سے یورپ کی طرف نقل مکانی روکنے کے لئے ان یورپی طاقتوں کو اور کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا۔
افریقا سے نقل مکانی روکنے کے لئے طاقت کا استعمال انوکھا یا راتوں رات رونما ہونے والا واقعہ نہیں۔ یورپ میں اس حوالے سے بہت سوچا گیا ہے۔ بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تھنک ٹینک کی سطح پر تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ فی الحال طاقت کے ذریعے افریقی آبادی کو یورپ کی طرف آنے سے روکا جائے۔ حکومتوں نے اہلِ دانش کی آرا کی روشنی میں چند ایک اقدامات کیے ہیں۔ اور ان اقدامات کے ملے جلے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
افریقا سے یورپ کی طرف نقل مکانی میں ایک طرف تو این جی اوز کا کردار ہے اور دوسری طرف منظم جرائم کے گروہ بھی فعال ہیں۔ یہ سب کچھ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے ہو رہا ہے۔یورپ نے افریقیوں کو ان کے گھروں تک محدود رکھنے کے حوالے سے اب تک جو اقدامات کیے ہیں وہ ان کی دانست میں درست ہی ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دور رس اور مثبت اثرات رونما ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ افریقی ممالک میں معیشت کا ڈھانچا کچھ اس طرح کا ہے کہ لوگ مجبور ہوکر دیگر ترقی یافتہ خطوں کی طرف دیکھتے اور لپکتے ہیں۔ قدرتی وسائل کو بہتر انداز سے بروئے کار لانے کا باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ سیاسی استحکام برائے نام ہے۔ سیاسی تبدیلیوں کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے۔ ایسے میں لوگ ملک سے نکل بھاگنے کو بے تاب دکھائی دیتے ہیں۔
یورپی طاقتیں افریقا سے نقل مکانی روکنے کے لئے جو کچھ کر رہی ہیں وہ قلیل المیعاد بنیاد پر تو چند ایک اثرات کا حامل ہوسکتا ہے مگر طویل مدتی بنیاد پر ایسا کرنے کے فوائد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ افریقا میں موجودہ اور آنے والی نسلوں کو معیشتی، سیاسی اور معاشرتی ساخت کے اعتبار سے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایسا کچھ نہیں کیا جارہا اور ظاہر ہے کہ جب تک ایسا نہیں ہوگا مرضی کے نتائج بھی برآمد نہیں ہوں گے۔افریقا کے کئی ممالک تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ان میں نائیجیریا سب سے نمایاں ہے۔ نائیجیریا میں تیل کے ایک بڑے بلاک میں مجموعی طور پر کم و بیش/9 ارب بیرل تیل موجود ہے، یہ بلاک ساحلی علاقے میں ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے پندرہویں صدی عیسوی میں ایک کروڑ بیس لاکھ غلاموں کو امریکا لے جایا گیا تھا اور یہیں سے سب سے زیادہ لوگوں نے 2016ء میں نقل مکانی کرکے اٹلی کی سرزمین پر قدم رکھا۔ نائیجیریا افریقا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔
یورپ سے تعلق رکھنے والی تیل اور گیس کی کمپنیوں نے نائیجیریا سے تیل اور گیس کے حصول کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ نائیجیریا میں صحتِ عامہ کے حوالے سے بہت سے مسائل ہیں۔ اگر یورپی طاقتیں تیل حاصل کرنے کے لئے خرچ کی جانے والی رقم کا بہت تھوڑا سا حصہ بھی صحتِ عامہ پر خرچ کریں تو نائیجیریا میں لوگ سکون کا سانس لیں اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر زندگی بسر کرنے میں کچھ زیادہ قباحت محسوس نہ ہو۔ باضابطہ ریاستی ڈھانچا اور شفافیت نہ ہونے کے باعث تیل اور گیس کے سودوں سے عوام کو کچھ نہیں ملتا۔ یورپی آئل کمپنیاں جو ڈیل کرتی ہیں ان کے نتیجے میںچند بیورو کریٹس اور سیاست دانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ چند ایک منی لانڈرز بھی اس سیٹ اپ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ نائیجیریا کے عوام کی زندگی میں ان سودوں سے کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بڑے ممالک کے ادارے غریب ممالک کے قدرتی وسائل کو ہڑپ کر رہے ہیں۔ او پی ایل)245نائیجیریا(آئل بلاک ہے، یعنی وہ علاقہ جہاں تیل مرتکز ہے۔ پاناما پیپرز سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ امریکا اور یورپ کے بڑے اداروں کے لئے کام کرنے والے بہت سے اداروں نے افریقا اور بحیرہ روم کے کنارے آباد غریب ممالک کے قدرتی وسائل کی بندر بانٹ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ایندھن، سونا اور گیس اس طور نکالا گیا ہے گویا لوٹا جارہا ہو۔عام تصور یہ ہے کہ یورپ بہت فراخ دل ہے اور بہت سے غریب اور تباہ حال ممالک کے لوگوں کو پناہ گزینوں کی حیثیت سے قبول کر رہا ہے۔ یہ تاثر یا تصور ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ یورپ اگر لاکھوں پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے کہ اس مسئلے کو پروان چڑھانے میں خود یورپ ہی نے کلیدی کردار بھی ادا کیا ہے۔ چند دیگر مسائل سے نمٹنے کے لئے بھی توجہ درکار ہے۔
یورپ کو افریقا کے غریب ممالک کی بھرپور مدد کے لئے آگے آنا ہوگا۔ ایک طرف تو یورپی یونین کو اپنی منڈیاں افریقی مال کے لئے کھولنا ہوں گی اور دوسری طرف افریقا کے خام مال کو بٹورنے سے گریز کرنا ہوگا۔ افریقا سے جو فوائد یورپ نے بٹورے ہیں، ان کے فوائد افریقی آبادیوں کو دینا ہوں گے۔ کروڑوں افراد انتہائی پس ماندگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ معیشتوں کی ساخت تبدیل کرکے ترقی کی راہ ہموار کرنا ہوگی تاکہ عمومی معیارِ زندگی بلند ہو اور لوگ بہتر انداز سے جینے کے قابل ہوسکیں۔ افریقا کے انتہائی پسماندہ ممالک کی پائیدار ترقی یقینی بنانے پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں