یورپ اور سویڈن میں اس وقت تعطیلات کا دور ہے ۔ گرمیوں میں یہاں کے باشندے اکثر چھٹیوں پر جاتے ہیں، ساحلوں کا رْخ کرتے ہیں، پُرفضا مقامات یا پرسکون شہروں کا رُخ کرتے ہیں۔ لیکن اسی ماحول میں ایک سویڈش خاتون ڈاکٹر – مریت ہالمین – اپنی چھٹیاں کسی تفریحی مقام پر گزارنے کی بجائے غزہ کے میدان جنگ میں پہنچ جاتی ہے۔ یہ میدان ہے غزہ کا – وہی غزہ جو دنیا کے نقشے پر ایک جلتا ہوا زخم بن چکا ہے۔جہاں نہ آسمان محفوظ ہے، نہ زمین۔ڈاکٹر مریت ہالمین نے رفح کے قریب ایک فیلڈ اسپتال میںزخمیوں کے علاج معالجہ کا عظیم کام کیا۔ انہوں نے بم دھماکوں میں زخمی نوزائیدہ بچوں اور گولیوں کا شکارعام لوگوں کا علاج کیا۔ سویڈش ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ جب میں نے غزہ کی سرحد پار کی، تو لگا جیسے کسی ملبے پر اْتر آئی ہوں۔ جیسے دنیا ختم ہوچکی ہو۔‘‘
ایک خیمہ، کچھ بالٹیاں، اور زندگی کا سوال۔وہ اسپتال جہاں وہ کام کر رہی تھیں، کسی عمارت میں نہیں بلکہ ریت پر نصب خیموں میں قائم تھا۔ہاتھ دھونے کے لیے پانی بالٹیوں میں رکھا جاتا تھا، بجلی ڈیزل جنریٹر سے چلتی اور آپریشن تھیٹر کپڑے کے خیموں میں موجود تھے۔ناصر اسپتال، جو غزہ کا آخری جزوی طور پر فعال اسپتال ہے،اب 684 مریضوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے، حالانکہ جنگ سے پہلے وہاں صرف 220 بستر تھے۔وہاں روزانہ 2000 سے زائد مریض ہنگامی حالت میں آ رہے ہیں۔یہ محض ایک طبی بحران نہیں، ایک انسانی تباہی ہے۔جب زخمیوں سے پہلے ضمیر مر جائے۔ڈاکٹر مریت ہالمین بتایا کہ اکثر زخمی وہ لوگ ہوتے ہیں جو صرف خوراک لینے گئے تھے۔ایک مریض نے ان سے کہا:’’مجھے معلوم ہے کہ باہر جانا خطرناک تھا، لیکن میرے بچے بھوکے تھے۔۔۔‘‘ ایسی کہانیاں سن کر اگر دل نہ لرزے،تو پھر شاید ہم نے اپنی انسانیت کو دفن کر دیا ہے۔مردہ عامی ضمیر کو چیختے لاشے جگانے کی کوشش کررہے ہیں۔
عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر وہ بہت غم ذدہ ہیں۔ سویڈن کی شہری ہونے کے باوجود، ڈاکٹر مریت کی سب سے بڑی مایوسی اپنی ہی حکومت سے ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’پوری دنیا دیکھ رہی ہے، لیکن خاموش ہے۔جو حکومتیں کچھ نہیں کر رہیں، وہ بھی شریکِ جرم ہیں – میری سویڈن کی حکومت بھی۔‘‘ اور یہ کوئی مبالغہ نہیں۔۱قوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں – جن میں نصف عورتیں اور بچے ہیں۔مگر عالمی ضمیر شاید اعدادوشمار کی اس دہشت سے بے حس ہو چکا ہے۔اقوام عالم کاشکوہ کیا کرنا لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک بے حس اور مردہ لاشیں بن چکے ہیں۔ یہ سب مل کر غزہ میں خوراک اور پانی تک نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ وہاں کے زخمیوں کا اپنے ہاں علاج نہیں کرسکتے ۔ ظالم کا ہاتھ روکنے کی ان میں سکت نہیں تو کم از کم مظلوم کے زخموں پر مرہم پٹی ہی رکھیں۔ بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔ غزہ سے ایک خاتون رو رو کر اللہ سے فریاد کررہی تھی اور روز قیامت ان مسلم حکمرانوں کا شکوہ کرے گی تو ان کے پاس کیا جواب ہوگا؟ مجھے خود اس دور کے انسان ہونے پر شرمندگی ہے۔ ہم اس قدر بے بس ہوگئے ہیں کہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
