ملک شام ایک طویل عرصے سے بدامنی، خانہ جنگی اور عالمی پابندیوں کا شکار رہا، مگر حالیہ برسوں میں جب سے احمد الشرع نے اقتدار سنبھالا ہے، ملک میں ایک نئی صبح کی نوید سنائی دی ہے۔ شرع حکومت کی معتدل پالیسیوں، داخلی اصلاحات اور خارجہ تعلقات کی دانشمندانہ حکمت عملی نے شام کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور معیشت کا استحکام شام کے عوام کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے۔ اب دارالحکومت دمشق کی گلیوں میں پھر سے چہل پہل ہے، بازاروں میں زندگی لوٹ آئی ہے اور تعلیمی ادارے نئی نسل کی تعمیر میں مصروف ہیں۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل کو اپنے گرد کوئی مضبوط، متحد اور خوشحال عرب ریاست گوارا نہیں۔ وہ ہمیشہ ایسے عناصر کی تلاش میں رہتا ہے جو اندرونی خلفشار کو ہوا دے سکیں۔ اس وقت اس کی نظریں شام کے جنوب میں واقع السویدا پر مرکوز ہیں، جہاں دروز قبیلے کی اکثریت بستی ہے۔ اسرائیلی ایجنسیاں ان قبائل کو حکومت مخالف اقدامات پر اکسا رہی ہیں تاکہ شام کو ایک بار پھر داخلی انتشار میں دھکیلا جا سکے۔یہ کھیل نیا نہیں، مگر اس بار شام باشعور ہو چکا ہے۔ عوام جان چکے ہیں کہ استحکام، خودمختاری اور سالمیت کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ احمد الشرع کی قیادت میں شام اس بار ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ قوم متحد ہو تو بیرونی طوفان بھی خس و خاشاک بن کر رہ جاتے ہیں۔
شام کا سورج ایک بار پھر طلوع ہو رہا ہے اور دشمن کی آنکھوں میں یہی روشنی کانٹے کی مانند چبھ رہی ہے۔لیکن ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آج کل بین الاقوامی سطح پر ملک شام کی گونج ہے، دنیائے افق پر شام کا نام بار بار سنائی دیتا ہے. جب ملک شام کا نام آتا ہے تو بعض لوگ شام صرف اس علاقے اور خطے کو سمجھتے ہیں جس پر اب تک بشارالاسد کی حکومت تھی اور اب وہ تبدیل ہو کر احمد الشرع الجولانی کے ہاتھ آگئی. بعض لوگ ملک شام صرف جنگ زدہ، پناہ گزینوں اور تباہ حال شہروں کو سمجھتے ہیں، کچھ لوگ تو دمشق اور حلب کو شام سمجھتے ہیں.مگر افسوس!بہت سے سادہ لوح مسلمان شام کی اصل تشخص اور اس کی روحانی عظمت اور قرآنی حیثیت سے ناآشنا نظر آتے ہیں۔یاد رہے کہ ملک شام ایک قدیم اور تاریخی اہمیت کا حامل عرب ملک ہے جو مشرق وسطیٰ میں واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت دمشق ہے، جو دنیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ شام نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ مذہبی، تہذیبی اور سیاسی حوالوں سے بھی ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔یاد رہے ’’بلاد الشام‘‘ ایک قدیم اصطلاح ہے جو صرف موجودہ سوریہ،شام پر منحصر نہیں بلکہ اس سے مراد پورا ایک خطہ ہے جس میں موجودہ:شام، لبنان، فلسطین، اردن، غزہ اور بیت المقدس شامل ہیں.ملک شام سریانی زبان کا لفظ ہے مورخین کے مطابق اس ملک کا نام شام رکھے جانے کی کئی وجوہات ہیں: ان میں سے ایک یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ نام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کے نام سے پڑا کیونکہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جو اس زمین پر تشریف لائے ۔ یہ مبارک سرزمین پہلی جنگ عظیم تک عثمانی حکومت کی سرپرستی میں ایک ہی خطہ تھی۔ بعد میں انگریزوں اوراہل فرانس کی پالیسیوں نے اس سرزمین کو چار ملکوں(سیریا، لبنان، فلسطین اور اردن)میں تقسیم کرادیا،لیکن قرآن وسنت میں جہاں بھی ملک شام کا تذکرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ پورا خطہ مراد ہے، جو عصر حاضر کے چار ملکوں (سیریا، لبنان، فلسطین اور اردن) پر مشتمل ہے،یہ خطہ مختلف آسمانی مذاہب کے درمیان روحانی مرکز اور باہمی کشمکش کا محور رہا ہے۔ یہودی اسے اپنا مذہبی قبلہ اور تاریخی مرکز قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق ’’ہیکل سلیمانی‘‘اسی سرزمین پر واقع تھا۔ عیسائیوں کے لیے یہاں کا شہر بیت اللحم بڑی اہمیت رکھتا ہے، جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی، اور جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے۔
