تمہید‘ذات کے آئینے میں کائنات کا عکس جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں رنگوں، آوازوں اور لمس کی دنیا پر کھلتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے شعور بڑھتا ہے، ایک اندرونی سوال ابھرتا ہے۔
میں کون ہوں؟تم کون ہو؟اور یہ میں اور تم کیا ہے؟یہ سوال حقیقی معرفت کے دروازے پر پہلی دستک ہے اور روح و بقا کے سفر کی ابتدا ہے۔ قرآن، حدیث اور اولیاء و صوفیا کی تعلیمات یہی بتاتی ہیں کہ نفس کی معرفت ہی معرفتِ خدا کی کنجی ہے۔
میں کون ہوں؟ انسان کی حقیقت ‘قرآنِ حکیم انسان کی حقیقت کو تین پہلوئوں میں بیان کرتا ہے:جسم مٹی سے بنا، فانی اور زوال پذیرنفس ‘ انا‘خواہشات، جذبات اور دنیوی میلان کا مرکزروح اصل اور حقیقت، جو اللہ کے امر سے ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا: یعنی انسان کی اصل حقیقت اللہ کی عطا کردہ روح ہے، جو اسے عزت اور بلندی عطا کرتی ہے۔(الحجر: 29)
مولانا رومی فرماتے ہیں:تو جسم نہیں، روح ہو‘ جسم سایہ ہے، اصل حقیقت روح ہے۔جب انسان یہ حقیقت جان لیتا ہے تو نفس کی ’’میں‘‘ پگھلنے لگتی ہے اور حقیقتِ الٰہی اس کے اندر جلوہ گر ہوتی ہے۔
تم کون ہو؟ ہر موجود ایک ہی نور کی تصویرجو سوال ہم اپنی ذات سے کرتے ہیں، وہ دوسروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہر تم میں بھی وہی جوہر چھپا ہے جو میں میں ہے۔ ہم سب اللہ کے ایک ہی نور کی مختلف جھلکیاں ہیں۔
رومی کی حکمت اس حقیقت کو یوں بیان کرتی ہے:(الذاریات: 21)میں نے اپنے اندر جھانکا تو تجھے دیکھا،اور تجھے دیکھا تو اللہ کا جلوہ نظر آیا۔یعنی ہر انسان دراصل میری روح کا آئینہ ہے، اور آخرکار اللہ کے نور کا مظہر‘ جب یہ شعور آتا ہے تو دوسروں سے دشمنی کی جگہ محبت جنم لیتی ہے۔
میں اور تم کا حجاب جسم کی آنکھ سے دیکھیں تو میں اور تم الگ نظر آتے ہیں:مختلف جسم ‘ مختلف نام ‘ مختلف مفادات لیکن روح کی آنکھ سے سب ایک ہیں۔ جدائی کا یہ گمان صرف انا کا حجاب ہے۔
قرآن کہتا ہے:(الرحمن: 26-27) اور رومی کہتے ہیں‘میں اور تم کے بیچ رکاوٹ صرف میں ہے،جب یہ گر جائے تو صرف نور باقی رہتا ہے۔.
نبوی حکمت اور معرفت کا لب لباب‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہی عرفان کی اصل ہے:معرفتِ نفس معرفتِ خدا یعنی جو اپنے باطن کو پہچان لیتا ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔
ایک اور حدیث میں ہے:مومن کے لیے اصل زندگی وہ ہے جو اللہ کے قرب میں ہے۔(صحیح مسلم) یہ دنیا محض ایک عارضی امتحان ہے۔فنا اور بقا کا رازجب انسان اپنی حقیقت کو جان لیتا ہے تو میں اور تم کا وہم ختم ہو جاتا ہے، اور صرف اللہ کا نور ہر شے میں باقی رہتا ہے۔
رومی فرماتے ہیں:میں اور تم پگھل گئے،اور جو باقی رہا وہ صرف عشق تھا۔یہی مقام فنا فی اللہ اور پھر بقا باللہ ہے۔صوفیا کے نزدیک:فنا فی اللہ نفس، غرور اور خواہشات کی موت ‘بقا باللہ اللہ کی رضا میں زندہ رہنا، نور میں قائم ہونا۔
عشق اور وحدت کی انتہاجب دل میں وحدت کا شعور آتا ہے، تو محبت، سکون اور قربت کی لہر چھا جاتی ہے۔میں ‘فانی جسم، باقی رہنے والی روح تم ‘ اسی جوہر کی دوسری جھلک حقیقت میں سب ایک ہی نور ہیں۔رومی نصیحت کرتے ہیں: اس سے پہلے کہ تمہیں موت آ جائے یعنی نفس کی موت اختیار کرو تاکہ روح حقیقی زندگی پا لے۔
دل کی بیداری اور ایمان کی روشنی‘جب انسان فنا و بقا کا راز پالیتا ہے تو اس کے دل میں نور اترتا ہے اور وہ صدق دل سے کہتا ہے:یہی لمحہ ہے جب میں اور تم کا پردہ اٹھ جاتا ہے، اور صرف اللہ کی حضوری باقی رہتی ہے۔
خلاصہ: معرفتِ نفس سے معرفتِ خدا تک‘ اپنی حقیقت پہچانو‘دوسروں میں اللہ کا جلوہ دیکھو ’’ انا‘‘ کا حجاب گرا دو‘جب یہ حجاب ٹوٹ جاتا ہے تو میں اور تم مٹ جاتے ہیں، صرف وہ باقی رہتا ہے:اللہ، نور، عشق اور حق‘ اس کے سوا کوئی ازلی و ابدی حقیقت نہیں۔