غزہ سے ایک اور دل سوز ویڈیو پیغام سامنے آیا جس میں لوگ امدادی ٹرک کے گرد طواف کرتے ہوئے جمع ہیں اور ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ اے اللہ ہم حاضر ہیں۔ یہ لوگ حج کے لئے نہیں آئے بلکہ بھوکے لوگ ہیں جنہوں نے احرام کی بجائے غم، فکر اور حاجت کی چادر پہن رکھی ہے۔ آٹے کا تھیلا ان کا خواب بن چکا ہے۔ یہ لوگ روٹی کے ایک ٹکڑے کے لئے یہ سب کررہے ہیں تاکہ وہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے۔ اے دنیا والو! ہم خانہ کعبہ کے گرد طواف نہیں کرتے، ہم امید کے گرد طواف کرتے ہیں۔ ہم ابلیس کو کنکریاں نہیں مارتے ، ہم عرف دنیا کی خاموشی کو کنکریاں مارتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی بے حسی کو کنکریاں مارتے ہیں اور عالمی خاموشی کو کنکریاں مارتے ہیں۔ کیا تم یہ سب نہیں دیکھ رہے؟ اگر تمہارا دل زندہ ہے۔تم اپنے ضمیر کا حج کرو، اپنی انسانیت کے گرد طواف کرو! غزہ کے ساتھ کھڑے ہوجائو!یہ کوئی موسمی بات نہیں۔ غزہ میں تو ہر دن موت کا نیا موسم ہے۔ اے اللہ۔۔ صبر دے! اے اللہ عزت دے ، بھوک کے باوجود، اے اللہ ہماری مدد فرما! یارب انہیں مت آزمانا، انہیں وہ سب نہ دکھا! جو ہم دیکھ چکے ہیں۔ انہیں ان حالات میں مبتلا نہ فرما جو ہم جھیل چکے ہیں۔ آمین‘‘۔ ہماری بے حسی کے باوجود غزہ کے اس بہادر انسان نے ہمیں دعا ہی دی ہے۔ اس شخص سے عظیم اور کون ہوگا؟
جہاں عالمی ضمیر مردہ اور مسلم حکمران بے حس ہیںوہیں ایک سویڈش خاتون ڈاکٹر کا غزہ میں جاکر زخمیوں کا علاج کرنا اور دنیا کو جھنجھوڑنا قابل صد تحسین ہے۔ ڈاکٹر میریت ہالمین نے سوال کیا کہ کیا ہم انسان رہ گئے ہیں؟۔قارئین یہی سوال ہمیں اپنے آپ سے بھی کرنا چاہیے اور پھر یہ بھی کہ ایک سویڈن خاتون ڈاکٹر اگر غزہ جا کر زخمیوں کا علاج کرسکتی ہے تو ہمارے لوگ اور ادارے اور تنظیمیں کیا کررہی ہیں؟ مسلم دنیا کی حکومتیں صرف مذمتی بیانات تک محدود رہیں؟ بلکہ اب تو وہ بیانات بھی نہیں دے رہے۔ کیا ہمیں یہ سوچنا نہیں چاہیے کہ ہم نے فلسطین کو صرف ایک ’’خبر‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے؟ڈاکٹر مریت کی غزہ میں موجودگی ہم سب کے لیے آئینہ ہے۔ڈاکٹر مریت ہالمین کی یہ خدمت محض ایک انسانی فریضہ نہیں، بلکہ دنیا کی بے حسی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔جب غیرمسلم اقوام کے افراد، مسلم بچوں کی جان بچانے نکل پڑیں،تو پھر شاید ہمیں اپنے ایمان اور انسانی شعور کا جائزہ لینا پڑے گا۔ غزہ کے غم زدہ خیموں میں ڈاکٹر میرت کی صورت میں جلتی ہوئی روشنی شاید یہی واحد امید ہے کہ انسانیت ابھی مکمل مری نہیں۔