(گزشتہ سے پیوستہ)
غزہ کی تباہ شدہ گلیوں سے اٹھنے والادھواں ابھی مکمل طورپرچھٹانہیں،لیکن دنیاکے سیاسی افق پرایک نئی روشنی کی کرن ضرورپھوٹی ہے۔ فرانس، اسپین، آئرلینڈ،ناروے اوردیگر یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کوباضابطہ ریاست تسلیم کیے جانے کا اعلان، بلاشبہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔برسوں سے عالمی برادری جس اسرائیلی بیانیے کے سائے میں خاموش کھڑی تھی،اب اس کے قدم ڈگمگانے لگے ہیں۔عالمی سیاست میں ایک غیرمتوقع اورانقلابی موڑصرف ایک علامتی اشارہ نہیں بلکہ اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف ایک سفارتی بغاوت ہے۔اسی تناظرمیں یورپی ممالک کاحالیہ اقدام محض علامتی اعلان نہیں بلکہ ایک سفارتی انقلاب ہے۔فرانس جیسے ملک کا فلسطین کو تسلیم کرنا،اسرائیل کے دیرینہ اتحادیوں میں دراڑکی علامت ہے۔یہ اقدام دنیاکویہ پیغام دے رہاہے کہ فلسطینی قوم کی آوازکومزید دبایانہیں جاسکتا۔
فرانس جیسے ملک کی جانب سے فلسطین کوتسلیم کیاجاناغیرمعمولی بات اس لیے بھی ہے کہ یہ ملک طویل عرصے سے امریکا اوراسرائیل کے ساتھ توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتاآیاہے ۔ اب جبکہ اسرائیل نے غزہ میں 2024ء کی جنگ میں بے تحاشاانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں اورعالمی ضمیرکوجھنجھوڑکررکھ دیا،تویہ ممکن نہ رہاکہ یورپ اس ظلم پرخاموش رہے ۔ برازیل، جنوبی افریقا، انڈونیشیا ، ترکی(عالمی جنوبی ممالک کا اتحاد ) اوردیگرترقی پذیرممالک فلسطین کے کھلے حامی بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان ممالک نے اقوام متحدہ اوردیگر عالمی فورمز پرفلسطینی مؤقف کی حمایت میں نمایاں کردار اداکیا ہے۔امریکاکی کمزورخارجہ پالیسی اورداخلی کشمکش، سیاسی تقسیم اورعالمی قیادت میں فقدان نے یورپ کو مجبور کیاکہ وہ خودفیصلہ کرے۔اب یورپ امریکا کے بغیربھی سفارتی فیصلے لینے لگاہے،اورفلسطین کی تسلیمیت اسی رجحان کی علامت ہے۔
فلسطین کوتسلیم کرنے والے ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست نے اسرائیل کوسفارتی محاذپرتنہاکرنا شروع کردیاہے۔اسرائیلی حکومت اس وقت شدید سفارتی بحران اوریورپی دباؤ کا شکارہے اور اندرون ملک بھی مخالفت کاسامناہے۔ایک عرصے سے مردہ سمجھے جانے والے’’دوریاستی حل‘‘کونئی زندگی ملی ہے۔اب فلسطین کوایک جائزریاست کے طورپرتسلیم کیا جارہاہے،جس سے امن مذاکرات کے امکانات پھرسے پیداہوئے ہیں جس کے بعددوریاستی حل کی بحالی کامطالبہ زورپکڑگیاہے۔
یہ اقدام اس بات کاثبوت ہیں کہ اسرائیل کے حالیہ ظلم وستم پرامریکی سرپرستی کومسلسل دیکھتے ہوئے امریکااوریورپ میں اختلافات ایوانوں سے نکل کرعالمی میڈیاکی زینت بننا شروع ہوگئے ہیں کہ یورپ اب امریکاکی پیروی نہیں کررہا۔یورپ کی آزاد خارجہ پالیسی کایہ قدم مغربی دنیاکی صف بندی کونئے سرے سے تشکیل دے رہاہے۔جب دنیا کی بڑی طاقتیں فلسطین کوریاست ماننے لگیں توفلسطینی عوام کوایک نئی اخلاقی طاقت اورفلسطینی مزاحمت کواخلاقی جوازمیسرآ جاتا ہے۔ گویایہ بات اس امرکاثبوت ہے کہ ان کی جدوجہداب
صرف مزاحمت نہیں بلکہ آزادی کی منظم اور قانونی تحریک بنتی جارہی ہے۔یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ بین الاقوامی ضمیربیدارہوچکاہے۔فلسطینیوں کے ساتھ سات عشروں سے روا رکھا جانے والاظلم، عالمی طاقتوں کے لئے اب دفاع کرناممکن نہیں رہا۔ایک نئی عالمی صف بندی کاآغازہوگیاہے۔ اگریہ رفتارجاری رہی توآئندہ چندبرسوں میں فلسطینی ریاست اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرسکتی ہے۔
اب اسرائیل کوانتخاب کرناہوگایاتووہ دوریاستی حل قبول کرے،یاایک مشترکہ ریاست کے اصولوں کومانے جہاں برابری کے ساتھ فلسطینیوں کومکمل حقوق دیے جائیں۔اگرایسانہ ہواتویورپی ممالک کی جانب سے یہ سفارتی بغاوت ایک بڑی عالمی تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے،جیسی ماضی میں جنوبی افریقاکے خلاف دیکھی گئی تھی۔اسرائیلی حکومت،خصوصاً نیتن یاہوکی قیادت، اس یورپی اقدام کودہشتگردوں کی فتح قراردے رہی ہے مگرخوداسرائیل کے اندر بھی اختلاف کی آوازیں بلندہورہی ہیں۔سابق اسرائیلی سفیروں، دانشوروں اور فوجی افسران کی طرف سے تنقیدکاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ نئی نسل کی اسرائیلی یہودی آبادی کاسوال بھی زورپکڑرہاہے کہ کیاہم واقعی برابری پریقین رکھتے ہیں یابرتری پر؟