مسلمانوں کے لئے یہ مقام انتہائی مقدس ہے، کیونکہ یہ قبل اول مسجد اقصیٰ کا مقام ہے اور نبی اکرم ﷺ کے سفر معراج کی ایک اہم منزل بھی یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ تینوں ادیان کے پیروکاروں کے لئے عقیدت، تقدس اور تنازع کا مرکز رہا ہے۔ ان تین بڑی قوموں کے علاوہ بابیوں اور بہائیوں کا قبلہ بھی فلسطین میں عکہ نامی شہر ہے، جہاں مرزا بہا ء اللہ شیرازی کی قبر ہے اور بتایا جاتا ہے کہ فلسطین کے موجودہ صدر محمود عباس اسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح فلسطین اور خاص طور پر بیت المقدس مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی مستقل کشمکش اور تنازعہ کی جولانگاہ ہے اور اس کے پیچھے دو ہزار سال کی تاریخ کا پس منظر موجود ہے جس میں ان تینوں کے درمیان بڑی بڑی جنگیں اور خوفناک تصادم شامل ہیں۔ شام وہ عظمت والی سرزمین ہے جسے عربی میں ’’الشام‘‘کہا جاتا ہے جبکہ قرآن و حدیث میں ’’ارض مبارکہ‘‘یعنی بابرکت زمین کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ یہ وہ عظیم خطہ ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنے قدم جمائے، جہاں حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام نے توحید کی شمع روشن کی، جہاں حضرت لوط علیہ السلام کی بستیوں نے عبرت کے نشان چھوڑے، جہاں حضرت زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے لہو نے قربانی کا مفہوم بخشا اور جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی صدائے حق گونجی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شام کے لئے خوش خبری ہو!بے شک رحمت کے فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔‘‘ (صحیح ترمذی)
یہ حدیث مبارکہ ملک شام کی روحانی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے قیامت سے قبل عظیم فتنوں کا آغاز ہوگا اور جہاں امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا۔ شام کا تذکرہ آخری زمانے کی علامات میں بھی ملتا ہے، گویا یہ زمین نہ صرف ماضی کی داستانوں کی امین ہے بلکہ مستقبل کی بڑی پیش گوئیوں کی سرزمین بھی۔دور جدید میں سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر جب ہم شام کے حالات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہر طرف شام کے بکھرتے مناظر، تباہ حال بستیاں، خون میں لت پت بچے اور بے یار و مددگار مہاجرین دیکھتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مگر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شام صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک روحانی آزمائش بھی ہے۔ اس خطہ ارض سے ہماری نسبت صرف تاریخی یا جغرافیائی نہیں بلکہ ایمانی اور دینی ہے۔ ہمیں شام کو فقط خبروں کی شہ سرخیوں میں نہ دیکھنا چاہیے، بلکہ اپنے ایمان کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔ آج کا شام: آزمائشوں کا مرکز بنا ہوا ہے، بلکہ آزمائشوں کے ساتھ ساتھ ظلمتوں میں بھی گھرا ہوا ہے، مگر اس کی عظمت باقی ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جس کی مٹی میں انبیا کرام علیہم السلام کا خمیر ہے، اور جس کے آسمانوں پر شہدا کے خون کی روشنی چمک رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نئی نسل کو صرف شام کی موجودہ سیاسی صورتِ حال سے نہیں، بلکہ اس کی تاریخی عظمت، انبیا کی قربانیوں اور قرآن و سنت کے تذکروں سے بھی آگاہ کریں۔ شام کو سمجھنا دراصل اپنی دینی جڑوں سے جڑنا ہے، اور یہی شعور امت کو بیدار کر سکتا ہے۔