ادھرامریکاکی صورتحال قابلِ توجہ ہے۔ایک طرف وہ اسرائیل کے تحفظ کی یقین دہانی کرواتا ہے، دوسری طرف اب اسے اپنے یورپی اتحادیوں کی نئی خودمختارپالیسیوں کاسامنا ہے ۔واشنگٹن کی سفارتی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے۔ایک طرف وہ خلیجی ممالک پرزوردے رہاہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات معمول پرلائیں، دوسری طرف اس کے پرانے اتحادی فلسطین کوتسلیم کرکے اسرائیلی مقف سے بغاوت کررہے ہیں۔
ادھردوسری طرف ٹرمپ کے دامادجیرالڈکشنز ایک نئے ’’لارنس آف عریبیا‘‘ کاکرداراداکرتے ہوئے 2020ء میں امریکاکی زیرِ سرپرستی معاہدہ ابراہیمی تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا،جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین،مراکش اورسوڈان نے اسرائیل کوباقاعدہ طورپرتسلیم کرلیا۔اس معاہدے کوامریکاکی ایک سفارتی فتح او راسرائیل کو ’’نارملائز‘‘ کرنے کی کوشش کے طورپرپیش کیا گیا، اس وقت اسے امن،ترقی اورمشرق وسطیٰ میں استحکام کی ایک نئی صبح قراردیاگیالیکن یہی معاہدہ فلسطینی عوام کے زخموں پرنمک چھڑکنے کے مترادف بھی ثابت ہوا،کیونکہ ان کی ریاستی حیثیت کومسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا۔ تاہم اس ابراہیم اکارڈمیں امریکی مقاصدکسی سے چھپے ہوئے نہیں کہ وہ اس خطے میں ایران کو علاقائی طورپرتنہاکرنا،اسرائیل کوعرب ممالک کے قریب لا کر خطے میں اتحادی بلاک تشکیل دینا،امریکی اسلحہ صنعت اوردفاعی معاہدوں کوفروغ دینااور فلسطینی مسئلے کونظر انداز کرکے اسرائیل کی سیاسی برتری کوتسلیم کراناچاہتاہے تاکہ مستقبل کے گریٹراسرائیل کی راہ ہموارکی جاسکے۔
مگر2024ء کی غزہ جنگ نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔سینکڑوں بچوں کی لاشیں،مسمارشدہ ہسپتال،ٹوٹے ہوئے خواب اور بربادبستیوں کی تصاویر دنیا بھر میں وائرل ہوئیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے پہلی بارکھل کراسرائیل کونسل پرست ریاست قرار دینا شروع کیا۔اقوامِ متحدہ کی متعددقراردادوں،عالمی عدالت انصاف کے فتووں اورصحافیوں کی رپورٹس نے ثابت کیاکہ اسرائیلی پالیسیوں میں واضح نسل پرستی،جبری قبضہ اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔اس پر مستزادٹرمپ کامطالبہ کہ غزہ کومکمل طورپر امریکا کے حوالے کردیاجائے اوروہ عالمی سیاحت کے لئے ایک ماڈل شہرتعمیر کرناچاہتاہے اورشنیدیہ بھی ہے کہ اس پراجیکٹ میں کئی کمپنیوں کویہاں پرجدیدسہولتوں کے ساتھ ہوٹل اور دیگر سیاحتی مقامات بنانے کاعندیہ بھی دے دیاگیاتھااوراس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ حکم بھی جاری کردیاتھاکہ یہاں پربسنے والے تمام باشندوں کو عرب پڑوسی ممالک اپنے ہاں بسانے کابندوبست کریں۔
2023ء سے لے کر اب تک کی تباہ کن جنگوں کے بعد،فلسطینی مزاحمت نے ایک نئی جہت اختیار کی ہے۔دنیاکی نظریں غزہ پرجمی ہوئی ہیں۔اسرائیل اب زیادہ دیرتک نسل پرستی اورجبر کے ساتھ دنیاکے سامنے کھڑانہیں رہ سکتا۔عالمی سطح پراسرائیل کے خلاف بائیکاٹ تحریک،تنقیداورنفرت میں اضافہ ہواہے۔ آج،فلسطینیوں کی جدوجہدکوجنوبی افریقاکی تاریخی تحریک سے جوڑاجارہاہے۔ اورجس طرح جنوبی افریقا میں نسلی امتیازکاقلع قمع ہواتھا،ویساہی انجام اسرائیل میں رائج ناانصافیوں کابھی مقدربن سکتاہے۔
یقیناامریکامیں یورپی ممالک کے اس فیصلے کے ردعمل میں یہودی لابیوں کاموجودہ امریکی حکومت پرمزیددبابڑھ جائے گااور یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طورپر خاموش سفارتی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان فیصلوں پرنرم اختلاف کیا،مگرکھلے عام مخالفت سے گریزکیاتاکہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کونقصان نہ پہنچے۔
تاہم امریکایورپ پرغیررسمی دباکے لئے نیٹو، جی سیون اورتجارتی پلیٹ فارمزکے ذریعے دبائوڈال سکتاہے کہ وہ اپنے مؤقف میں نرمی لائیں۔
اقوام متحدہ میں اگرفلسطینی ریاست کومکمل رکنیت دینے کی کوشش ہو،توامریکافلسطینی ریاست کی رکنیت کی مزاحمت کے لئے ویٹوپاوراستعمال کرسکتاہے (جیسا وہ 2011ء میں کرچکا ہے)۔
(جاری ہے)